رب کی ناراضی اور آندھی – بنت شیروانی




ارم کے بچے کو بخار تھا …… اسلۓ آج گھر کے تمام کام کافی دیر سے ہورہے تھے. بچے کے ساتھ رات کو جاگنے کی وجہ سے صبح ذرا دیر سے اٹھی۰پھر اس کے اٹھتے ہی بچہ بھی اٹھ گیا۰ بخار میں تپتے بچے کا اٹھنا تھا کہ گھر میں ریں ریں کی ملہار گونجنے لگی کہ بچہ بہت چڑچڑا ہوگیا تھا۰
اسی لۓ آج وہ رات کو جھاڑو پوچھا کر رہی تھی…… جب بچہ ذرا دیر کے لیۓ اس کی گود سے اترا . ابھی وہ پونچھا دھونے کھڑی ہی ہوئی تھی کہ آنے والی تیز ہوا کےساتھ مٹی نے پورے گھر کو مٹی مٹی کر دیا۰وہ غصہ کرنے ہی والی تھی کہ کسی نے کھڑکیاں کھولیں اور جھاڑو لگانے کی محنت پر پانی پھیر دیا…… ساتھ ہی تیز ہواؤں کے چلنے کی بھی آواز آئی۰اب تو وہ غصہ بھول کر بس تیز ہواؤں سے کافی ڈر گئی۰ادھر بچے نے بھی رونا شروع کر دیا کہ دھول مٹی بچے کے ناک اور منہ میں جارہی تھی. تیز قدم اٹھاتی ارم کھڑکی پر گئی اور اسنے باہر جھانکنا چاہا تو اسے کھڑکیاں بھی ہلتی محسوس ہوئیں۰اور اس کی نظروں کے سامنے درخت بھی گرنے لگے۰ آندھی و طوفان کے وقت کی دعا تو اسے یاد نہ تھی۰ بس تیز ہواؤں کی آوازوں،بچے کے زور دار رونے کی چیخوں ،تو تیز آتی آندھی نے ایک خوف کی فضا قائم کر دی تھی۰ لمحوں پہلے وہ جو ذرا بچے کے بہل جانے اور گھر کا صاف ستھرا ہو جانے پر خوشی محسوس کر رہی تھی۰ ایک دم سے خوف زدہ ہوگئ اور سوچنے لگی کہ
“اللہ جی !آپ کا یہ قہر……! جانے کس کس گناہ پر ناراضگی کے سبب ہوگا؟؟ آندھی کی دعا کے الفاظ بھول بھال جلدی جلدی استغفار کا ورد شروع کردیا ……. ورد کرتے ہوۓ اچانک ہی اس کی نگاہوں میں چند دن قبل خاندان کی ایک تقریب کے مناظر گھوم گۓ۰خوشی کے نام پر اللہ کی حدود سے تجاوز دیکھ کر دل کڑھا ضرور مگر اتنی ہمت نہ کی کہ کم از کم اپنی چند بےتکلف کزنز کوہی نرمی سے ستر کی پاسداری کا خیال دلاتی, یا کسی بزرگ سے کہہ کرموسیقی کے بےہنگم شور کو قدرےمدھم کرنےکی بات کرکے دیکھ لیتی….. کیا معلوم کسی کا احساس جاگ جاتا, کیا معلوم کسی اور کےدل میں دبی نیکی اسکی اسکی ہمنوا بن جاتی…! دل میں برا جان کر خاموش تماشائی بننے پر آج اسکا ضمیر اسے ملامت کرنے لگا.رشتہ داروں سےکٹنا بھی تو اللہ کو پسند نہیں,کٹ جائیں تو ان تک دینی شعور پہنچانےکا رستہ خود بند کرنےکےگنہگار الگ…!
اور اسے لگا کہ کہیں یہ سب تو ……. رب کے قہر اور اس کی ناراضی کا سبب نہیں۰کہیں انھیں غلطیوں یا رب کے ان احکامات کو نہ ماننے کے سبب اپنے پیدا کرنے والے کو ناراض تو نہیں کردیا! اور وہ ارادہ کرنے لگی کہ کم از کم وہ لباس کے معاملے میں ہی اپنے ستر کا خیال کرے گی ۰چاہے وہ ساڑھی پہنتے وقت پیٹ اور کمر کا نہ نظر آنا ہو یا سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کو ڈالنا ہو۰ کہ میرے اس عمل سے رب کی رحمتوں کا نزول ہوجاۓ۰

اپنا تبصرہ بھیجیں