Home » مرحبا یا رمضان مرحبا یا ماہ قرآن- اسماء صدیقہ
حالات حاضرہ

مرحبا یا رمضان مرحبا یا ماہ قرآن- اسماء صدیقہ

نگاھیں اس کو نہیں پاسکتیں وہ نگاھوں کو پالیتا ھے.۔۔
وھی،جو بہت قریب ھے شہ رگ سے بھی اور ھر جگہ ھے جس کی کوئ مثال ھے نہ شریک کوئ
اس کی نگاہ چاروں طرف ھے بیک وقت۔
تنہائ ھو یا محفل، اندھیرا ھو یا اجالا، شب ھو یا روز ۔

حتی کہ دل کے اندر پلنے والے ارادوں اور بھیدوں سے ھم سے زیادہ واقف ۔
ھوشیار کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رھی ھے
والا انتباہ۔ Indication
اس کے آگے کچھ بھی نہیں تو پھر تطہیر تو لازم ٹہری نا دیکھو اللہ جو میرا رب ھے دیکھ رھا ھے۔
جو بندہ ھے تو مزہ بندگی میں پیدا کر
ایک بار پھر وہ گولڈن چانس دے رھا ھے۔
ماہ رحمت وبرکت ھم پہ سایہ فگن ھونے کو ھے کتنے لوگ پچھلے سال ھم میں تھے اب نہیں اور کیا پتہ ھم میں سے کون کون اگلے برس ھوگا بھی یا نہیں۔
تطہیر کاعمل پہلے ھی شروع کردیں ۔
نظر وبصر سمع ونطق سب نعمتوں کو ممکنہ حد تک میڈیا اور سوشل میڈیا سے دور کردیں مشکل ھے مگر وہ نگاہ سب دیکھ رھی ھے۔

ذکر وفکر ساتھ ھوں مگر حضوری قلب کے ساتھ یکسوئی لئے ھوئے اس کے لئے جعلی مدرس فنکاروں سے بچیں یہ دکھلاوے اور دھوکے کی طرف لے جاتے ھیں۔
تطہیر کے بعد ترتیب کی طرف آئیے گھر کے
کاموں اور خریداری سمیٹنے کے ساتھ شرک ،نفاق اور ریاکاری سے دور رھنے کے لئے وقت کا ٹھیک استعمال کریں۔
پہلی وحی کے دلسوز واقعے کو دھرائیے معرکہ
بدر میں فتح مبین کیسے ھوئی ،کیسے نصرت رب آئ فضاے بدر کیسے پیدا ھوئی۔ غور کے ساتھ دھرائیے۔

تاکہ مواسات کا ماحول بنے انفاق کی ترتیب دیکھیں تاکہ ایک صالح اور مقدس ماحول کی تشکیل میں حصہ ڈال سکیں۔ اسی کا فرمان ھے کہ اپنے اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔
تلقین اور درس کے لئے سمع و تلاوت کے لئے گھر والوں کے ساتھ بیٹھک بھی ضروری ھے اور جاسکیں تو محلے والوں کے ساتھ بھی۔
اس سے وہ نگاہ کرم ھم اور آپ پہ پڑےگی قبولیت کی خوشی ملے گی بالکل خالص یاد رکھیں بندگی کا اولین تقاضا خلوص ھے ادھر بھی تو ایک خالص پکار ھے اے بھلائ کے طالب آگے بڑھ۔

اےبرائ کے طالب رک جا کر پہلے ھی ساری تیاری اور خریداری کرتے ھوئے اعتدال کاخیال اور فضول خرچی سے بچنا ساتھ میں مستحق افراد کی دستگیری ھم کو رب سے اور قریب کرتی جاے گی ۔اسی رب نے ھم سے کہا ھے جو لوگ دلوں کی تنگی سے بچالیے گئے وھی فلاح پانے والے ھیں۔
یہ ترتیب ھے ۔
افطاری بناتے ھوئے صحت اور موسم کو لذت پہ مقدم رکھنا سب کے لیے رب کی رضا کا موجب ھوگا ۔
یہ ترتیب ھوئی اب تزئین کی طرف آتے ھیں خشوع وخضوع اور قرب الٰہی کے نور سےدلوں کو منزہ کریں کہ یہ دل تقوی کا مقام ھے اور نیکی کی بنیاد تقوی ھے مومن کادل اللہ کا گھرھے۔

اور اس سنہری مواقع میں جو ماہ مبارک کی صورت میں آ رہا ہے دل کی آرائش پہ زور دینا لازم ھے۔
ضروری ھو گئی اب دل کی زینت
مکیں پہچانے جاتے ھیں مکاں سے
لہذا ان قیمتی اور مبارک ساعتوں میں خرافات کی دھند لذتوں کی بھرمار اور غفلتوں کی پالشوں سے اجتناب کرنا
برانڈ کے مقابلوں میں دیوانہ ھونے سے بچانا ساتھ ھی دکھاوے اور نمائش کی لذتوں سے اجتناب بہت ضروری ھے
اس لئے کہ اللہ سب کو دیکھ رہا ہے اس کی ایک نگاہ لطف ہم کو سب سے عزیز ہے۔

ایک ابر کرم دکھوں کی دھوپ میں سیراب کردے تو کیا بات ھے بیڑا پار ہے سب کا یا مجیب الدعا یا سمیع الدعاء یا عفو یا کریم یا بصیر بالعباد۔
مرحبا یا رمضان مرحبا یا ماہ قرآن۔