امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی بھارت پر سخت سفارتی پابندیوں کی سفارش




نئی دہلی: (30 اپریل 2020) امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت پر سخت سفارتی پابندیوں کے اطلاق کی سفارش کر دی جس کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شا، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پر پابندیوں کے اطلاق کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی اجراء کردہ رپورٹ میں بھارت کو بطور “تشویشناک ملک” نامزد کرنے کا معاملے کے بعد امریکی کمیشن نے بھارت پر سخت سفارتی پابندیوں کے اطلاق کی سفارش کر دی ہے۔ امریکی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان نے جان بوجھ کر مذہبی آزادی کیخلاف منظم پرتشدد کارروائیوں کی اجازت دی۔

بھارت نے بین الاقوامی مذہبی آزادی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ کمیشن نے رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ بھارتی حکومت، اداروں، حکام پر سفارتی، انتظامی پابندیاں عائد کی جائیں۔ مذہبی آزادیاں سلب کرنے میں ملوث افراد کے اثاثے منجمد، امریکا داخلہ پر پابندی عائد کی جائے۔ امریکی کمیشن نے سفارش کی ہے کہ بھارتی شخصیات کیخلاف کارروائی کیلئے مالیاتی اور ویزا حکام کو پابند بنایا جائے۔

امریکی کمیشن کی سفارش کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شا، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پر پابندیوں کے اطلاق کا امکان ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سوک سَنگھ، پولیس سمیت سرکاری حکام پر بھی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

نریندر مودی پر 2005ء میں بحیثیت وزیر اعلیٰ گجرات بھی سفری، سفارتی اور ویزا پابندیاں لگ چکی ہیں، نریندر مودی پر گجرات میں مسلم کش فسادات پھیلانے میں کردار پر پابندیاں لگی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں