قرنطینہ پیکجز کیا ہوں گے؟ –




کویت سٹی: ڈی جی سی اے کو مختلف کمپنیوں کی طرف سے قرنطینہ کے لیے پیکج آفرز موصول ہونے لگے۔

تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل سول ایوی ایشن کو حال ہی میں ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں سمیت قرنطین خدمات فراہم کرنے میں مہارت رکھنے والی کمپنیوں کی جانب سے پیکج آفرز موصول ہوئی ہیں تاہم سول ایوی ایشن نے یہ آفرز مہنگی ہونے کی وجہ سے تاحال قبول نہیں کیں۔

رپورٹس کے مطابق ڈی جی سی اے نے قرنطینہ مراکز کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر دیا تھا، اس سلسلے میں جمعرات کو وزرا کونسل کے اجلاس میں 34 ممالک پر عائد پابندی کے خاتمے کی تجویز پر غور کیا گیا، ڈی جی سی اے نے اجلاس میں قرنطینہ مراکز کی مینٹی نینس کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کیا۔

ڈی جی سی اے نے کابینہ سے ان مراکز کے انتظام میں حصہ لینے کی درخواست بھی کی، بتایا گیا ہے کہ سول ایوی ایشن کی ذمہ داریاں ایئرپورٹس کو چلانے اور طیاروں کی فراہمی کے لیے مختص ہیں۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ کویت اور پابندی والے ممالک کے درمیان پروازوں کے دوبارہ آغاز سے متعلق ڈی جی کی تجویز پر وزرا کونسل نے رضامندی ظاہر کی ہے۔

کویت: پھنسے ہوئے تارکین کے لیے اچھی خبر

بتایا جا رہا ہے کہ پروازوں کی بحالی کے سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، قومی ایئرلائنز بھی طیاروں میں کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے پوری طرح تیار ہیں، طیاروں کی آمد پر سخت چیکنگ اور قرنطینہ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

فی الوقت قرنطینہ مراکز کے سلسلے میں فیصلہ کیا جانا ہے، جس کے انتظام سے سول ایوی ایشن نے معذرت کر لی ہے، جب کہ مختلف کمپنیوں کی جانب سے اس کے لیے پیکج آفرز موصول ہو رہی ہیں، تاہم یہ پیش کشیں مہنگی ہیں، ان میں 14 دن کے قرنطینے کے لیے فی فرد 600 دینار سے 700 دینار تک کی لاگت رکھی گئی ہے۔

اس پیکج میں فلائٹ ٹکٹ، پی سی آر ٹیسٹ، رہائش اور دن میں تین وقت کا کھانا شامل ہے، دوسری طرف کچھ ہم سایہ ممالک نے 300 سے 350 کویتی دینار والے پیکج آفر کیے ہیں۔

اس پس منظر میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے نئی اور کم قیمتوں کے ساتھ پیکج آفرز کیے جائیں گے، تاہم اس سلسلے میں کسی مناسب فیصلے اور تعین کے طریقہ کار کا انحصار وزرا کونسل پر ہے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں