شام میں دہشت گرد ملیشیا کا خوفناک ظلم – یوسف سراج




شام میں دہشت گرد ملیشیا نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی قبر کھود ڈالی، ساتھ ان کی بیوی اور خادم کی بھی، یہ کام سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے حب کا دعویٰ کرنے والوں نے کیا۔ کیسا کام کیا!
تاریخ میں عمر بھی کیا انوکھا کردار تھے، باری کب آئی مگر گنے پانچویں خلیفہ جاتے ہیں، ایسی سعادت بھی کسی کو کب ملتی ہے؟ تنعم و تفاخر ایسا تھا کہ ان کی چال عمری چال کہلاتی اور لڑکیاں اسے سیکھا کرتیں، لباس قیمتی پہنتے اور دوسری بار نہیں، مگر خلیفہ بنے تو سب چھوڑ دیا، پھر زندگی ایسی ہو گئی کہ دل اشکبار ہو اٹھتا ہے، عید کے دن گھر میں بچے کپڑوں کو ترستے تھے، کسی نے کہا تنخواہ ایڈوانس لے لیجیے، خازن کہنے لگا، کیا آپ آئندہ زندگی کی ضمانت دیتے ہیں، کہا تم نے میری آنکھیں کھول دیں۔ عمر بن عبد العزیز جیسی نیک نامی بھی تاریخ میں کسی کے حصے میں نہیں آئی، بے لاگ اور بےباک احتساب کیا، قناعت و احتیاط کی ایسی زندگی گزاری کہ فوت ہوئے تو بیٹے فاقوں میں تھے، ذاتی کام کیلیے سرکاری چراغ بجھا دیتے۔
ایسے بھی لوگ کبھی تھے، اور عمر بن عبد العزیز ایسے ہی تھے۔ صدیاں گزر گئیں، ان کی قبر باقی تھی، اب مگر کھود ڈالی گئی، یعنی عقل کی، علم کی، سخاوت کی، محبت کی، فضیلت کی، عدل کی، جرات کی، بڑائی کی ،تاریخ کی اور اللہ کے ولی کی قبر کھود ڈالی گئی۔
اچھا! بڑا تم نے کارنامہ کیا، پر یاد رکھو، ان کا مقام تاریخ میں ہے، کوشش کرو، طاقت ہے تو وہاں سے بھی کھود ڈالو، مگر سنو! عمر کا مدفن تو تاریخ کے سنہرے اوراق اور امت کے پاکیزہ دل ہیں۔ تمھاری تو سانسیں ہی بدبودار اور مردار ہیں، تم تو بے قبر زندہ لاشیں ہو، جاؤ اب اپنے لیے کوئی قبر ڈھونڈنے کی کوشش کرو۔ مجھے لگتا ہے، عمر کی قبر کھودنے والوں کو سوائے لعنت و ملامت کے کوئی دوسری قبر پناہ نہ دے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں