امریکی عوام خیراتی اداروں اور مفت کھانے کے محتاج ہوگئے –




واشنگٹن: کرونا وائرس نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ایسے میں بڑی بڑی معیشتیں بھی اس سے خاصا متاثر ہوئی ہیں، امریکا میں بھی بھوک اور بے روزگاری میں شدید اضافہ ہوگیا ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ملک میں حکومت اور مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے مفت راشن پیکجز اور فوڈ پیکٹس تقسیم کیے جارہے ہیں جنہیں لینے کے لیے لوگوں کی لمبی قطاریں دکھائی دیتی ہیں۔

ایسی ہی ایک تنظیم فیڈنگ امریکا کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں برس 5 کروڑ سے زائد امریکی بھوک کے خطرے کا شکار ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کے آغاز کے بعد سے صرف 2 ماہ کے اندر ملک بھر میں 3 کروڑ 60 لاکھ افراد بے روزگارہوچکے تھے۔ اس وقت امریکا میں لاکھوں گھرانے خیراتی اداروں کی جانب سے ملنے والی امداد پر اپنا گھر چلا رہے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ٹیکسس میں روزانہ 10 ہزار افراد خوارک تقسیم کرنے والے فوڈ بینکس کے باہر قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔ فلوریڈا میں ان فوڈ بینکوں سے خوراک کے حصول کے لگنے والی گاڑیوں کی قطاریں کئی میل طویل ہو جاتی ہیں۔

فیڈنگ ساؤتھ فلوریڈا نامی تنظیم کو اپنے وسائل کی طلب میں 600 فیصد اضافے کا سامنا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پورے امریکا میں 200 کے قریب فوڈ بینک کام کرتے ہیں جو ہر برس 4.3 ارب ڈالرز کا کھانا فراہم کرتے ہیں۔

ریاست پنسلوینا کے جنوبی مغربی علاقے میں 11 کاؤنٹیز میں کام کرنے والے خیراتی ادارے گیرٹر پٹس برگ کمیونٹی فوڈ بینک کے اہلکار برائن گولش کا کہنا ہے کہ ہمارے فوڈ بینک میں امدادی خوراک حاصل کرنے کے لیے آنے والوں کی تعداد میں 500 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ مارچ اور اپریل کے 2 ماہ کے دوران عام حالات میں 5 سے 6 لاکھ ڈالرز خوراک کی تقسیم پر خرچ کرتے تھے لیکن اس برس مارچ اور اپریل میں انہوں نے 17 لاکھ ڈالرز خرچ کیے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا اس وقت کرونا وائرس سے متاثر ترین ملک ہے جہاں کوویڈ 19 کے مجموعی کیسز کی تعداد 1 کروڑ 36 لاکھ سے زائد ہوچکی ہے جبکہ 2 لاکھ 72 ہزار اموات ہوچکی ہیں۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں