"بے فکر ہوکر مرجائیں قبریں تیار ہیں "




تحریر: اسریٰ غوری

دنیا بھر میں ناگہانی آفات آتی رہتی ہیں اور آج کے دور میں انکی پیش گویی ہوجانا بھی کویی انہونی بات نہیں .. مگر دنیا بھر میں ایسی پیشنگوئیوں کے بعد ہنگامی بنیادوں پر اس آفات سے بچنے کی تیاریاں شروع کردی جاتی ہیں اور ہونا بھی یہی چاہیے کہ آپ آفات سے بچاو کی جتنی تدابیر کی جا سکیں کریں کہ ہر جگہ ہی انسان جانوں کا بچانا اولین ترجیح ہوا کرتا ہے …
مگر کیا کیجیے اس ملک خداد کا کہ جہاں ان یہ نوبت آگئی ہے کہ ایسی آفات کی پیشنگویوں کے بعد جن کاموں میں تیزی اور پھرتی دکھایی گئی وہ انتہایی شرمناک اور تکلیف دہ ہیں…
اک ٹی وی چینلز نے یہ خبر دی کہ کراچی میں شدید ہیٹ سٹروک آنے کو ہے
ہونا تو یہ چایئے تو یہ تھا کہ اس کے بچاو کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جاتا
جس مں ابھی سے کے الیکٹرک کو وارننگ دے دی جاتی کہ ان دنوں میں لوڈ شیڈنگ نہ کی جایے
جن علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے وہاں پانی کی فراوانی کو یقینی بنایا جاتا…
ان دنوں میں حکومت عام تعطیل کا اعلان کرنے کی پلاننگ کرتی…
دیھاڑی مزدوروں کے گھروں میں ابھی سے راشن کا انتظام کرنے کی فکر کی جاتی …
اور بڑے بڑے شادی ہالوں کو بک کرلیا جاتا کہ ہنگامی صورتحال میں افراد کو یہاں رکھا جائے گا…
ہسپتالوں میں ایمرجنسی بیڈوں اور ڈاکٹروں اور دواوں کا انتظام کیا جاتا ….
مگر شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہم نے کیا کیا …؟؟؟
جی ہاں سنیئے کہ ہم نے جو کام سب سے پہلے کیا وہ اس سے بچاو کی نہین بلکہ اس سے مر جانے والوں کے لیے قبروں کا انتظام تھا…
یعنی کہ جو لوگ آج زندہ ہیں انکے لیے قبریں کھودی جارہی ہیں …..
کویی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچے کیا آپ کے گھر مین کویی کینسرکی آخری اسٹیچ کا مریض ہو تب بھی کیا آپ آخری لمحے تک امید اور آس لیے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے چکر لگاتے ہیں یا آپ گورکن سے بھاو تاو کرنے کی فکر کرتے ہیں کہ مرنا تو ہے ہی… !!!
اللہ ہمیں ان بیغیرت حکمرانوں سے نجات دے جن کے پیٹ کسی طرح آگ سے نہین بھرتے ” بس وہ کھاو پیو اور نکل لو” پر عمل کرتے ہیں باریاں لگاتے مگر افسوس اس عوام پر کہ یہ عوام پھر انہی کو کاندھوں پر بٹھا کر لے آتی ہے ۔
مجھے یہ کہنے دیجیے کہ یہ قوم نہیں بس اک ہجوم ہے جسے ہانکنے والے بس بدلتے رہتے مگر ہجوم نہیں بدلتا… !!!
کیا اب بھی وقت نہین آیا کہ یہ قوم موت کی نیند سے بیدار ہوجایے کہ آپ کے اعزاز میں آپکے لیے قبروں کا انتظام کرلیا ہے بے فکر ہوکر مرجایے… !!!

6 تبصرے “"بے فکر ہوکر مرجائیں قبریں تیار ہیں "

  1. اسریٰ غوری
    بہت بہت شکریہ… یہ دل خراش تحریر لکھ کر آپ نے حکمران ٹولے کے چہرے سے گھناونا نقاب اتار دیا ہے. جس کو دیکھنا ہو دیکھ لے شریف برادران کا مکروح چہرہ جو عوام کی بھیک کے ووٹوں سے برسراقتدار آکر عوام کے لیئے قبریں کھدوارہی ہے. لعنت ہو ایسی حکمرانی پر.
    نگار خان

  2. محترم بلاگر و مصنف سے میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کیا ایک ہی مضمون کے لیئے ایک سے زائد تبصرے نہین کیئے جا سکتے.؟ اور یہ ماڈریشن کے لیئے اتنا ٹائم کہ چوبیس گھنٹے ہونے کو آرہے ہیں اور میرا مسیج ابھی ماڈریٹ ہونے ہی کے مرحلے میں ہے.! اس سے اظہار رائے کی آزادی کا پتہ چلتا ہے.
    نگار خان

    1. بہت اچھی بہنا سب سے پہلے تو بہت جزاک اللہ کہ آپ نے مضمون پسند کیا ۔۔
      اور پھر آپکے کمنٹ کو تاخیر سے اپرو کرنے پر بہت معذرت کچھ مصروفیت کی بناء پر ایسا ہوا ۔۔

  3. میری اچھی بہن جی
    سلام علیکم
    آپ کا جواب پاکر اطمینان اور خوشی ہوئی اللہ آپ کو اسی جرأت و جزبہ سے محاسبہ کرنے کی ہمت عطا فرمائے.
    نگار خان
    الہ آباد

    1. جزاک اللہ خیرا کثیرا
      اللہ پاک ہمیشہ ہمیں حق اور سچ سمجھنے اور لکھنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں