"میرا جرم یہ ہے کہ میں غریب ہوں"




تحریر: اسریٰ غوری

وہ میرے ساتھ بیٹھتے ہوئے جھجھک رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا واقعی جو اس نے سنا میں نے وہی کہا ہے یا اسے اپنی سماعتوں کے درست ہونے پر شک ہونے لگا تھا ۔۔۔ میں اسکی کیفیت کو سمجھ چکی تھی یہ کوئی پہلی بار نہیں تھا ہر بار ہی جب کہیں نئی جگہ جاتے اور ماسی رکھنے کا مرحلہ آتا تو ایسا ہی سین ہوتا ۔۔۔ اب بھی ہم نئے شہر کے نئے گھر میں نئے تھے کسی سے کہلوا کر ماسی بلوائی تھی اور اب وہ آئی تو زمین پر بیٹھنے لگی تھی کہ میں نے اسے روک دیا اور کہا “یہاں میرے ساتھ بیڈ پر بیٹھو ”
بس یہی وہ جملہ تھا جس سے اسے اپنی حس سماعت میں خرابی کا شک ہونے لگا
وہ زمین پر بیٹھتے بیٹھتے رک تو گئی تھی مگر ابھی تک میرے پاس نہیں بیٹھی تھی ۔۔۔
میں جانتی تھی وہ بچبن سے ہی گھروں میں کام کرتی ہوگی اور اسے کسی افسر کی بیگم سے ایسے جملے کی توقع بھی نہیں ہوگی ۔۔۔
خیر میں نے اسے اس گومگو کی کیفیت سے نکالا اور کہا بیٹھو میرے پاس اور بتاو کیا کچھ کام کروگی کتنے وقت کے لیئے آوگی اور تنخواہ کیا لوگی ۔۔۔ خیر وہ بیچاری حیران حیران سے بیٹھی اور اک اک کرکے سوالوں کے جواب دینے لگی ۔۔
طے پاگیا اسے رکھ لیا گیا کام سے فارغ ہوکر آئی تو بولی باجی میرا گلاس بتادیں کہاں رکھا ہے مجھے پانی پینا ہے میں نے کہا کچن میں جاو اور جتنے گلاس رکھے وہ سب تمہارے ہیں جو چاہو نکالو اور پی لو ۔۔۔۔ ایک بار اور اسے شاک لگا کہ اس نے کیا سنا ۔۔۔ خیر وہ دھیرے سے جیسے شرمندہ سی بولی باجی میں نے بتایا تو تھا کہ میں “عیسائی ” ہوں ۔۔۔ میں مسکرائی اور جواب دیا ” تو کیا عیسائی انسان نہیں ہوتے ؟؟؟
اور ہمارے نبی ﷺ تو مشرکوں تک کیساتھ کھانا پینا اور انکی دعوتوں کا اہتمام کیا کرتے تھے تم تو پھر اہل کتاب ہو اسے اب تک یقین نہیں تھا بولی باجی پھر بھی آپ میرا ایک گلاس الگ کردیں ۔۔۔ میں نے کہا میں نے کبھی نہیں کیا انسان تو سب برابر ہوتے ہیں نا ایسے تفریق اللہ کو نہیں پسند ۔۔۔ خیر ایسے واقعات اکثر ہوتے ۔۔۔اسی طرح ارسل بس دو سال کا تھا اور ارقم چار ماہ کا دونوں کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتا جبکہ سیدھے ہاتھ کی کلائی کے آپریشن کی وجہ سے چھوٹو کو گود میں اٹھانا انتہائی تکلیف کا باعث ہوتا سو ہر اک سے کسی بچی کو رکھنے کی تجاویز ملتیں اب سوچا کہ رکھ لی جائے ایک بارہ سال کی بچی کو رکھا ۔۔۔ یہاں بھی وہی سلسلہ بچی کسی اور گھر میں بھی رہ کر آئی تھی سو ہر چیز کو ہاتھ لگانے سے پہلے پوچھتی کھانے کیلے برتن مانگی سونے کیلیے بستر الگ ۔۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ ہم سب دستر خوان پر ساتھ کھانا کھاتے کوئی مہمان آجاتا تو بڑا حیرانی اور کچھ ناگواری سے بس دیکھ کر رہ جاتے چند اک نے ہلکے انداز میں کہا بھی اسے بچے کو پکڑا دو ہم کھالیں تو وہ بھی کھالے گی ۔۔۔
ایسی سوچ پر ہی لعنت کرنے کو جی چاہے وہ معصوم بچی بیٹھی دیکھتی رہے اور سب کھالیں تو وہ کھائے کیوں بھئی اسکا کیا قصور کہ وہ ایسے کسی گھر میں پیدا نہین ہوئی ۔۔۔۔
کچھ ایسے بھی تجربے ہوئے کہ ہم کریک کلب گئے وہاں سرونٹ نہیں الاو ہم سے کہا بچی کو باہر چھوڑ جائیں واپسی میں لے جائیں ۔۔
اللہ کی پناہ ایسی درجہ بندیاں انسانوں کی بنائی بستیوں میں ۔۔!! ہم گیٹ سے ہی لوٹ آئے اور جب تک وہ بچی رکھی دوبارہ نہیں گئے ۔
اللہ ہم پر رحم فرمائے کہ ہم نےااللہ کی نمائی مخلوق میں اتنی تفریق کردی ہے کہ ہم انہیں انسان ہی نہیں سمجھنا چاہتے کیونکہ۔۔
ایس بچیوں کا جرم صرف یہ ہوتاہیے کہ وہ کسی بڑے باپ کی اولاد نہیں
اس کا جرم یہ ہوتاہے کہ وہ کسی بڑے اسپتال کےوی آئی پی روم میں نہیں بلکہ ایک چھونپڑے میں پیداہوئی ،
اس کا قصور یہ ہوتا ہے کہ پیدا ہوتے ہی اسے کسی پنک کلر کے بے بی بیگ میں نہیں بلکہ ماں کے پرانے دوپٹے میں لپیٹا گیا تھا ۔۔
یا اسکا قصور یہ ہوتا ہے کہ بچپن کے وہ سہانے دن اپنے باپ کی بڑی سی گاڑی میں آئیس کریم کھاتے اوراپنی ہم ہجولیوں کے ساتھ رنگ برنگے کپڑے پہنے ہنستے کھیلتے نہیں گزار سکتی
بلکہ کسی آقا کی نوکرانی بن کر ان کے بچے سنبھال رہی ہوتی ہے اور اسکے بدلے میں وہ آقا اسے دووقت کی روٹی کپڑا دیتا ہے ۔۔۔ کہ وہ اس کے بچوں کے ساتھ بیٹھنے ان کے ساتھ کھانے کھئلنے کودنے کے لائق نہیں ۔۔۔۔!!!
ڈرو اسوقت سے جب اللہ اپنے تخلیق کیے حضرت انسان کی اس تذلیل پر غضب ناک ہوجائے
باخدا اس زمانے نے لوگوں کو لمحوں میں عرش سے فرش پر آتے دیکھا ہے ۔۔۔۔
اتنا ہی ظلم کرو جتنا تم خود سہہ سکو ۔۔۔
اسکی لاٹھی بے آواز ہے۔۔۔۔۔
یاد رکھو انسانیت مٹاوگے تو خود بھی مٹ جاوگے ۔۔۔!!

"میرا جرم یہ ہے کہ میں غریب ہوں"” ایک تبصرہ

  1. بہت عمدہ ….. تصویر سے متاثر ھوناالگ بات لیکن کہانی اگر منطقی انجام تک پہچائی جاتی تو اچھاتھا ……

اپنا تبصرہ بھیجیں