وقت گزر رہا ہے – سماویہ وحید




کہاں ہے کوئی ہوئی امت؟؟؟ کہاں ہے مسیح؟؟ کہا ہے کلمہ گو؟؟ کہاں ہے مسلماں؟؟ کہاں ہیں اسلام کے رکھوالے؟؟ کہاں ہیں اسلام کی آبرو؟؟ کہاں ہے اسلام کے سائے میں جینے والے؟؟ کھو گئی امت, کھو گئے کلمہ گو, کھو گئے اسلام کی حرمت پر کٹ مرنے والے, کھو گئے نبی صہ کے عاشق…..

اٹھو بیدار ہو مسلمانوں, اٹھو بیدار ہو عاشق نبی صہ, آؤ اسلام کے سائے میں , آؤ قرآن کے سائے میں , تھام لو قرآن, تھام لو نبی صہ کی سنت, وقت گزر رہا ہے, کافر غالب آ رہے ہیں, آؤ اپنی کھوئی ہوئی آبرو بچاؤ, آؤ اسلام کے سائے میں کٹ مرو, کافروں کے سینوں میں تلوار گھاڑ دو, آؤ دین کی بقا کی خاطر, یکجا ہو جاؤ , وقت گزر رہا ہے, دجال کا ظہور ہونے والا ہے, آؤ دین کو نافذ کرتے چلو, آؤ چاند اور سورج کو یکجا کرلو , آؤ ایک طاقت بن جاؤ کیونکہ وقت گزر رہا ہے…..وقت گزر رہا ہے. ہم خوابِ غفلت میں پڑے ہیں….. کافر تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور ہم مفاد مفاد کھیل رہے ہیں….. کافر مسلمانوں پر قبضہ کر رہے ہیں اور ہم سوئے ہوئے ہیں….. وقت گزر رہا ہے کشمیر ہاتھوں سے نکل رہا ہے, برما نیست و نابود ہو رہا ہے, فلسطین میں انسانیت کا جنازہ نکل رہا ہے, عراق جل رہا ہے……

مسلمانوں کی بربادی کا سماں ہے….. نسل کشی کی جارہی ہے, تاکہ کوئی امام مہدی نہ پیدا ہو جائے, تاکہ کوئی جھوٹے خداؤں کا جنازہ نکال دے……وقت گزر رہا ہے ہے, بیدار ہونے کا وقت ہے, ایک شجر کے سائے میں جینے کا وقت ہے, آؤ عہد کرتے چلو اسلام کے سائے میں اب کٹ مریں گئے, اینٹ سے اینٹ بجا دینگے, کافروں کو صفِ ہستی سے مٹا دیں گے, اسلام کا پرچم لہرائیں گے, دنیا کو اپنے دین کی طاقت دکھائیں گے, آؤ رب کے آگے سجدہ کرتے چلو اے رب ہماری نسل کی حفاظت فرما, اسلام کے سائے میں رہنے کی توفیق عطا فرما, اے ربِ کائنات تیرے دین کو غالب کرنے میں ہماری مدد فرما. (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں