بھارتی میڈیا کا ایک بار پھر بے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈا




ویب ڈیسک: (31 مارچ 2020) بھارتی زہریلا میڈیا پھر جھوٹ اور بے بنیاد افواہیں پھیلانے لگا ۔ پروپیگنڈا کررہا ہے کہ پاکستانی ہندو بھائی جو بھارت یاترا پر گئے ہیں واپس نہیں آنا چاہتے جبکہ جتنا پرامن اور آزادانہ ماحول کو پاکستانی ہندو اپنے تہوار مناتے ہیں۔ ایسا ماحول دنیا کے کسی کونے میں کسی بھی اقلیت کو حاصل نہیں۔

پاک سرزمین جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات کے مطابق ہر اقلیت کو مکمل اور پوری آزادی ہے کہ وہ اپنے مذہبی رسومات کو پرسکون انداز میں ادا کرے۔ عبادت گاہیں محفوظ ہیں جب چاہیں جہاں چاہیں کوئی بھی اقلیت اپنی رسومات ادا کرسکتا ہے۔ پاکستانی اقلیتوں کو وہی بنیادی حقوق حاصل ہیں جو اکثریت کو ہیں۔ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ پاکستان میں تین کروڑ ساٹھ لاکھ کے قریب ہندو آباد ہیں ۔جو زیادہ تر صوبہ سندھ میں رہتے ہیں ۔ جنہیں مذہبی آزادی میسر ہے۔ جن کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں جبکہ بھارت میں مسلمانوں کی نہ مسجدیں محفوظ نہ گھر اور نہ ہی کاروبار۔ پاکستان میں ہندوؤں کی عبادت گاہوں پر نہ ہی قبضہ کیا جاتا ہے جیسا بھارت میں بابری مسجد کے حوالے سے کیا اور نہ ہی انہیں گھروں سے بے دخل کیا جاتا ہے بلکہ مل جل کر یہ سارے پاکستانی ہندو، ہر قومی اور مذہبی تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

بیشتر پاکستانی ہندو نجی اور سرکاری اسپتالوں میں ہیں چونکہ ان کا رحجان میڈیکل کی طرف زیادہ ہے۔ کیا یہ کمال اور قابل تحسین امر نہیں کی لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بیکھا رام ہندو ہیں اور انہیں دو مسلم امیدواروں کے مقابلے پر اس عہدے کے لیے ترجیح دی گئی۔ صرف ایک یہ ہی نہیں جسٹس رانا بھگوان داس چیف جسٹس بھی رہے ۔ جبکہ ان کی خدمات چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے لیے حاصل کی گئیں۔

ضلع قمبر شہداد کوٹ سے تعلق رکھنے والی سمن پون بودانی سینئر سول جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہی نہیں تھرپارکر ڈسٹرکٹ کے گیان چند خارجہ سفارت کاری میں اپنی صلاحتیوں کا لوہا منواچکے ہیں ۔ کئی ممالک میں خدمات انجام دینے کے بعد ان دنوں متحدہ عرب امارات میں پاکستانی مشن میں تعینات ہیں۔ سوبھو گیان چندانی ادیب بائیں بازو سیاست دان جنہیں کبھی بھی محض ہندو ہونے پر نفرت کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ طب ہی نہیں وکالت، ادب، صحافت اور سیاست، کھیل، فیشن، اداکاری بھلا کون سا ایسا شعبہ ہوگا جہاں پاکستانی ہندو، ملک کا نام دنیا بھر میں روشن نہ کرچکے ہوں۔

یہی نہیں افواج پاک کی مختلف صفوں میں ہندو بھائی نمایاں کھڑے رہتے ہیں۔ ان میں لال چند ہوں یا اشوک کمار جو وزیرستان میں دوران آپریشن دہشت گردوں کو للکارتے ہوئے وطن عزیز پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ اشوک کمار کو بہادری کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

ہندو ڈاکٹرز پاک فوج کے میڈیکل کور میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میجر کیلاش گرواڈا، میجر انیل کمار اور میجر دانش یہاں چند نام ہیں۔ پاکستانی ہندوؤں کو لے کر انتہا پسند اور معتصب بھارت، زہریلا اور نفرت آمیز ناکام پروپگینڈا کرتا رہے گا لیکن پاکستانی ہندو جانتے ہیں جھوٹ کیا ہے اور سچ۔ وہ اس بات سے باخبر ہیں کہ بھارت میں جس طرح اقلیت بالخصوص مسلمانوں پر ظلم و ستم ہورہا ہے وہ انہیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ پاکستان میں کم از کم وہ بطور اقلیت اس بربریت سے محفوظ ہیں۔

بھارتی میڈیا جھوٹی اور بے بنیاد افواہیں پھیلاتا رہے لیکن پاکستانی ہندوؤں پر اس کا کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ حال ہی میں حیدر آباد پریس کلب کے باہر ہندو برداری نے احتجاجی مظاہرے میں انکشاف کیا کہ تیج یاترا پر بھارت گئے ان کے رشتے داروں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ پاکستان مخالف بیان دیں۔ تنگ نظراور متعصب بھارت نہیں جانتا کہ پاکستانی ہندو ، اس سرزمین پر بے خوف خطر رہتے ہیں جہاں ان کی عبادت گاہیں ہی نہیں جان و مال بھی محفوظ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں