ہٹلر مودی سرکار کا ہندوتوا نظریئے کے تحت مسلمانوں پر مظالم جاری




نیوز ڈیسک: (28 اپریل 2020) بھارت میں ہٹلر مودی کی سرکار کا ہندوتوا کے نظریے کے تحت مسلمانوں پر مظالم جاری ہیں۔ مودی سرکار کی جانب سے مسلمانوں کو کورونا وائرس کا ذمے دار ٹھہرا دیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور مذہبی بنیاد پر ان پر حملے کیے جارہے ہیں۔ بھارت میں وائرس سے متاثرہ مسلمان مریضوں سے مجرموں کی طرح برتاؤ کیا جارہا ہے۔ پوری دنیا کورونا وائرس سے شدید متاثر ہے لیکن بھارت میں اس وائرس کی آڑ میں مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کے ساتھ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔

بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے۔ ہندو توا کے نرغے میں قید بھارت میں مسلمانوں پر زمین تنگ کی جارہی ہے۔ جامعہ ملیہ نیو دہلی کی ریسرچ اسکالر صفورہ زرگر کو حاملہ ہونے کے باوجود غیرانسانی طریقے سے جیل بھیج دیا گیا صرف اس بنا پر کہ انہوں نے مودی سرکار کے متنازع شہریت بل کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ بھارتی مسلمانوں پرکوورونا وائراس پھیلانے کا جھوٹا الزام لگایا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور پرتشدد واقعات میں روز اضافہ ہو رہا ہے لیکن ہٹلر مودی کے چپ سادھ کے بیٹھے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف مظالم پر ایک بھی بار قوم سے خطاب نہیں کیا۔کورونا وائرس نے تو جیسے بھارتیوں کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے۔ مسلمانوں سے ایسا امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے کہ دنیا تنقیدکررہی ہے۔ مسلمان مریض، مجرم بن کر رہ گئے ہیں۔ مسلمان دکانداروں سے کوئی چیز خریدی نہیں جارہی۔ بھارتی میڈیا اس آگ کو اور بھڑکا رہا ہے۔ مدرسوں کے خلاف بھی نفرت پھیلائی جارہی ہے۔

تبلیغی جماعت پر کورونا وائرس پھیلانے کا بے بنیاد الزام لگانےو الے بھول جاتے ہیں برطانیہ کے ایک مندر کو اس لیے بند کیا گیا کیونکہ وہاں سے کورونا کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے تھے۔ مودی کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں آر ایس ایس کی سوچ والے بھارتیوں کو اسلام مخالف بیانات پر گرفت میں لیا جارہا ہے جبکہ کویت نے بھارتی مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات پر شدید تنقید کی ہے اور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں