او آئی سی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کو مسترد کردیا




اسلام آباد: (05 اپریل 2020) او آئی سی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کردیا ہے۔ او آئی سی کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ نیا ڈومیسائل قانونی صورتحال کو مزید خراب کرے گا۔

او آئی سی سیکریٹریٹ نے بھارتی حکومت کے جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر 2020ء کو مسترد کردیا۔ او آئی سی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے نیا ڈومیسائل قانونی صورتحال کو مزید خراب کرے گا۔ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدامات نے پہلے ہی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال خراب کر رکھی ہے۔

او آئی سی نے جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی غیرقانونی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری سے جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کروانے کیلئے کوششوں کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے اسلامی تعاون تنظیم کے جنرل سیکریٹریٹ کے بیان کے حوالے سے کہا کہ او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ اس تنازع کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرائے۔ او آئی سی نے بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر کے خطے کی آبادی کے تناسب میں کسی قسم کی غیرقانونی تبدیلی کو مسترد کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں