Home » ہم نے عمرانی حکومت کی مخالفت کیوں کی ؟ – سبحان احمد نجمی
حالات حاضرہ

ہم نے عمرانی حکومت کی مخالفت کیوں کی ؟ – سبحان احمد نجمی

عمرانی حکومت کے ماورائے آئین اقدامات کی مخالفت ملک دشمنی نہیں بلکہ آئین سے وفاداری ہے۔ جس ملک کے اندر شعور کا قحط پڑا ہو، جس معاشرے میں سوچ و فکر سے عاری لوگ موجود ہوں جو اشخاص کے سحر میں مبتلا ہوکر صحیح اور غلط میں تمیز کرنا بھول جائیں وہ معاشرہ جہاں کسی کے اختلاف کرنے پر اس کو بشمول اس کے پورے خاندان کے گالیوں سے نوازا جاتا ہو، ایسے معاشرے میں کسی غلط اقدام کی مخالفت میں کھڑا ہوجانا اور اس کی حقیقت لوگوں کو بتانا ایک سیاسی کارکن کی ذمہ داری بھی ہے اور حب الوطنی بھی ہے۔

عمرانی حکومت نے اپنے چار سالہ دور میں بہت سے ایسے کام کیے جو ان کے “ریاست مدینہ ثانی” کے دعوے کی مکمل نفی کرتے ہیں۔حکومت کی تمام ناکامیوں اور خامیوں کے باوجود چار سال تک تنقید کے باوجود مجھ سمیت بہت سے لوگ اس موقف پر قائم رہے کہ عمرانی حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے اور سیاسی شہید نہیں ہونے دینا چاہیے تاکہ انتخابات کے موقع پر عوام ان کا خود احتساب کرے۔ حالیہ دنوں پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بھی ہمارا یہی موقف تھا کہ عمران خان اسمبلی کے اندر اپنی اکثریت کھو چکے ہیں تو عزت اسی میں ہے کہ وہ استعفی دیں اور اپنی جگہ اپنی پارٹی کے اندر سے ہی کسی اور کو وزیر اعظم کے لئے نامزد کریں تاکہ جمہوریت قائم رہے اور اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں۔ لیکن بدقسمتی سے شخصیت پرستی، خود پسندی اور آمرانہ سوچ کی وجہ سے ایک غیر ملکی سازش کا ڈرامہ رچا کر ماورائے آئین جاکر تحریک عدم اعتماد کو مسترد کروانا اور پھر اسمبلیوں کا تحلیل کردیا جانا سیدھا سیدھا آئین پاکستان کے ساتھ کھلواڑ اور سیاسی میدان سے راہ فرار کے سوا کچھ نہیں ہے۔

پاکستانی قوم کی سیاست میں عدم دلچسپی کہیں یا اس قوم میں شعور کا فقدان کہ اتنا سب کچھ ہوگیا لیکن ماتھے پر شکن پڑنے کے بجائے، ملکی سالمیت پر فکر مند ہونے کے بجائے عمرانی حکومت کے ماورائے آئین اقدامات کے اوپر جشن فتح منایا جارہا ہے۔ ایسا تاریخ میں شائد پہلی بار ہورہا ہے کہ اپنی ہی حکومت جانے پر افسوس کے بجائے خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں اور اس بات کا ناسمجھ میں آنے والا کریڈٹ لیا جارہا ہے کہ حکومت جاتی ہے تو جائے مگر عمران خان ابھی بھی وزیر اعظم ہیں اور آگے بھی رہیں گے (حالانکہ اس دعوے کا حقیقت سے کوئئ تعلق نہیں ہے)۔ سیاسی میدان سے فرار کو سرپرائز قرار دے کر اس پر جشن فتح منانا ان کی سیاسی نابالغی کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ایسے لوگ قابل نفرت نہیں بلکہ قابل رحم لوگ ہیں جنہیں معاشرے کا ایک نارمل انسان بنانے اور ان میں سیاسی شعور پیدا کرنے کے لیے ابھی بہت محنت کرنا ہوگی۔ پاکستان کا وہ نوجوان طبقہ جو صرف عمران خان کی تقریروں سے متاثر ہوکر اس کی جانب راغب ہے اس کو سوچنا چاہئے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے جتنے دعوے اور وعدے کئے تھے اس میں سے کتنے پر عمل کیا گیا ؟ جب اپنی کارکردگی دکھا کر عوام سے ووٹ مانگنے کے لیے کچھ نہ بچا تو غیر ملکی سازش کا شور برپا کرکے اپنی ناکامی پر پردہ ڈالا جارہا ہے۔

عمران خان کی نااہل حکومت کی چارج شیٹ بہت طویل ہے مگر ان میں سے کچھ نیچے بیان کی جارہی ہیں۔

1) پاکستان کے معاشی حب کراچی سے 14 ممبران قومی اسمبلی کے منتخب ہوجانے کے باوجود، گورنر اور صدر ہونے کے باوجود تحریک انصاف نے کراچی کے تین کروڑ شہریوں کو مایوس کیا ہے۔
کراچی میں کوئی بھی میگا پروجیکٹ شروع نہیں ہوسکا جس سے کراچی کی عوام فائدہ اٹھاتی۔

2) عمران خان کی حکومت نے کوٹہ سسٹم کو ختم کرنے کے بجائے اس کو غیر معینہ مدت تک کے لیے بڑھا کر کراچی کے نوجوانوں کے ساتھ ظلم کیا اور کراچی کے میرٹ کا قتل عام کیا۔
3) 11 سو ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا لیکن اس میں سے ایک پائی بھی کراچی کو نہیں ملی۔

4) کراچی سرکلر ریلوے چلانے کا اعلان ہوا لیکن ابھی تک سرکلر ریلوے کا قیام عمل میں نہیں لایا جاسکا۔ اور نہ ہی گرین لائن منصوبہ تکمیل تک پہنچا۔

5) مختلف جماعتوں کے کرپٹ لوگوں کو پارٹی ٹکٹ دے کر عوام کے اوپر مسلط کیا گیا اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا گیا۔

6) ماضی میں مختلف حکومتوں کا حصہ رہنے والے کرپٹ وفاقی وزرا کو عمران خان نے اپنی حکومت میں بھی اہم وزارتوں پر تعینات کیا اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

7) اقتدار میں آتے ہی قادیانیوں کو بڑے عہدوں پر بٹھانے کی کوشش کرنا۔ ختم نبوت کے انکاریوں کو اپنا معاشی مشیر مقرر کیا۔

8) ہندوستان کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد پاکستان کی شہہ رگ کشمیر کے ہندوستان کا باقاعدہ حصہ بن جانے پر محض زبانی دعوں اور تقریروں سے کشمیریوں کے زخموں پر مزید نمک چھڑکا۔

9) شاتم رسول آسیہ مسیح کو بحفاظت مغرب کے حوالے کیا۔

10) ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو اس خوف سے بے دخل نہیں کیا کہ پاکستان دنیا سے کٹ کر معاشی بدحالی کا شکار ہوجائے گا۔

11) روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے کو روکنے میں ناکام رہے، جس کے باعث معاشرے کا ایک عام فرد تباہ ہوتا گیا۔

12) پیٹرول کی قیمت میں ہر پندرہ دن کے بعد اضافہ اور روز مرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیا۔

13) آئی ایم ایف کے حکم پر اسمبلی کے اندر بغیر کسی بحث و مباحثے کے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے قانون کو جس طرح حکومت نے قومی اسمبلی سے منظور کروایا اور اپوزیشن کو قابو کرکے سینیٹ سے بل پاس کروایا

14) سینیٹ انتخابات میں ممبران کی خرید و فروخت کرکے اپنی مرضی کا کٹھ پتلی چیئرمین سینیٹ منتخب کروایا۔

15) پاکستان میں ٹرانس جینڈر قانون کے ذریعے ہم جنس پرستی کو تحفظ فراہم کرنے میں وفاقی وزیر شیریں مزاری پیش پیش رہی ہیں۔

16) ڈومیسٹک وائلینس بل کے ذریعے مشرقی اقدار کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کی گئی۔

17) ایف اے ٹی ایف کے دباؤ میں آکر مساجد اور مدارس کے خلاف گھیرا تنگ کیا جاتا رہا۔

18) غیر ملکی دباؤ پر بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو سہولت فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کی گئی۔

19) آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر آئی ایم ایف کے ملازم کو اسٹیٹ بینک کا گورنر تعینات کیا گیا

20) سابقہ حکومتوں کے وزرائے خزانہ حفیظ شیخ اور شوکت ترین کو اپنی حکومت میں وزیر خرانہ بنا کر آئی ایم ایف کی خواہشات پر مبنی بجٹ پاس کروائے گئے۔

21) کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے ملکی سالمیت کو داؤ پر لگایا گیا۔

پاکستان کے اندر محض چند خاندانوں، جرنیلوں اور سرمایہ داروں کی بادشاہت چلتی آئی ہے۔ کبھی خود اس قوم پر مسلط ہوجاتے ہیں کبھی اپنے مہرے ہم پر مسلط کردیتے ہیں۔ اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں زرداریوں، شریفوں اور عمرانیوں کے نام پر ان کے کرپٹ لوگوں کو ووٹ دینا ہے جو منتخب ہوکر آپ کو پوچھتے بھی نہیں ہیں یا ملک کی بقا و سلامتی کے لیے سوچ سمجھ کر اپنے اپنے حلقے کے ان دیانت دار نمائندوں کو ووٹ دینا ہے جو ہر مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

فیصلہ آپ کا !

Add Comment

Click here to post a comment