بی جے پی کے رکن اسمبلی سبرا منین سوامی کا نفرت انگیز انٹرویو




دہلی: (3 اپریل 2020) کورونا وائرس سے نمٹنے کے بجائے انتہا پسند اور دہشت گرد جماعت بھارتیا جنتا پارٹی مسلمانوں کے خلاف کھل کر سامنے پھر آگئی۔ سبرا مینم سوامی نے نفرت کا پرچار کیا کہتے ہیں کہ مسلمان کسی صورت ہندوؤں کے برابر نہیں۔ جس ملک میں مسلم آبادی تیس فی صد سے زائد ہو تو خطرہ بن جاتی ہے۔

تنگ نظر اور متعصب مودی سرکار، مصبیت کی اس گھڑی میں بھی مسلمانوں کا وجود ہندوستان میں گوارا نہیں۔مسلمانوں کے خلاف زہر اور نفرت ذہن میں اس قدر بھرا ہوا ہے اور اس کا اظہار کرنے میں کوئی شرمندگی بھی نہیں۔ بھارتیا جتنا پارٹی کے سینیئر رکن ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے مسلم دشمن نظریے کا اعادہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شہریت ترمیمی قوانین پر سارا بھارت ایک ہے اور اسی بات پر غیر ملکی رپورٹر کے سوالوں کے جواب بھی نہ دے پائے۔

بے رحم اور جلاد مودی کے چیلے کا کہنا تھا کہ مسلم آبادی کسی بھی ملک میں تیس فی صد سے زیادہ ہو جائے تو یہ خطرہ بن جاتی ہے۔ سفاک اور تنگ نظر بی جی پی رہنما تو اس ترنگ میں ہیں کہ شق چودہ کی غلط تشریح کی گئی ہے اور مسلمان کسی بھی صورت بھارتی ہندؤں کے برابری نہیں کرتے۔ ہٹلر مودی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کے لیڈر وہی زبان اور وہی مسلم دشمنی کااظہار کررہے ہیں جو دہشت گرد تنطیم آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں