"نان چور"




کتنی دیر سے وہ تندور کی دوکان کے ساتھ کھڑا تھا کہ ذرا موقع ملے تو اک نان اڑا لے اور پھر یہی ہوا گرم گرم نان اس کے ہاتھ میں تھا
وہ گھر کی جانب دوڑ رہا تھا
ماں نے گرم گرم نان دیکھا ماں جانتی تھی کہ وہ دو دنوں سے بھو کا ہے مگر پھر بھی اس نے پوچھا بتاو کہاں سے لائے ہو وہ کبھی کچھ جواب دیتا
اسے بھوک لگی تھی اور ماں اس سے سوال پر سوال پوچھے جارہی تھی وہ کبھی کچھ جواب دیتا کبھی کچھ ۔۔
پھر ماں نے کہا چوری کر کے لائے ہو نا دیکھو سچ سچ بتادینابیٹا تمہیں کسی نے دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو مگر اوپر اللہ تمہیں دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ ڈر گیا اور اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے اور گردن شرمندگی سے جھکی نان چوری کا اقرار کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ ایک نان کا چور تھا ۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کا وزیراعظم تو نہیں تھا نا ۔۔۔!!

3 تبصرے “"نان چور"

  1. سلام علیکم
    محترمہ اسریٰ غوری صاحبہ
    ماشاء اللہ ایک اور عمدہ تحریر حکرانوں کو اپنی کمیوں اور اپنی زمہ داریوں کا احساس دلانے کے لیئے. آپ کی یا آپ جیسوں کی تحاریر حکمران تو پڑھتے نہیں نہ ان تک یہ فریادیں پہنچتی ہونگی کہ پڑھ کر اثر لیں ان کو تو بس اپنی میعاد کے پورے ہونے سے قبل زیادہ سے زیادہ دولت سویس بینکوں کی تیجوریاں بھرنے میں لگی رہتی ہوگی. عوام کے دکھ درد سے انھیں کیا سروکار چاہے وہ در در کی ٹھوکریں کھایں یا پیٹ کی آگ بجھانے کے لیئے روٹیاں چرائیں اور دھر لیئے جائیں تو اپنی شامت بلوائیں اور جیل کی ہوا کھائیں.
    نازنین خان

  2. سلام علیکم
    محترمہ اسریٰ غوری صاحبہ
    ماشاء اللہ ایک اور عمدہ تحریر حکرانوں کو اپنی کمیوں اور اپنی زمہ داریوں کا احساس دلانے کے لیئے. آپ کی یا آپ جیسوں کی تحاریر حکمران تو پڑھتے نہیں نہ ان تک یہ فریادیں پہنچتی ہونگی کہ پڑھ کر اثر لیں ان کو تو بس اپنی میعاد کے پورے ہونے سے قبل زیادہ سے زیادہ دولت سویس بینکوں کی تیجوریاں بھرنے میں لگی رہتی ہوگی. عوام کے دکھ درد سے انھیں کیا سروکار چاہے وہ در در کی ٹھوکریں کھایں یا پیٹ کی آگ بجھانے کے لیئے روٹیاں چرائیں اور دھر لیئے جائیں تو اپنی شامت بلوائیں اور جیل کی ہوا کھائیں.
    نگار خان

اپنا تبصرہ بھیجیں