متنازع علاقے میں سڑک کی تعمیر پر نیپال کا بھارت سے احتجاج




کٹھمنڈو:(11 مئی 2020) نیپال نے بھارت کی جانب سے متنازع علاقے میں سڑک کی تعمیر پر شدید احتجاج کیا ہے، یہ سڑک بھارت کیلئے چینی سرحد کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیپالی حکومت نے بھارت کی جانب سے سڑک کی تعمیر اور افتتاح پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سڑک کی تعمیر متنازع علاقے میں کی گئی ہے،سڑک کا باقاعدہ افتتاح بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آٹھ مئی بروز جمعہ کیا تھا۔

متنازع علاقے سے گزرنے والی سڑک بھارتی ریاست اتراکھنڈ کو سرحدی مقام دھارچُولا سے ملاتی ہے،دھارچولا کا اسٹریٹیجک مقام درہ لپو لیکھ میں واقع ہے،یہ درہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے بہت قریب ہے،بھارت اور چین کی سرحد کو لائن آف ایکچوئل کنٹرول کہا جاتا ہے۔بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ اس سڑک کی تعمیر سے ہندو زائرین کے نزدیک مقدس خیال کئے جانیوالے مقام کیلاش اور انتہائی بلند مقام جھیل مانسرور تک رسائی میں آسانی ہوگی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سڑک کی تعمیر نے کیلاش کے دور افتادہ مقام تک پہنچنے کے وقت کو بھی کم کردیا ہے،کیلاش کے راستے پر واقع قدیمی مندروں کو بھی ہندو عقیدت مند متبرک قرار دیتے ہیں۔دوسری جانب نیپالی حکومت نے اپنے احتجاجی بیان میں کالا پانی اور بشمول سڑک کی تعمیراس سارے مقام کو اپنا علاقہ قرار دیا ہے،نیپالی دارالحکومت کھٹمنڈو میں بھارتی سفارت خانے کے باہر ہونیوالے مظاہرے کو منتشر کرنے کے دوران پولیس نے اڑتیس مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔

یاد رہے کہ نیپال نے نومبر دو ہزار انیس میں بھارت سے احتجاج کیا تھا جب بھارتی نقشہ میں کالا پانی کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں