مسئلہ کشمیر عسکری نہیں بلکہ سیاسی، بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل ہوسکتا ہے، رضوان سعید شیخ




ریاض: (10 مئی 2020) اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی میں پاکستان کے مستقل مندوب رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی گزشتہ پچاس سال سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کیلئے کوشاں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاک میڈیا فورم ریاض کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نو ماہ سے جاری کرفیو اور بھارتی مظالم کے حوالے سے آن لائن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس کانفرنس میں جہاں پاک میڈیا فورم کے صحافیوں نے شرکت کی وہیں سیاسی و سماجی اور مذبی جماعتوں کے ارکان بھی شریک تھے۔

اس موقع پر او آئی سی میں مستقل پاکستانی مندوب رضوان سعید شیخ نے کہا کہ بھارت مسلسل کرفیو اور لاک ڈاؤن کر کے کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھے ہوئے ہے اور کشمیر کی آئینی شناخت کو ختم کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ کشمیر سمیت بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ناروا سلوک اور ان کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر جہاں جارحیت کی نئی مثالیں قائم کر رہا ہے وہیں بھارت عالمی برادری کے سامنے اوچھے ہتھکنڈوں کی بدولت بے نقاب ہوچکا ہے۔ دنیا اس کے عزائم سے بخوبی واقف ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج انٹرنیشنل میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کے خلاف ہیں، مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر رہے ہیں اور کشمیریوں کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایسے ہی اقوام متحدہ کے بعد اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی واحد ایسا پلیٹ فارم ہے جو گزشتہ پچاس سالوں سے کشمیری عوام کے امنگوں کی مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی حمایت کر رہا ہے اور موجودہ وقت میں بھی بھارت میں اسلامو فوبیا کی بھرپور مذمت اور مسلمانوں کو ان مے حقوق دینے کی بات کر رہا ہے۔

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہوچکا ہے اور دنیا مسلسل بھارتی کاروائیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ بھارت کے اندر سے بھی اب توانا آوازیں اٹھنا شروع ہوچکی ہیں جو کشمیریوں کے حق خودارادیت کی بات کر رہی ہیں۔ مودی سرکار آر ایس ایس کے نظریات کی پیروکار ہے مگر یہی نظریات بھارت کو دنیا میں تنہا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کیا جاسکتا ہے۔ اگر عسکری طور پر مسلہ کشمیر حل ہوسکتا تو بھارت کی آٹھ لاکھ فوج وادی میں موجود ہے، وہ حل کر چکی ہوتی مسئلہ کشمیر کشمیریوں کو حق خودارادیت دیئے بغیر حل نہیں ہوسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں