Home » بورڈ اور امتحانات -فرح مصباح
حالات حاضرہ

بورڈ اور امتحانات -فرح مصباح

میرا ایڈمٹ کارڈ نہیں مل رہا بہت پریشان ہوں…. اسی کیفیت سے دوچار ایڈمنسٹریشن سے پوچھا اب کیا کروں؟ انہوں نے تعاون کیا کہا پیپر شروع کرلیں تاکہ آپ کا وقت ضائع نہ ہو اگر آپ سینٹر میں لائی ہیں اور کہیں گر گیا ہےتو مل جائے گا۔ گورنمنٹ اسکول کی ایک خاصیت ہوتی ہے کے رقبے کے لحاظ سے آج کل ایسے اسکول ملنا ناممکن ہے کشادہ کلاس ۔۔۔۔بڑا سے گراؤنڈ
گراؤنڈ میں لگے ہوئے درخت سب کچھ اس تپتی دوپہر میں بہت اچھا لگتا ہے ۔

بہرحال پیپر کرتے کرتے چپڑاسی نے آکر ایک ایڈمٹ کارڈ ٹیچر کے حوالے کیا اور انہوں نے میرے حوالے کردیا۔
وقت بڑی تیز رفتاری سے چلا آج جب بیٹی کا پیپر دلوانے گئی تو ایک عجیب و غریب کیفیت کا سامنا کرنا پڑا ا ایک معاشرتی رویہ جو میرے سامنے آیا وہ یہ تھا کہ ہم مجموعی طور پر جذباتی بدتمیز اور بے ایمان ہو چکے ہیں شاید میرے جملے پر آپ کو تعجب ضرور ہو
لیکن حقیقت یہی ہے کی زندگی کی دوڑ دھوپ نے بدلتے وقت کے ساتھ ہمارا صبر ہماری ایمانداری اور تحمل مزاجی ہم سے چھین لی ہے ایسا اس لئے کہہ رہی ہوں کہ جب گھنٹی بجی اور بچیاں اپنی کلاسوں کی طرف روانہ ہوئیں تو بہت ساری مائیں بھی ساتھ چل پڑی انتظامیہ نے گزارش کی کہ آپ لوگ باہر کھڑی رہی کچھ بچیوں کے رول نمبر نہیں مل رہے تھے انتظامیہ نے کہا آپ فکر نہ کریں مل جائیں گے۔

لیکن مائیں اپنی بچیوں کے معاملے میں بہت جذباتی ہوتی ہیں کچھ ان کے جذبات بھی دیکھے اور کچھ ایڈمنسٹریشن کا سخت اور غلط رویہ بھی کلاسوں سے بہت دور جو بیٹھنے کی جگہ تھی گراؤنڈ میں وہاں بیٹھی اپنی بچیوں کا انتظار کرنا چاہ رہی تھی لیکن انتظامیہ نے کہا باہر کھڑا رہا جائے یا گھر واپس جایا جائے پولیس والے بھی تھے اور ہمیں معلوم ہوا کہ اسکول کی انتظامیہ اس معاملے میں حق بجانب ہے کیونکہ پچھلے سال دفعہ 144 لگ چکی ہے۔
لیکن پرنسپل کا رویہ بہت ہتک آمیز تھا ۔وہاں کی انتظامیہ نے بتایا کہ پچھلے سال تین لڑکیاں پکڑی گئی تھی کسی اور کا پیپر دیتے ہوئے نقاب لگا کے پیپر دیا انہوں نے ۔

شاید اسی وجہ سے سختی کی جارہی تھی اور دفعہ 144 بھی لگائی گئی ۔مگر میرا سوال حکومت سے صرف اتنا ہے کے لیڈیز اسٹاف چیکنگ کرے اور دیکھ لے کہ بچی وہی ہے جس کی تصویر ہے ایڈمٹ کارڈ پر لیکن خدارا ان ماؤں کو جو دور سے آتی ہیں جن کے پاس اتنا کرایا نہیں ہوتا کہ پہلے بچوں کو چھوڑنے آئیں پھر گھر جائیں پھر واپس چھوڑنے آئی پھر واپس لے کر جائیں ان کے لئے برائے مہربانی گراؤنڈ میں بیٹھنے کا انتظام تو کیا جائے اگر زیادہ انتظام نہیں کر سکتے تو ایک پانی کا کولر اور بس بیٹھنے کی اجازت دے دی جائے تا کہ دور سے آنے والی خواتین کو اس اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑے جو آج میں نے دھوپ میں کھڑی ہوئی خواتین کو کرتے ہوئے دیکھا برائے مہربانی فلفور اس بات سے پابندی ہٹائی جائے بچیوں کی ماؤں کو اسکول میں ایک الگ جگہ پر بیٹھنے کی اجازت اور سہولت دی جائے تاکہ وہ تپتی دھوپ میں باہر کھڑے رہنے کے بجائے ایک مختص جگہ پر اپنی بچیوں کا انتظار کر سکیں ۔اور والدین تھوڑا سا نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں ۔