Jenin movie banned in israel







اسرائیلی لوڈ ڈسٹرکٹ کورٹ نے فسلطین کے شہر جینن میں 2002 میں اسرائیلی حکومت کی وحشیانہ مہم پر مبنی دستاویزی فلم ‘جینن جینن’ کی نمائش پر پابندی عائد کردی۔

فلم میں اسرائیلی اہلکار کی بزگ فلسطینی شہری سے چھینا جھپٹی دکھائے جانے پر اسرائیلی عدالت نے فلم پر پابندی عائد کردی۔ جج نے کہا کہ اسرائیلی فوجی نسیم میگناجی کو اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ وہ ایسے کسی جرم کا مرتکب نہیں ہوا ہے جیسا فلم میں دکھایا گیا ہے۔

عدالت نے فلم کے ڈائریکٹر محمد بقری کو حکم دیا کہ وہ مگناجی کو 175،000 شیکلز (اسرائیلی کرنسی) ہرجانہ ادا کرے۔ اپنے فیصلے میں جج حلیت سلیش کا مزید کہنا تھا کہ ویڈیو میں جو دکھایا گیا وہ غلط ہے۔

اسرائیلی شہریت کے حامل فلسطینی بقری نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ عدالت کا یہ فیصلہ غیر منصفانہ ہے اور جج نے “اوپر سے دی گئیں ہدایات” پر عمل کیا ہے۔

بقری نے واللہ نیوز ویب سائٹ کو بھی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں اس فیصلے پر اپیل کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ غیر منصفانہ ہے اور سچائی کو ثابت کرنے کی میری کوشش میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔





اپنا تبصرہ بھیجیں