چار سُو شامِ غم۔۔کوبکو کربلا _ ج۔ا




ٹوئٹر کی ٹی_ایل اسکرول کرتے ہوئے ایک خبر پر نظر پڑی۔۔ انگلیاں ادھر ہی رک گئیں اور دل کٹ سا گیا۔۔خبر تھی کابل (افغانستان) میں حملہ کی وہ بھی ایک میٹرنٹی ہاسپٹل پر۔۔!!
پہلے پہر تو یقین ہی نہیں آیا لیکن پھر یاد آنے لگا وہ کربلا کا میدان، وہ سارے ظالم جنہوں نے بچوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا، وہ اسکول جسکو خون سے رنگ دیا گیا، وہ کشمیر، فلسطین اور شام کے معصوم بچے جنہوں نے ابھی دنیا کو دیکھنا، کھلونوں سے کھیلنا اور ہنسنا بولنا تھا۔ انسان نما حیوانوں کو انکا خیال نہیں آیا تو ان کے لئے ایک اسپتال کو نشانہ بنانا کوئی مشکل نہیں! ذرا سوچیں اس وقت کو جب یہ ننھی کلیاں، معصوم پھول اللہ کے حضور پیش ہونگے تو کیا اللہ کا غضب نازل نہیں ہوگا۔۔۔۔۔رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اذیت نہیں ہوگی۔۔؟؟
ہم خود اللہ کے غضب کو دعوت دے رہے ہیں۔۔ ان بچوں کا آخر قصور ہی کیا تھا، کیا چاہتے تھے وہ ان سے؟؟ ان ننھے بچوں کو خون میں دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا تھا جن کو دنیا میں آتے ہی ان ظالموں نے اپنی بیغیرتی کا نشانہ بنا لیا۔ ہر دور میں یہ لوگ پائے جاتے ہیں کبھی وہ کربلا کا میدان ہوتا ہے تو کبھی اسکول، کبھی وہ مدرسہ ہوتا ہے تو کبھی کابل کا اسپتال۔۔اس سے پہلے وہ کتنے ہی بچوں کو موت کے منہ میں اتار چکے ہیں لیکن شاید اپنے انجام سے بے خبر ہیں۔۔ سننے میں یہ آیا ہے کہ افغانستان اور امریکہ کے امن معاہدہ کو خراب کرنے کے لئے کیا گیا اور کہہ رہے ہیں کہ ذمہ داری داعش نے قبول کی لیکن الزام طالبان پہ ڈال رہے ہیں، باقی یہ کہ اکثریت کا یہ ماننا ہے کہ اس کے پیچھے را ہے۔۔
وللہ عالم اس کے پیچھے کون ہے لیکن جو کوئی بھی ہے اللہ غارت کرے انہیں۔ اللہ نے ڈھیل دے رکھی ہے تو اسکا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔۔پیش تو آخر اسی کے سامنے ہونا ہے نا جو رحمن و رحیم کے ساتھ ساتھ قہار اور جبار بھی ہے!! اللہ تعالی نے آخرت ایسے ہی لوگوں کے لئے بنائی ہے جہاں وہ ایک نہیں بلکہ کئی موتیں مانگے گے لیکن اللہ کا عذاب مکمل طور پہ ان پر مسلط ہوگا۔۔ اور اللہ تعالی خود کہتے ہیں کہ “وہاں انہیں پتہ چل جائے گا وہ کیا کرتے رہے ہیں۔” (القرآن)

اپنا تبصرہ بھیجیں