سرینگر: لاک ڈاؤن کو نو مہینے، سو سے زائد کشمیری شہید، ہزار سے زائد زخمی




سرینگر: (5 مئی 2020) کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے غیر قانونی طور پر 5 اگست 2019 کو اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد سے ہندوستانی حکام نے کشمیریوں کی زندگی کو زندہ جہنم بنا دیا ہے۔ بھارتی فوج اور سیکیورٹی اداروں نے گزشتہ نو ماہ میں 100 سے زائد افراد شہید جبکہ ہزار سے زائد زخمی کر دیئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر رہائشی ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد ہونے کا قانونی جواز فراہم کرنے کے لئے، بھارت نے حال ہی میں اس علاقے کے لئے نیا ڈومیسائل قانون وضع کیا ہے۔ اس مذموم اقدام کے بعد غیر مقامی لوگوں کو تین لاکھ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دیئے گئے جبکہ مودی سرکار علاقوں کے مسلم ناموں کی جگہ ہندو ناموں سے تبدیل کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی حیثیت کو تبدیل کرکے کشمیریوں کی شناخت چھیننا ہے۔

جموں وکشمیر جو دنیا کا سب سے زیادہ بڑا عسکری زون ہے جہاں نو لاکھ سے زائد ہندوستانی ملٹری اور پیرا ملٹری موجود ہے۔ خاص طور پر پچھلے 9 مہینوں میں اسے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی فوجیوں نے گذشتہ 9 ماہ کے دوران فائرنگ، پیلٹ گنز اور تشدد سے خواتین اور بچوں سمیت 100 کے قریب افراد کو شہید کر دیا ہے جبکہ 1000 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی فوج کی روز بڑھتی ہوئے تلاشی کی کارروائیوں نے کشمیری عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔ بھارتی فوج تلاشی کے بہانے جہاں چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کر رہی ہے وہاں ظلم اور بربریت کی نئی داستانیں رقم کر رہی ہے۔ کشمیریوں کے گھر بغیر کسی جرم کے دھماکے سے مٹی کے ڈھیر بنا دیئے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کشمیر میں صحافت بھی ایک جرم بن چکاہے۔ ہندوستانی مظالم سے متعلق سچائی کی اطلاع دینے والے صحافیوں کو ہراساں اور جھوٹے مقدموں میں ملوث کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کورونا وائرس کیسوں میں اضافے کے باوجود ہزاروں حریت رہنماؤں، کارکنوں، سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے ممبران بشمول اے پی ایچ سی کے چیئرمین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبد القیوم، ڈاکٹر حمید فیاض، محمد یاسین عطائی، نور محمد کلوال، مولانا مشتاق ویری، بشیر احمد قریشی، سید امتیاز حیدر، عبد الصمد انقلابی، عبد الاحد پارہ، محمد یوسف میر، محمد رفیق گنائی، فیروز احمد خان اور انسانی حقوق کے کارکن محمد احسن اونٹو بھی جیلوں میں ہیں یا نظربند ہیں۔

تہاڑ اور ہندوستان کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظربند دیگر افراد میں سینیئر حریت رہنما، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، مسرت عالم بٹ ، سیدہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، الطاف احمد شاہ، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ ، راجہ معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، کشمیری تاجر ظہور وتالی، محمد اسلم وانی، سید شاہد شاہ، سید شکیل یوسف شاہ، غلام محمد بٹ، مولانا سرجن برکاتی، محمد یوسف فلاحی، ظہور احمد بٹ اور غلام احمد گلزار انہیں مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان میں مختلف جیلوں میں غیر قانونی نظربندیوں کا سامنا ہے۔

بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وادی میں انٹرنیٹ پر مسلسل پابندی کے باعث کشمیریوں کے آن لائن کاروبار تباہ ہو گئے ہیں جبکہ دنیا بھر میں موجود کشمیری اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرنے سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ ہندوستان نے 05 اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز بند کی ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں