سعودی عرب، ریاض سمیت متعدد شہروں میں کرفیو کا دورانیہ 24 گھنٹے کر دیا گیا




ریاض: (7 اپریل 2020) سعودی عرب میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے دارالحکومت ریاض سمیت دیگر شہروں میں بھی کرفیو کا دورانیہ بڑھا کر 24 گھنٹے کر دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض، جدہ اور دیگر شہروں میں بھی چوبیس گھنٹے کے کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعوی وزارت داخلہ نے مقامی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی تدابیر کا دائرہ اور معیار بلند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ محکمہ صحت کے حکام کی سفارش پرجدہ، ریاض، تبوک، دمام، ظہران، ہفوف اور طائف میں کرفیو چوبیس گھنٹے کا کردیا گیا۔

سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق وزارت داخلہ نے تین بڑے نئے فیصلے کیے ہیں۔ ریاض ، دمام، ظہران اور ہفوف میں کرفیو چوبیس گھنٹے کردیا گیا۔ علاوہ ازیں جدہ طائف القطیف اور الخبر کمشنریوں میں بھی کرفیو کا دورانیہ بڑھا کر چوبیس گھنٹے کردیا گیا۔ ان شہروں میں آمد ورفت بھی مستقل بنیادوں پر منع کردی گئی۔ عمل درآمد پیر سے شروع کردیا گیا۔ کرفیو تا اطلاع ثانی چوبیس گھنٹے رہے گا۔ چوبیس گھنٹے کے کرفیو سے سرکاری اور نجی اداروں کے اہم شعبوں کے ملازمین مستثنی ہوں گے۔ ایسے کارکن جنہیں کرفیو کے دوران ڈیوٹی جاری رکھنا ضروری ہوگی وہ شاہی فرمان کے مطابق اس پابندی سے مستثنی ہوں گے۔

دوسرا فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ چوبیس گھنٹے کے کرفیو کے دوران مذکورہ شہرو ں اور کمشنریوں میں آباد سعودی اور مقیم غیر ملکیوں کو انتہائی ضروری کام انجام دینے کے لیے گھروں سے نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔ مثال کے طور پر علاج معالجے اور کھانے پینے کی اشیا حاصل کرنے کے لیے محلے کے لوگ اپنے محلے کے دائرے میں گھروں سے صبح 6 بجے سے لیکر سہ پہر 3 بجے تک نکل سکیں گے۔ چوبیس گھنٹے کے کرفیو کے دوران گاڑیوں کو محلے کے اندر نقل و حرکت کی اجازت ہوگی تاہم گاڑی میں صرف ایک ہی شخص کی پابندی کی جائے گی۔ علاوہ ازیں گاڑی میں ڈرائیور کے علاوہ صرف ایک شخص ہی بیٹھ سکے گا۔

تیسرا فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ فارمیسیوں، صحت کے اداروں، کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والی دکانوں، پٹرول اسٹیشنوں، گیس سیلنڈر کے مراکز کے علاوہ کسی بھی کاروباری سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ پابندی سے بینک خدمات، اصلاح و مرمت کے کام، پلمبر، الیکٹریشن اور ایئرکنڈیشن کے ٹیکنیشن مستثنی ہوں گے۔ پانی کی فراہمی اور واٹر ٹینکرز اور گندے پانی کی نکاسی والے ٹینکرز کو بھی سروس مہیا کرنے کی اجازت ہوگی۔

وزارت داخلہ نے مستثنی سرگرمیوں پر مسلسل نظر ثانی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کردی ہے یہ کمیٹی مستثنی سرگرمیوں پر مسلسل اپ ڈیٹ دیتی رہے گی۔ وزارت داخلہ نے تمام سعودیوں شہریوں اور غیر ملکیوں سے اپیل کی ہے کہ انتہائی کے تحت صرف بالغ افراد ہی گھروں سے نکل سکتے ہیں بچوں کو نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسمارٹ ایپلی کیشن کےذریعے ہوم ڈلیوری کی سہولت سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اگر کسی کو کھانے پینے کی اشیا یا ادویہ درکار ہوں تو وہ اسمارٹ ایپلی کیشن کے ذریعے یہ سب کچھ حاصل کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں