امریکہ میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ مسلسل چھٹی رات بھی جاری




ویب ڈیسک: (یکم جون 2020) امریکہ میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ مسلسل چھٹی رات بھی جاری رہا۔ ہزاروں مظاہرین تاریخ میں پہلی بار وائٹ ہاؤس میں گھس گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو رات بنکر میں گزارنا پڑی۔ لندن اور دیگر یورپی شہروں میں بھی مقتول جارج فلوئڈ کے خاندان سے اظہار یکجہتی کیلئے احتجاج کیا گیا۔

امریکی ریاست منی سوٹا میں سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف امریکہ بھر اور دنیا کے دیگر ملکوں میں احتجاج جاری ہے۔ افریقی نژاد امریکی شہری جارج فلؤئڈ کو منگل کی رات منی ایپلس شہر میں پولیس اہلکاروں نے قتل کیا تھا۔ جارج کی ہلاکت کے بعد یہ مظاہرے بدھ کے روز شروع ہوئے تھے۔

حکام نے تقریباً 40 شہروں میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ کرفیو کے باوجود ہزاروں افراد احتجاج کر رہے ہیں۔ اتوار کی رات نیو یارک، شکاگو، فلاڈلفیا، لاس اینجلس اور واشنگٹن میں بڑے مظاہرے دیکھے گئے۔

پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کیلئے آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار مظاہرین وائٹ ہاؤس میں گھس گئے۔ امریکی صدر ٹرمپ کو رات خفیہ بنکر میں گزارنا پڑی۔

مختلف شہروں میں مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا اور دکانوں میں لوٹ مار بھی کی۔ منی ایپلس کے مقتول جارج فلاؤڈ کے خاندان سے اظہار یکجہتی کیلئے نیوزی لینڈ، لندن، جرمنی اور یورپ کے ملکوں میں ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے امریکہ میں سیاہ فاموں سے رویہ درست کرنے اور پولیس مظالم ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں