Home » ڈیوس کون سوچیے – لطیف النساءَ
حالات حاضرہ

ڈیوس کون سوچیے – لطیف النساءَ

شادی کا موقع اور ہمارے رویئے قابل مزحمت نہیں قابل سزا ہوتے ہیں۔ ہم کس وقت کس حال میں ہوتے ہیں ہم کتنے بہروپئے ہیں خود جانتے ہیں۔ ہم کیسے شادی بیاہ کیلئے بے چین ہوئے جاتے ہیں؟ بچوں کیلئے بچیوں کیلئے انکی شادیوں کیلئے ہم کتنے پریشان ہوتے ہیں؟ نیک اور شریف لوگوں کو دیکھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بھئی لڑکا شریف ہولڑکیاں شریف ہوں تمام تر طرح کی کوششوں کے ساتھ کہیں جا کر رشتے طے پاتے ہیں۔ انتہائی مسرت کی بات! بات پکی ہونے پر مٹھائیاں بٹتی ہیں اورمبار کیاں ملتے ہیں۔بسا اوقات خاندان کی بچیاں اُداس اور کچھ مایوس سی ہوجاتی ہیں بعض مرتبہ لڑکے اور انکی مائیں بھی اداس ہوتی ہیں مگر قسمت پر شاکررہ کر کوئی گلہ شکوہ نہیں کرتیں، بلا شبہ بہتر کرتی ہیں۔

اللہ کی تقسیم پر شاکر رہنا عافیت ہے۔ میں سمجھتی ہوں سب سے بڑا زندگی کا واقعہ کہوں، تحفہ کہوں یا تماشا کہوں کیا کہوں؟ مگر سب سے بڑا خوشگوار موقع ہوتا ہے۔کتنی محبتوں سے لڑکے اور لڑکیوں کو پڑھا لکھا کر انکے ماں باپ انکی کی رضامندی پر ہی شادی کروانے کو تیار ہوتے ہیں مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اتنے پڑھے لکھے سمجھدار مالدار لوگ جو یقیناً صاحب حیثیت ہی ہوتے ہیں جب ہی ہزاروں لاکھوں کے خرچے کھانے، ملبوسات،میک اپ، بیوٹی پالر اور بینکوئٹ پر خرچ کرتے ہیں اور ایک دن کی تقریب کو ہفتوں چلاتے ہیں۔ شادی سے متعلقہ لوگوں کو تو چھوڑیں شریک افراد کی تیاریاں دیکھیں!! اتنا مقدس موقع خوشی کا دن اور اس میں ہی اتنی خرافات! کہ سگے رشتہ داروں کو جو ذرا مذہبی رجحان بھی رکھتی ہوں اور سادہ رہنا چاہتی ہوں ان کو تو بڑی ہی تکلف سے غیر ارادی طور پر بلایا جاتا ہے۔ آج کل کیا کیا رسمیں ہو رہی ہیں۔ کیسے والدین اپنی جوان بچیوں کو اسطرح کی رسومات جن کا ہماری روایات سے کوئی تعلق ہی نہیں یہ کہاں سے ہماری نسلوں میں آ رہی ہیں؟ برائیڈل شاور،ڈھولکی، مہندی،  لڈی، ناچ گانے، فلموں کے وہ بھی نئی فلموں ان کے گانوں، نازیبا  ملبوسات کو اپنا کر اور نہ جانے کیا کیا؟ کیک کٹوانا، پوری پوری مِنی فلمیں بنانا۔

یہاں تک کہ دلہا دلہن کو سب کے سامنے سر عام گھمواتے ہیں۔ انگلی پکڑ کر اور تو اور مجھے تو دلہن اتنی کیمرہ مین کی تابعدار نظر آئی۔ اسکے اشاروں پر یوں چلے کہ کبھی ماں باپ یا شاید اساتذہ کی بھی اتنی تابعداری نہ کی ہوگی۔ ایک دن میں نے ایک شادی کی تقریب میں جو گھر میں ہی ہوئی تھی مگر لوگ زیادہ تھے ایک دوسری دلہن کو جا کر مبارک باد دے دی اور دُعا بھی۔ جب وہ کھڑی ہو کر مجھ سے ملی اور ہم واپس پلٹے تو میری بہو ہنستے ہوئے بولی امی یہ دلہن تھوڑی ہے؟ اتنے میں قریبی عورت نے کہا دلہن دلہا تو برابر کمرے میں ہیں۔ ماشااللہ کمرہ بھی بہت پیارا ہے۔ آؤ تمھیں دکھاؤں! میں بھی حیران ہوئی اس سے زیادہ شرمندہ کہ پھر یہ دلہن کیسی؟ میں نے بہو کو خاموشی کا اشارہ کیا اور برابر کمرے میں دلہن دیکھنے گئی مبارک باد دی اور واپس آگئی۔ ابھی صرف چند لوگ ہی نکاح کروا کر دلہن گھر لائے تھے ابھی ولیمہ باقی تھا۔ مگر کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شادی میں آنے والی خواتین بھی اسطرح تیار ہوتی ہیں کہ اپنے ہی شادی کے لباس میں دلہنوں کی طرح پوری تیاری پلکیں، ٹیکا، جھو مر تک آجکل تو نہ گھونگھٹ ہوتا ہے ناہی پھول توکیوں نہ پڑے لوگوں کی عقلوں پر دھول! بے چارے فوٹو گرافر بھی پاگل ہو رہے ہوتے ہیں کسے فلمائیں کسے نہیں کیونکہ دلہا دلہن الگ ہی فوٹوسیشن کے نام پرسارے لوگوں کو گھنٹوں اداکاریاں دکھاتے ہیں۔

ایسے میں دیکھنے والے کچھ مچلے جاتے ہیں، کچھ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کچھ توبہ استغفار کرکے اپنے آپ کو گنہگار سمجھتے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سوچتے ہیں آئندہ ایسی شادیوں میں نہیں جائیں گے مگر ایمان کے کمزور مجھ جیسے پھر بھی چلے جاتے ہیں۔ استغفر اللہ اللہ توفیق دے۔ مرد کو قوام کہا گیا ہے اسے شروع ہی سے خدا خوفی اور مضبوط ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنی شریک حیات کو نہ صرف تحفظ دے، رکھوالی کرے، کفالت کرے بلکہ اسے حیا کے ماحول میں رکھنے کی بھر پور کوشش کرے ناکہ خود بھی بے حیائی کرے دیکھے نبھائے بلکہ اترائے تو بتائیں کیسے فلاح پائے؟ اسے بالکل برا نہیں لگتا کہ لوگ کیا کر رہے ہیں کیسے دیکھ رہے ہیں؟ جب وہ خواتین جو عام حالت میں انتہائی پردے میں حجاب کے ساتھ ہوتی ہیں وہ لڑکیاں جو کبھی بلا حجاب اور ابائے کے نظر نہیں آئیں۔ اچانک بن سج کر اپنے پورے اسٹائل کے ساتھ میک اپ اور ہیئر اسٹائل یا کھلے بال اور نت نئے فیشن کے کپڑوں میں بالکل ہی مختلف نظر آتی ہیں اور خاص کر وہ لڑکیاں بھی جو میچنگ کے کلر فل لینس لگا کر بہت ہی مختلف لگتی ہیں اور اس بات پر وہ خود اور انکے گھر والے یعنی باپ بھائی یہاں تک کہ شوہر حضرات بھی خوشی محسوس کرتے ہیں جبکہ دیکھا جائے تو انھیں ان ہی موقعوں پر شرم و حیا اور پردے کا خاص اہتمام کرنا چاہئے۔ میں سوچ رہی تھی کہ واقعی ہمارے والدین نے بھی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ۔

کبھی ویسے نہیں ٹوکا جیسا انہیں کرنا چاہئے تھا کہ ہم بھی اتنے کھلے نہ تھے مگر اس وقت خواتین و حضرات کی جگہیں الگ الگ ہوتی تھیں یعنی پارٹیشن ہو تا تھا۔ جو واقعتا تھا صرف رخصتی کے وقت ہی گھر والے حضرات چند آگے آتے تھے باقی سب اپنی ہی جگہوں پرہوتے تھے یا جا چکے ہوتے تھے جبکہ آجکل تو پارٹیشن کے باوجود بھی کھلے نظارے ہو رہے ہوتے ہیں۔ ابھی بھی کہیں کہیں واقعتا علیحدہ علیحدہ خواتین و حضرات کا انتظام ہوتا ہے وہاں واقعی بندہ بڑا فری اور پر سکون محسوس کرتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میڈیا اور مغربی تہذیب کی نقالی نے ہمیں جکڑا ہوا ہے۔ مگر پھر بھی ہم برائیاں بتا کر یا منفی تنقید کرکے دوسروں کو قصور وار ٹھہرا کر بری نہیں ہوسکتے، ہم میں سے ہر کسی کو اپنا اپنا احتساب کرنا ہوگا، ہم کیا تھے کیا ہوگئے اور آگے کیا ہو رہا ہے ہم کیا دیکھ رہے ہیں؟ ٹھوکریں بھی ہم ہی نے کھائی ہیں توسنبھلنا بھی ہمیں ہی ہے اگر ابھی بھی آنکھ نہ کھلی تو پھر حسرتیں ہی رہ جائیں گی۔ ہمیں شعوری طور پر جہالت کے ان اندھیروں سے، معاشرے کی برائیوں، بے حیائیوں اور فیشنوں سے اجتناب کرنا ہوگا۔ اپنی ہی مٹی پر چلنا ھو گا نہ ہمیں کوے کی ہنس چال چلنی ہے اور نہ میڈیا  یا مغربی تہذیب کی نقالی بلکہ ہمیں اپنی اقتدار اپنی تہذیب، اپنے دین سے بہت زیادہ جڑنے کی ضرورت ہے۔

اس کیلئے ہمیں ہی قربانی دینی ہے۔ وقت کی صلاحیتوں، نفسانی خواہشات کی جو ہمیں برائی کی ترغیب دیں۔ اپنے ماحول کو شعوری طور پر مسلم بنانا ہوگا بچیوں اور بچوں کو قصور وار نہیں بناتا بلکہ اپنے کردار کو اور اپنے افعال کو درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دین کی راہ پر اللہ اور رسول کی اطاعت پر اپنی اولادوں کو شعوری طور پر لگائیں اور اس کیلئے مسلسل حکمت آمیز کوششیں کریں نہ لوگوں کی پرواہ کریں نہ زمانے کی، ہمیں تو اپنا جواب دینا ہے ہر شخص اپنے افعال پر اعمال پر گروی رکھا ہوا ہے۔جب ہم خود ہی سنبھلے ہونگے، نہ میڈیا سے متاثر ہونگے نہ مغربی تہذیب اور نئے زمانے کی نئی ٹیکنالوجی سے تو یقیناًہمارے بچے ضرور اس ڈگر پرآئیں گے۔ہمیں پہلے اپنا اور اپنے گھر کا ماحول دین کی روشنی میں اجالنا ہوگا خود ہی اچھے ماحول اور اچھے لوگوں میں رہنا ہوگا تاکہ ہمارے بچے بھی ایک شعوری اور مہذبی دینی ماحول میں پروان چڑھیں جہاں انہیں ہر دم رب سے جڑنے قرآن اور سنت سے جڑنے کے مواقع ملتے ہیں تاکہ ہم آج بھی پرانے وقتوں کی طرح جہالت کے اندھیروں سے نکل کر اسلام کی روشنی میں رہیں اور ہماری نسلوں میں ایمان کی پختگی اور دین کا اصلی چہرہ منور رھے ۔اور اس روشنی سے رہتی دنیا تک اجالا کرتے رہیں۔ ہم صرف ملبوسات اور کھانے پینے یا ٹیکنالوجی کے طلبگار نہ ہوں۔ بے شک ہمیں دنیا میں بھی تمام ترقیاں کرنی ہیں۔

دنیاوی علوم اورراحتوں اور ضرورتوں کو کسی حد تک حاصل کرنے کیلئے تگ و دو کرنی ہے مگر سب سے زیادہ ہمیں اپنی اولادوں اور اپنے مستقبل اور آخرت کی فکر ہر لمحہ کرنا ہے اور یہی آخرت پر فوکس رہنے کا تاثران کی سرشت میں بھر دینا ہوگا۔ جب ہی ہمیں سکون ملے گا اورہماری روح چین پائے گی اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے اور دین کا صحیح شعور اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور اس پر ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。