خلیجی ممالک میں ’ آر ایس ایس ‘ کی مسلم دشمن سازشیں بے نقاب




نیوز ڈیسک: (22 اپریل 2020) انتہا پسند اور دہشت گردی کے گڑھ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور زہر اگلا جارہا ہے۔ کورونا وائرس سے لڑنے کے بجائے مسلمانوں کو ایک بار پھر دیوار سے لگانے کی سازش کی جا رہی ہے ۔ خلیجی ممالک میں موجود ہٹلر مودی اور ہندو قوم پرست ٹولہ آر ایس ایس کے شرپسند، مسلمانوں پرکورونا وائرس پھیلانے کے ایجنڈے پرکام کررہے ہیں اور ان میں سے کئی کو بے نقاب بھی کیاجاچکا ہے۔

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف پھر نفرت کا کارڈ کھیلا جارہا ہے۔ ہندو دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس مسلم مخالفت جذبات کو اور بھڑکا رہی ہے۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے آر ایس ایس کے آلہ کار ، اسلام اور مسلمانوں کی توہین اور بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ بے رحم اور جلاد مودی اور اس کے شیطانی کارندوں کی ہر چال بے نقاب ہوتی جارہی ہے۔

خلیجی اخبار گلف نیوز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ مودی کے نفرت بھرے دیس میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ کورونا وائرس کے خلاف جنگ کو بھی مودی نے فرقہ وارایت کا رنگ دے دیا ہے ۔ بی جے پی حکومت جان بوجھ کر تبلیغی جماعت اور باقی بھارتیوں کے وائرس سے متاثر ہونے کے الگ الگ اعداد و شمار دے رہی ہے تاکہ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی کو اور ہوا ملے۔

اخبار کے مطابق اس اقدام پر عالمی ادارہ صحت نے بھی بھارت پر تنقید کی تھی لیکن مودی اور ان کی دہشت گرد جماعت یہی بہتان لگارہی ہے کہ وائرس تبلیغی جماعت کی وجہ سے پھیل رہا ہے ۔ آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں پر حملے کررہے ہیں۔ مسلمانوں کو فرقہ وارایت سے بھرے بیانات کی بھینٹ چڑھا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ مودی کے اشاروں پر ناچنے والا بھارتی میڈیا بھی اب کورونا جہاد جیسی جارحانہ اور مشتعل کرنے والی ہیڈ لائنز چلا رہا ہے۔

خلیجی ممالک میں آر ایس ایس کے ترجمان بھارتیوں کا اثرو رسوخ بڑھتا جارہا ہے۔ جو مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں لیکن اب دھیرے دھیرے یہ سارے کارندے جکڑے جارہے ہیں۔ گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایک بھارتی نوجوان راکیش کیترمتھ کو سوشل میڈیا پر اسلام کی توہین کرنے کے الزام میں جہاں ملازمت سے برطرفی کا سامنا کرنا پڑا وہیں ان کے خلاف پولیس کارروائی کا بھی سامنا ہے۔

اسی طرح ابوظہبی میں رہنے والے ایک اور بھارتی متیش اودیشی نے فیس بک پر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کیا جس پر انہیں نوکری سے نکال باہر کیا گیا جبکہ ایک کمپنی کے مالک سمیر بھاندری کو نوکری کی تلاش میں آئے مسلم نوجوان سے یہ مذاق بھی مہنگا پڑا جس میں اس نے پاکستان پر طنز کیا۔ سمیر کو اس اوچھی حرکت پر پولیس کارروائی سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

خلیجی ممالک بالخصوص دبئی اور ابوظہبی میں آر ایس ایس کے غنڈوں نے تاجروں اور بالی وڈ کے ذریعے اپنے پر پھیلا دیے ہیں۔ جس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اس پلیٹ فارم کو بھارتی ہی نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جائے۔ اہم کاروباری مراکز اور اداروں میں آر ایس ایس سوچ کے حامی افراد کا قبضہ ہے۔ اس وقت عرب دنیا میں کئی ایسے تاجرہیں جو در حقیقت ہندوتوا کے نظریے پر کام کررہے ہیں۔

مودی کی انتخابی مہم میں نمایاں رہنے والا بی آر شیٹی جس نے مقبوضہ کشمیر میں نازی ایجنڈے پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور وادی میں فلمی شہر بسانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ صحافی عبدل ماجد زرگر دو سال پہلے خلیجی ممالک میں آر ایس ایس کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور مسلم مخالف سرگرمیوں کو بے نقاب کرچکے ہیں ان کے مطابق کئی اداروں کے سربراہان ہندو قوم پرست ہیں۔

باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے خلیجی ممالک میں ہندوؤں کو آباد کیا گیا پورے مشرق وسطیٰ میں زیورات اور ہیروں کی تجارت پر گجراتی ہندوؤں کا قبضہ ہے۔ عرب دنیا میں رہنے والے ہندو قوم پرست ، آر ایس ایس اور اس جیسی سوچ رکھنے والی تنظیمیوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔ ہر سال آر ایس ایس کا دہشت گرد سربراہ موہن بھگوت ، دبئی ، متحدہ عرب امارات اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں کام کرنے والے ہندو قوم پرستوں کا باقاعدہ بند کمرہ اجلاس بھی کرتا ہے۔ جس میں مسلم مخالف سرگرمیاں تیز کرنے کے ساتھ ساتھ پروپگینڈا مہم پر توجہ دی جاتی ہے اور منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سرمایہ کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے جبکہ بھارتی سفارت خانہ بھی ان سرگرمیوں میں اپنی خدمات پیش کرتا رہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں