کم ظرف دشمن – فاٸزہ حقی




آج کل کی سب سے بڑی اور زیادہ ورلڈ واٸیڈ خوفناک خبر ……. ایک نہایت ہی منھی سی چیز کی ہے جو کہ نظر بھی نہی آتی …!مگر موجود ہے.
ساٸنس دان اس کے تدارک کی کوششوں میں لگے پڑے ہیں مگر ابھی تک کوٸی مصدقہ اطلاع کہیں سے ایسی نہیں آٸیں کہ اس کے خاتمے کی کوٸی کوشش کامیابی سے ہم کنا ہوٸی ہو لیکن ؟ ایک خبر جو متذکرہ جرثومہ سے متعلق ہے وہ بہت خوفناک ہے……..جی جرثومہ ۔۔۔۔۔۔۔جو نظر بھی نہیں آتا اور کام دکھا دیتا ہے خاص کر ”کرونا “ . موجودہ دور ایک خوف وہراس کا دور ہے جس میں خانہ کعبہ بھی اسی ماحول میں ڈوبا نظر آتا ہے .اس کے متولی بھی اس منھے سے جرثومے سے اتنا خوفزدہ ہوچکے ہیں کہ اللہ صاحب کے گھر میں اس کے عاشقین کی آمد پر بھی پابندی لگادی ۔ لیکن صاحب …….سوال یہ ہے کہ یہ آیا کہاں سے ہے ؟
چینی ساٸنسدان اس مصیبت کے وقت بھی اسی مصیبت پر ریسرچ کررہے ہیں اور مستقل مزاجی اور ثابت قدمی سے اس کے عوامل کو معلوم کررہے ہیں …… جس سے انہوں نے یہ اندازہ لگایا کہ یہ جرثومہ قدرتی نہیں بلکہ شیطانی دماغ کی کارستانی ہے اور اس شیطانی دماغ نے اسی پرانے مجرم کو استعمال کیا ہے جس نے پہلے جاپان کے جیتے جاگتے شہروں کو قبرستان میں نہایت سفاکی سے تبدیل کردیا تھا ۔ جی ہاں …..! انہوں نے یہ معلومات حاصل کی ہیں کہ کچھ عرصہ قبل ووہان میں بین الاقوامی کھیلوں کا اہتمام ہوا تھا جس میں امریکہ کے کھلاڑی بھی گۓ تھے اور وہیں یہ واٸرس وہاں داخل کیا گیا تھا .وجہ کیا ہے …….؟
صاف اور واضح …… بین الاقوامی معاملات کی شد بد رکھنے والے جانتے ہیں کہ چاٸنا خاصا ہی امریکہ کے منہ کو آرہا ہے اور انڈیا کے دشمن ملک پاکستان کو مکمل سپورٹ کررہا ہے جبکہ وہ سپر پاور بنے کی بھی تیاریاں کررہا ہے …….جبکہ امریکہ اپنا آپ ختم ہوتا محسوس کررہا ہے، لہٰذا ایک کمینے دشمن کی خصلت اجاگر ہوتے ہوۓ امریکہ اپنا اصل روپ دکھا گیا ۔ لیکن یہ جرثومہ نہ ہی رنگ دیکھتا ہے اور نہ نسل سو…….
امریکہ خود بھی اس کی لپیٹ میں آگیا اور ایک ایسا ملک جہاں قدرتی آفات زیادہ نقصان نہیں کرپاتیں وہاں گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھادی ۔
لہٰذا اب بات آتی ہے رب کاٸنات سے وعدہ کرکے اس کو ایفإ کرنے والوں کی، یعنی ہماری ۔ہم پاکستانیوں کی ۔
یہ ایک بہت عمدہ موقع ملا ہے جو ہمارے رب نے ہم کا عطا کیا ہے کہ ہم اس صورت حال سے پورا پورافاٸدہ اٹھاتے ہوۓ اسلام کے تمام ہی اصولوں کو دنیا کے سامنے عملی طور پر پیش کرکے اس جرثومے اور اس کے قبیل کے دوسرے جراثیموں سے اپنی اور دنیا کی جا بھی چھڑاٸیں جبکہ اسلام کے بھی سارے فواٸد دنیا کے سامنے لیکر آجاٸیں کہ دنیا آخر کو مان ہی لے کہ اسلام ہی وہ واحد طرززندگی ہے کہ جس پر عمل کرکے پوری دنیا اس قسم کی نقصان پہنچادینے والی چیزوں سے بچ سکتی ہے جب کہ اللہ صاحب کے حضور انعام واکرام تو الگ ہی ہوگا

اپنا تبصرہ بھیجیں