تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں – اسماء اشفاق




اقبال نے جو خواب دکھائے ۔۔۔۔۔۔۔ امت کے نوجوانوں کو اس کی اونچائی بہت بلند رکھنے کی تاکید کی کہ نوجوان مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ کہیں نوجوانوں کو یوں مخاطب کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جوانوں کو پیروں کا استاد کہہ کر ۔۔۔۔۔۔۔ تو کہیں یوں مخاطب ہوئے.

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

مگر ہمارا میڈیا جو سبق نوجوانوں کو پڑھا رہا ہے, اس میں نہایت اور فضول قسم کے گیم شامل ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ جس میں محض وقت کا ضیاء ہی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ صنفِ نازک کے ساتھ وہ خلط ملط ہورہا کہ نہ لباس کا فرق رہا نہ حسین اداؤوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ جس چال، لباس، دوپٹہ اور آواز کے جادو صنفِ نازک کا وہ قیمتی سرمایہ ہیں جو مخالف جنس سے جدا کردیتی یے ۔ اب تو لڑکیوں کی حیا کو ایسا ختم کیا جارہا یے کہ مردو زن کا فرق باقی نہ ریے۔ غیر لڑکوں کے ساتھ ایسے مقابلہ کہ چھ سات سال کے بچے بھی اپنے گلی محلوں، خاندان اور گھر میں اس طرح بے تکلف ہوتے شرماتے ہوں مگر یہ میڈیا جو ہمیں اپنی آزادی چھین کر مغربی یلغار میں جکڑ دینے کا منصوبہ لیے ہوئے ہماری نوجوان نسل کو بے راہ روی کی دلدل میں گرانے کا خواہ ہے ۔

سو اپنے تئیں, ہر طرف جال بچھے ہیں۔ چند سو کی بائیکوں کے حصول کے بہانے غیر محرم لڑکیوں، ماؤوں، بہنوں کو بلاتکلف گراؤنڈ کے چکر دینا کہاں کا انصاف ہے ؟؟؟؟ بچپن سے دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسروں کی ماؤں بہنوں کو وہ عزت دیتے ہوئے کہ راستہ میں آمنا سامنا ہو جائے تو احترام سے خود سائڈ میں ہوکر راستہ دیتے ہیں سفر اور گاڑیوں میں بھی ایسے مناظر نظروں سے گزرتے ہیں کہ خواتین کو پہلے جگہ دینا رش کی جگہ ہو، لائن لگی ہو، بل وغیرہ کی ادائیگی میں تو خواتین کو سہولت فراہم کرکے خد مشقت برداشت کرنا۔۔۔۔۔۔۔ یہ صنف نازک کا احترام ہماری روایات و اقدار ہیں ۔

یہی ہماری بنیادیں ہیں جنہیں مغرب زدہ میڈیا کھوکھلا کرنے کہ درپے ہے۔ میڈیا پہ بات ہے تو یہ بھی عرض ہوجائے سنتے تھے کہ کوکا کولا ڈرنک میں دکھتا جس بے ڈھنگے اور نیم ہوش انداز میں اس میں بوائے ڈانس دکھایا گیا یے اس نے اب شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔ جو عام ڈانس اشتہارات میں ہے اس میں اور کوکا کولا اشتہار کے ڈانس کو دیکھ کر ہی لگ رہا کتنی اچھی چیزیں شامل کی گئی ہونگی اقبال ہی نے کیا خوب کہا,

پرواز ہے دونوں کی آسمانوں میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

اپنا تبصرہ بھیجیں