Home » تے لُٹ کے موج بہار ـ ابن فاضل
حالات حاضرہ

تے لُٹ کے موج بہار ـ ابن فاضل

یہ جمعہ کمیونیٹی پابندیوں کی وجہ سے ایک دفتر میں کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر ادا کیا۔
امام کا فرض نبھاتے دوست نے ماہ رمضان کیلیئے پیشگی تیاریوں کے حوالے سے، اپنے خطبہ میں ایک قصہ سنایا:

جرمنی کی مشہور Saturn سپر مارکیٹ کی 150ویں برانچ کے افتتاح پر, سپرمارکیٹ کے ادارے نے اپنے فیس بک پیج پر ایک انعامی مقابلہ ترتیب دیا جس میں 40 ہزار سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔ مقابلہ جیتنے والے شرکاء کو سپر مارکیٹ نے اپنی میونخ برانچ میں “All you can schlepp – Alles oder Nichts“ یعنی [all you can carry – it’s all or nothing]. کے بینر کے ساتھ 150 سیکنڈز میں مارکیٹ سے جو کچھ اٹھا سکتے ہو مفت لیجاؤ کا موقع دینا تھا۔
مطلوبہ وقت پر سپر مارکیٹ میں ایسی ہڑبونگ مچی کہ کچھ شرکاء کیا لیں اور کیا نہیں میں الجھے تو کچھ گرتے پڑتے فضول اور بے مقصد چیزیں اٹھائے پھرتے رہے۔

کچھ بے مقصد چیزیں باہر نکال کر لائے اور پھر واپس جا کر تبدیل کرتے کرتے وقت گزار بیٹھے۔
ایسے میں بیشتر شرکاء 400 یا 500 یا 1000 کا سامان باہر نکال لانے میں کامیاب رہے تو ان میں سے Sebastian نامی ایک ایسا نوجوان بھی تھا جس نے مارکیٹ سے اس محدود وقت میں 29000 یورو کا سامان باہر نکالا۔ یہ ہر بار مارکیٹ سے لیپ ٹاپ، پیڈ، فون اور دیگر سامان ٹرالی میں رکھ کر باہر لاتا، ترتیب سے سامان اتار کر رکھتا اور پھر نئے جذبے کے ساتھ دوبارہ اندر جا کر ٹرالی بھرتا۔
اختتامی وقت سے پہلے اس نے ایک بڑا ریفریجریٹر لاد کر باہر نکالا اور تھکن سے زمین پر گرنے سے پہلے جو لفظ ادا کیا وہ یہ تھا کہ اس کی منصوبہ بندی کامیاب رہی۔

موقع پر موجود ایک ٹیلیویژن نمائندے نے سبیستیان سے پوچھا کہ تم نے کہا ہے تمہاری منصوبہ بندی جیت گئی ہے۔ اس سے تمہاری کیا مراد ہے اور تم نے کیا منصوبہ بندی کی تھی؟
سبستیان کا کہنا تھا کہ اس نے، جس دن سے اس مقابلے کا اعلان ہوا تھا اس سپرمارکیٹ کا بغور مطالعہ کرنا شروع کیا تھا۔ وہ ہر بار یہاں آ کر دیکھتا کہ کس جگہ سے کیا لیکر باہر نکلے، سامان کو باہر ترتیب سے رکھنے، واپس آنے اور دوسری باری کا سامان لیجانے میں کس راستے کا انتخاب کرنے اور کیسے لیجانے میں کتنا وقت لگتا ہے کا باقاعدہ حساب لگایا تھا اور ایک جامع منصوبہ ترتیب دیا تھا۔ اور آج کے دن اس کا بنایا ہوا سارا منصوبہ کامیاب رہا تھا۔

ہمارے منتخب کردہ امام صاحب کا کہنا تھا کہ ہم سب لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ والا رمضان شریف ہماری زندگی کا آخری رمضان بھی ہو سکتا ہے اور سب چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ خیر اکٹھی کریں مگر وقت کو صحیح ترتیب نہ دینے اور اس ترتیب دیئے ہوئے وقت اور وقت کے استعمال پر عمل نہ کرنے سے ہم وہ کچھ نہیں کر پاتے جن کا خیال باندھتے ہیں۔ افطاری زیادہ ہو جاتی ہے اور راتیں تبخیر اور تعذیب میں گزرتی ہیں تو دن کسلمندی اور آوازاری میں گزرتے ہیں۔ دانشمندانہ طریقہ یہی ہوگا کہ ہم کچھ ترتیب ابھی سے بنائیں اور اس پر ویسے ہی عمل کریں جیسے دنیا میں ملے کسی موقع سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلیئے سبیستیان جیسے لوگ منصوبہ بناتے ہیں اور اپنے کام پر مطمئن رہتے ہیں۔