Home » پانی ہے زندگی – عالیہ عثمان
حالات حاضرہ

پانی ہے زندگی – عالیہ عثمان

ماضی میں زن ،زر اور زمین پر جنگ ہوا کرتی تھیں لیکن اب پانی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے اور مستقبل میں جنگیں پانی پر ہونگی ان ممکنہ جنگوں سے بچنےکے لیے ہمیں پانی کے مسائل کے حل کا فوری نوٹس لینا ہوگا_
پاکستان میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے جس سے ملک کی معیشت کے علاوہ زرعی شعبہ اور گھریلو صارفین کوشدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں_

پانی کے بحران کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں حکومت کی ناقص منصوبہ بندی، پانی کا ضیاں، ڈیموں کا بروقت تعمیر نہ ہونا، نہروں اور دریاؤں کے نظام میں بہتری لانا بجلی پیداکرنے کی صلاحیت میں اضافہ نہ کرنا اور دیگر عوامل شامل ہیں۔ موجودہ حکومت پچھلی حکومت کو اس کی ذمہ دار قرار دے رہی ہے ۔وزیر خزانہ نے اس کی وجوہات بھی بیان کی ہیں تین دہائیاں قبل سطع زمین سے 35 فٹ گہرائی میں پانی موجود تھا جو اب600 فٹ تک جا پہنچا ہے 2030 تک ترقی پذیر ممالک میں پانی کی طلب پچاس فیصد بڑھ جائیگی ایک اور رپورٹ کے مطابق2025تک آدھے سے زائد دنیا پانی کی قلت اور کسی حد تک خشک سالی کا شکار ہو جائے گی یعنی آدھی سے زیادہ دنیا پانی سے محروم ہو جائے گی ۔دنیا شدید موسمیاتی تبدیلیوں کے زیر اثر ہےاور یہی موسمیاتی تبدیلیاں پانی کے شدید بحران کا باعث بھی بن سکتی ہیں اور متوقع بارشوں اور بڑھتے درجہ حرارت کی وجہ سے بھی پانی کا بحران بڑھ سکتا ہے معاشی اور سماجی عوامل پانی کے مسائل پیدا کر رہے ہیں ۔

مگربہترواٹرمینجمنٹ سے ان مسائل کی روک تھام ممکن ہے_
سندھ اور پنجاب کے حالات اور ملکی سطح پر بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی وجہ سے مزید حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ سندھ کا علاقہ زیریں ہونے کے علاوہ زیر زمین میں میٹھے پانی کی بھی کمی ہے۔ اس لیے سندھ میں پانی کی صورتحال بہت خطرناک ہے۔ پنجاب بالائی سطح پر واقع ہونے کے ساتھ اس کی زیر زمین میٹھا پانی بھی ہے اب سندھ کو تباہی سے بچانا پنجاب کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہماری زیادہ تر معیشت قدرتی وسائل پر منحصر ہے_
آبی وسائل کا مسئلہ ہو ،صحت عامہ کا یا مردم شماری کا صوبوں کے درمیان تنازع ضرور پیداہوتا ہے ۔اگر ایک طرف مسائل ہیں تو دوسری طرف صوبوں کے تنازعے صوبوں کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں ہے۔ آپس میں بحث و مباحثے میں الجھے ہوئے ہیں_

آج سے ہزار ہا سال پہلے موہن جوداڑو، ہڑپہ تہذیب کی تباہی کا سبب بھی پانی کی کمی ہی تھا اور اس سے پہلے کہ تاریخ کے صفحات میں ہماری تباہی کا سبب بھی یہی ٹھہرا۔ہمیں نوشتہ دیوار پڑھ لینی چاہیے_
کراچی میں جگہ جگہ فلٹر پلانٹ لگے ہوئے ہیں اکثر غیر معیاری ہوتے ہیں اس سے بہتر ہے کہ پانی ابال کر استعمال کیا جائے ۔ شہر میں ایسے فلٹر پلانٹ بھی ہیں جن سے معیاری اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق پانی عوام کوسپلائی کیا جا رہا ہے۔
پانی زندگی ہے اسے احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے کیونکہ پانی کے قدرتی ذخائر ختم ہوتے جا رہے ہیں ہمارے دریا بنجر ہوتے جا رہے ہیں۔ پانی اللہ کی دی ہوئ نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے اسکا استعمال احتیاط سے کیا جانا چاہیئے،
اکثر دیکھا گیا ہے گاڑیاں دھوتے ہوئے پانی کا زیاں بہت ہوتا ہے بجائے پائپ سے دھونے کے بالٹی، ڈول وغیرہ میں پانی لیکر گاڑی دھونا چاہیئے اورنلکےوغیرہ ٹھیک رکھنےچاہیئں تاکہ پانی بہنے سےضائع نہ ہو۔

ہمارےدین میں بھی اسراف کی ممانعت ہے۔ہرچیزکااعتدال میں رھ کراستعمال سنت نبوی ہے_ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔لیکن ہمارے ملک کے کرپٹ اور بدعنوان سرکاری اداروں اور نااہل حکمرانوں کی وجہ سے عوام کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے_ اللہ تعالی ہمارے حکمرانوں کو خواب غفلت سے جگا دے یا ایسے حکمران عطا فرما دےجو دل میں ملک و قوم کی بحالی کا درد رکھتے ہوں آمین_