کوروناوائرس سےقبل کراچی میں کب قرنطینہ سینٹربنائےگئے؟




 کراچی میں کوروناوائرس کی وجہ سےکاروبار،ٹرانسپورٹ اورنظام ِ زندگی معمول سےکئی کم ہے۔ پوراشہرمکمل لاک ڈاؤن ہے۔

 کراچی میں آج لاک ڈاؤن کاپانچواں دن ہے۔ ٹریفک،شاپنگ مالز،ریسٹورانٹ ،ہوٹلز،ٹریفک مکمل بند ہےاورکراچی کی عوام اس وقت گھروں تک محدودہیں۔

تاہم کیا آپ جانتےہیں اس سےقبل  کس سن میں کراچی میں کب نظام زندگی مفلوج ہوئی تھی؟

تاریخ پرنظرڈالیں توماضی میں ہیضہ اورطاعون بھی شہرکوبری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔

1843 میں کراچی میں برطانوی فوجی ہیضے کا شکار ہونے لگے، جس نے دیکھتے ہی دیکھتےوباکاروپ اختیارکرلیا۔

1846 میں شدت اتنی بڑھی کہ 7ہزار زندگیاں لقمہ اجل بنیں، قائداعظم محمد علی جناح کی والدہ اور پہلی اہلیہ کا انتقال بھی انہی وبائی ایام میں ہوا۔

مورخین کے مطابق برٹش راج کےدوران ملیریا، چیچک اورجلدی بیماریاں عام ہونےلگیں تو 1879 میں لازمی ٹیکہ ایکٹ نافذ کردیا گیا۔

1896 میں کراچی میں طاعون نےاپنےپنجےگاڑھ لئےتھے۔ متاثرین کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی جس کےبعد لیاری، رنچھوڑ لائن، رام باغ اورسول لائن میں قرنطینہ کیمپس تک محدود کردیا گیا تھا ۔

 بالآخر 1900 میں اس پر قابو پالیا گیا۔

واضح رہےکہ پاکستان میں کوروناوائرس سےمتاثرہ افرادکی تعداد1200  ہوچکی  ہے  جبکہ 9 افراد جاں بحق اور  21 صحت یاب ہوچکے ہیں ۔ پاکستان میں  سب سے زیادہ متاثرہ  افراد    صوبہ سندھ میں  ہیں ۔  صوبہ سندھ میں متاثرہ افرادکی تعداد428 ہوچکی ہے ۔

The post کوروناوائرس سےقبل کراچی میں کب قرنطینہ سینٹربنائےگئے؟ appeared first on .

اپنا تبصرہ بھیجیں