نظریہ ارتقا پیش کرنے والے چارلس ڈارون کے ہاتھ سے لکھی کتابیں چوری –




برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی لائبریری نے اعلان کیا ہے کہ نظریہ ارتقا پیش کرنے والے معروف ماہر حیاتیات چارلس ڈارون کی 2 کتابیں گزشتہ 20 برس سے گمشدہ ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق چوری ہونے والی کتابیں ڈارون کے مشہور زمانہ نظریہ ارتقا سے متعلق ان کے اہم خیالات اور ان کے معروف ٹری آف لائف کے خاکوں پر مشتمل تھیں۔

ڈارون نے سنہ 1837 میں ایک سفر سے واپس آنے کے بعد چمڑے کی یہ نوٹ بکس لکھی تھیں۔

کیمبرج یونیورسٹی کی لائبریری کے مطابق ان کتابوں کی مالیت لاکھوں پاؤنڈز تھی، قوی امکان ہے کہ یہ چوری ہوچکی ہیں۔

لائبریری انتظامیہ کے مطابق ان نوٹ بکس کو نومبر سنہ 2000 میں فوٹوگرافی کے لیے اسپیشل مینو اسکرپٹس اسٹور روم سے باہر منتقل کیا گیا۔ تصاویر کھینچنے کے لیے ان کتابوں کو اسی عمارت میں ایک عارضی اسٹوڈیو میں لے جایا گیا جہاں تعمیراتی کام جاری تھا۔

اس کے 2 ماہ بعد جب کتابوں کی ایک روٹین کی چیکنگ ہوئی تب انکشاف ہوا کہ یہ قیمتی نوٹ بکس غائب ہیں۔

لائبریرین ڈاکٹر جیسیکا گارڈنر کا کہنا ہے کہ ہم قطعی طور پر لاعلم ہیں کہ ان 2 ماہ میں یہ کتابیں کس طرح غائب ہوئیں، یقینی طور پر انہیں درست انداز میں حفاظت سے نہیں رکھا گیا جس کے باعث یہ افسوسناک صورتحال پیش آئی۔

اس سے قبل رواں برس لائبریری میں بڑے پیمانے پر تلاشی کی گئی تاہم منتظمین گمشدہ کتابیں ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔

مذکورہ عمارت میں تقریباً ایک کروڑ کتابیں، نقشے اور مسودے شامل ہیں اور اس میں دنیا کی اہم ترین ڈارون آرکائیوز بھی شامل ہے۔

لائبریری کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مقامی پولیس کو آگاہ کردیا گیا ہے جبکہ کتابوں کو چوری شدہ آرٹ ورکس سے متعلق انٹرپول کے ڈیٹا بیس میں بھی شامل کردیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں لوگوں سے بھی اس کی تلاش میں مدد کی اپیل کی گئی ہے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں