Home » حقوق نسواں ضروری ہے مگر- فرح مصباح
حالات حاضرہ

حقوق نسواں ضروری ہے مگر- فرح مصباح

کائنات میں بکھرے رنگوں میں کچھ رنگ نہایت ہی حسین ہیں۔ اور انہی حسین رنگوں میں سے ایک رنگ عورت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاشرے کی تکمیل کے لیے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو انہی کی بائیں پسلی سے بی بی حواء کو بھی پیدا فرمایا۔ پھر تمام انسان بابا آدم اور اماں حواءکی اولاد بنے۔ مرد عورت کے بغیر اور عورت مرد کے بغیر نامکمل ہوتے ہیں۔ دیکھا جائے تو دونوں ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔

قرآن وسنت اور آئینِ پاکستان میں دونوں کے واضح حقوق بیان ہوئے ہیں۔ عورت کو اس کے حقوق دیے اور مردوں کو ان کے حقوق، تاکہ نظامِ زندگی ایک متوازن طریقے سے چلایا جا سکے۔ کوئی کسی کے حق پر ڈاکہ نہ ڈالے۔ الحمدللہ بڑی کامیابی کے ساتھ برسوں سے معاملات سلجھے چلے آ رہے تھے۔ اگر کہیں اِکّا دکّا زیادتی کا کوئی واقعہ ہو بھی جاتا تو قانونی کارروائی سے معاملہ سلجھ جاتا تھا اور گھرانہ پھر آباد ہو جاتا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ ماڈرن ایجوکیشن رائج ہونا شروع ہوئی اور آنکھیں مسل کر دیکھا تو ہر طرف دھواں ہی دھواں دکھائی دیا۔ انہیں لگا کہ خواتین سے ان کے حقوق چھین کر آگ لگا دی گئی ہے۔ ہڑبڑا کر انہوں نے عورت مارچ کے حوالے سے ریلی نکالنے کا اعلان کر دیا اور خوب نعرے لگانے شروع کر دیے۔ محسوس ہوتا تھا کہ کسی سازشی ایجنڈے کے تحت یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ بے شک ہمارے معاشرے میں بھی خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں لیکن بدلتے وقت کے ساتھ عورتوں کو زیادہ حقوق ملنے لگے ہیں ۔ پہلے جوائنٹ فیملی سسٹم ہوا کرتا تھا ۔ اب زیادہ تر خواتین جوائنٹ فیملی سسٹم میں نہیں رہتیں۔ عورتوں کو وقت کے ساتھ زیادہ آزادی میسر آ چکی ہے۔ سڑکوں پر کھڑے ہو کر نامناسب نعرے لگانے سے معاشرے میں بے اعتدالی تو پیدا ہو سکتی ہے لیکن ایک مضبوط اور مستحکم معاشرہ جنم نہیں لے سکتا ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ بے شک مغربی ممالک ترقی میں ہم سے کہیں زیادہ آ گے ہیں ۔ ان کے پاس کئی طرح کی ٹیکنالوجیز ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا خاندانی نظام ہم سے کہیں زیادہ بکھرا ہوا ہے۔ خاندانی نظام کے بارے میں وہ تنزلی کا شکار ہے جبکہ ہمارے ہاں پھر بھی ایک مضبوط اور مستحکم فیملی سسٹم موجود ہے۔
لہٰذا ایک بہترین معاشرے کی تکمیل کے لیے اس قسم کی بحث کے بجائے بہترین تعلیم و تربیت پر اور اپنے کردار سنوارنے پر توجہ دینی چاہیے۔ مرد و زن دونوں معتبر ہیں لیکن ماں کو محبت دے کر اللہ رب العزت نے عورت کو بے پناہ عزت دی کیا انبیاءاور اولیاءکو جنم دینے والی بھی ایک عورت ہی ہے۔ نپولین کا قول ہے : ” تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا۔“ خواتین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں ، خصوصاً بچوں کو دوسروں کی عزت کرنا اور صبر و برداشت سکھائیں۔ بیٹوں کی تربیت میں عورتوں کی عزت کرنے کے پہلو کا بھی خصوصی خیال رکھا جائے ۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کی عزت بہت زیادہ ہے۔ اگر کہیں سڑک پر عورت کی گاڑی خراب ہو جائے اور اسے ٹائر بدلنا پڑے تو کئی عزت دار مرد اس کی مدد کو پہنچتے ہیں۔

اچھے اور برے انسان ہر جگہ موجود ہوتے ہیں لیکن مسلمان اور نیک مردوں کی شان یہ ہی ہے کہ وہ عورتوں کو ہمیشہ عزت دیتے ہیں۔ اسلامی معاشرے میں مرد و عورت کی برابری کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ عورت کو اللہ رب العزت نے گھر کی ملکہ بنایا ۔ پہلے پہل معاشرے میں عورت کی کوئی عزت نہ تھی ۔ نبی پاک ﷺ نے دور جاہلیت میں جب کہ بچیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا ۔ عورت کی شان اور عزت بتائی اور بڑھائی۔ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے گھر آتیں تو آپ ﷺ ان کے احترام میں کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے۔ جب حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی یعنی آپ ﷺ کی رضاعی بہن آپ ﷺ کے گھر آئیں تو آپ ﷺ نے اپنے کندھوں سے چادر اتار کر ان کے لیے بچھا دی۔ نبی پاک ﷺ کی تقلید میں آج بھی ہمارے معاشرے کی مرد اپنی ماں ، بہنوں ، بیوی اور بیٹیوں کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں۔ ایک دفعہ معروف اردو ادیب اشفاق احمد اور بانو قدسیہ لندن کے ایک پارک میں بیٹھے تھے۔ نماز کا وقت ہوا تو چند نوجوانوں نے نماز ادا کی ۔ وہاں چند نوجوان لڑکیاں انھیں دیکھنے لگیں ۔ جب نوجوانوں نے سلام پھیرا تو ایک لڑکی نے ایک نوجوان سے کچھ بات کی تو بانو قدسیہ اور اشفاق احمد بھی قریب آئے اور ان کی گفتگو سننے لگے۔
اس لڑکی نے اس نوجوان سے کہا کہ آج تو سنڈے ہے ، چھٹی ہے تو آپ لوگ آج کیوں عبادت کر رہے ہو ؟ نوجوان نے کہا کہ ہم لوگ مسلمان ہیں ۔ ہم لوگ ہر روز پانچ وقت اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے ہیں ۔

پھر اس لڑکی نے اپنا ہاتھ بڑھایا اس نوجوان کی طرف لیکن اس نوجوان نے کہا کہ یہ ہاتھ میری بیوی کی امانت ہے، میں اسے کسی غیر محرم کو چھونے نہیں دے سکتا ۔
نوجوان کی یہ بات سن کر وہ لڑکی وہیں لیٹ گئی اور رونے لگی کہ کتنی خوش نصیب ہوگی اس لڑکے کی بیوی! کاش کہ مغربی معاشرے میں بھی ایسا ہو جائے۔ ایسے میں اللہ رب العزت کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اپنے باپ ، بھائی ، بیٹے اور شوہر کی عزت دل و جان سے کرنی چاہیے۔ اگر کہیں حق تلفی ہو رہی ہو یا زیادتی ہو رہی ہو تو اللہ رب العزت نے یہاں بھی عورتوں کے حقوق بیان فرمائے ہیں ، جن کی وہ مدد لے سکتی ہیں ۔ محرم مرد ڈھال ہے اور غیر محرم مرد کی تفصیل علامہ اقبال نے ’ مکڑا اور مکھی‘ میں بہت خوبصورتی سے بیان کی ہے۔ جب بھی غیر محرم مرد اور عورت کو تنہائی میسر آئے تو بلاشبہ نقصان زیادہ سے زیادہ عورت کا ہی ہوا ۔ چاہے نور مقدم کے کیس میں دیکھ لیں لہذا دوپٹہ پہننا ، روٹی بنانا ، گھر کے کام کرنا ، شوہر کے حقوق کا خیال رکھنا ۔ طریقے اور سلیقے سے جینا ایک عورت کو معزز اور معتبر بناتا ہے نہ کہ اس کی حق تلفی کا باعث بنتا ہے۔ خواتین صنف نازک سے صنف آہن تو بنیں لیکن بہترین تعلیم و تربیت کے ساتھ تاکہ خود بھی معاشرے کی ایک بہترین فرد کی صورت میں سامنے آئیں اور بہترین نسل کو پروان چڑھانے کا باعث بنیں۔