Home » نئی دہلی میں بندروں کے ذریعے لوگوں کو لُوٹنے والے دو افراد گرفتار
حالات حاضرہ

نئی دہلی میں بندروں کے ذریعے لوگوں کو لُوٹنے والے دو افراد گرفتار

ہفتہ 10 اپریل 2021 20:40

انڈیا میں 1972 کے قانون کے مطابق لوگ بندروں کو پکڑ نہیں سکتے (فوٹو: انڈین ایکسپریس)

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں بندروں کے ذریعے لوگوں کو لوٹنے والے دو افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ان دو افراد کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب ایک وکیل نے پولیس کو شکایت کی کہ تین آدمی بندروں کو لے کر گھوم رہے تھے اور انہوں نے اسے گھیر کر چھ ہزار روپے لوٹ لیے۔
انڈیا میں حکام کافی عرصے سے بندروں کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کی کوشش میں ہیں جو خوراک کی تلاش میں گھروں کے اندر گھس جاتے ہیں۔
تاہم 1972 کے قانون کے مطابق لوگ بندروں کو پکڑ نہیں سکتے۔

 

پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ’جب وہ شخص ایک آٹو رکشہ میں بیٹھا تو یہ آدمی بھی رکشے میں داخل ہوگئے اور ایک بندر کو اگلی سیٹ پر جبکہ دوسرے کو پیچھے بیٹھنے کو کہا۔‘
’ان لوگوں نے وکیل کے بٹوے میں موجود رقم لُوٹی اور وہاں سے بندروں سمیت فرار ہو گئے۔‘
پولیس کو شک ہوا کہ یہ گروہ اس طرح کی اور وارداتیں بھی کرتے ہوں گے اور پولیس نے انہیں پکڑنے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی۔
اس ٹیم نے جمعرات کو ایک بس سٹاپ پر ان افراد کو بندروں سمیت گرفتار کر لیا۔
تیسرا شخص ابھی گرفتار نہیں ہوا جبکہ بندروں کو جانوروں کی پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
انڈیا میں اکثر گلی محلوں میں پرفارمنس کے لیے تربیت دی جاتی ہے اور وہ اکثر اوقات لوگوں پر حملہ بھی کر دیتے ہیں۔
گذشتہ برس بندروں نے طبی عملے کے ایک رکن سے کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے حاصل کیے گئے نمونے چھین لیے تھے۔

واپس اوپر جائیں