امریکا، مظاہروں میں شدت, 25 شہروں میں کرفیو، کئی ریاستوں میں نیشنل گارڈز تعینات




نیویارک: (1 جون 2020) امریکا میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کے قتل کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاج جاری ہے۔ پچیس امریکی شہروں میں کرفیو نافذ جبکہ حالات سخت کشیدہ۔ کئی ریاستوں میں نیشنل گارڈز تعینات۔

امریکا میں نسلی امتیاز اور تعصب کیخلاف پرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئے۔ 25 امریکی شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ حالات سخت کشیدہ ہیں۔ نیویارک میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ مختلف شہروں میں مشتعل افراد نے درجنوں گاڑیاں اور عمارتوں کو آگ لگا دی۔لاس اینجلس میں پولیس کا مظاہرین پر لاٹھی چارج جبکہ مینا پولس میں پولیس نے صحافیوں پر بھی ربڑ کی گولیاں چلا دیں۔ امریکہ بھر سے مظاہروں کے دوران اب تک4 ہزار سے زائد افراد گرفتار کیئے جا چکے ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق لاس اینجلس سے ہے۔ منیسوٹا، اٹلانٹا، ٹیکساس، کیلیفورنیا، کولمبیا میں نیشنل گارڈز تعینات کر دیئے گئے۔ملک گیر مظاہروں میں لاکھوں افراد کی شرکت کی جبکہ احتجاجی تحریک میں نہ صرف سیاہ فام بلکہ سفید فام بھی موجود ہیں۔ کوئنز میں پولیس اہلکار بھی مظاہرین میں شامل ہو گئے۔ پچیس مئی کو منیسوٹا میں امریکی پولیس نے تشدد کرکے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کو قتل کیا تھا۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر سیاہ فام افراد پر بدترین پولیس تشدد کی متعدد ویڈیوز وائرل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں