مثبت وجود – بنت شیروانی




ٹیکسی میں بیٹھے ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ ڈرائیور نے ٹیکسی کی رفتار کو نہایت ہی آہستہ کر دیا……..
دیکھنے پر معلوم ہوا کہ آگے گاڑیوں کی لمبی قطار لگی ہوئی ہے اور ہم ٹریفک میں بری طرح پھنس چکے ہیں …… بچوں نے ڈرائیور انکل سے ٹریفک کے جام ہونے کی وجہ پوچھی تو انکل نے سر ہلا دیا. جس سے بچوں کی یہ سمجھ میں آئئ کہ انکل کو بھی نہیں معلوم….. اب ہمیں ٹریفک میں پہ پھنسے تقریباً دس منٹ ہونے لگے تھے اور ان دس منٹوں میں ٹیکسی دو سے تین انچ ہی اپنی جگہ سے ہلی تھی …..او ر اس دوران بچے انتہائی بیزاریت کا شکار ہو چکے تھے……..کہ اتنے میں ہمارے صاحبزادے ڈرائیور انکل سے کہنے لگے انکل آپ پہلے google پر چیک کر لیا کریں کہ جس راستے سے آپ کو جاناہے ، ادھر ٹریفک تو جام نہیں ……انکل نے کہا بیٹا میرے پاس انٹرنیٹ نہیں ہے….تو دوسرے صاحبزادے فرمانے لگے،
انکل کسی بھی بڑی coffee shop پر انٹرنیٹ کی سہولت ہوتی ہے …آپ وہاں سے استفادہ حاصل کر لیا کریں جس پر انکل نے تم لوگوں کے مشوروں کا شکریہ کہ کر بچوں کی باتوں سے جان چھڑای اسی اثناء میں بڑے صاحبزادے کہنے لگے کہ امی ہم ٹیکسی سے اتر کر پیدل چلتے ہیں ……زیادہ دور تھوڑی جانا ہے ہم بھی چونکہ بیٹھے بیٹھے اکتا چکے تھے لہذا فوراً ہی ٹیکسی والے کو رقم ادا کر کے پیدل چلنے لگے……..ابھی تھوڑی ہی دور گۓ تھے کہ چھوٹے صاحبزادہ کو پیاس لگنے لگی….. ہم نے قریب کی دکان سے انھیں پانی خرید کر پلادیا……اس کے بعد مزید آگے ذرا سا فاصلہ طے کیا تھا کہ چھوٹے صاحبزادہ نے آگے پیدل چلنے سے صاف انکار کر دیا کہ ٹانگوں میں بہت درد ہورہا ہے. آگے ایک قدم بھی نہیں چل سکتا جبکہ ہمیں ابھی اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لۓ مزید چند میٹر پیدل چلنا باقی تھا اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر یہ سواریاں نہ ہوتیں تو ہمارا کیا حال ہوتا…….!
کیا ہم نے کبھی کہیں بھی آنے جانے کےلۓ ٹیکسی،رکشہ ، بس کو استعمال کرتے وقت اس رب کاشکریہ ادا کیا اور ان چیزوں کو بنانے والوں کے لۓ کوئ دعا کی؟؟ اور خود انسانوں کی آسانیوں کے لۓ کوئی چیز ایجاد کرنے کاارادہ کیا؟؟ جس سے آنے والے انسان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۰
یا کسی دوسرے انسان کو کسی اچھی اور مثبت چیز کے وجود میں لانے کا سوچنے پر اکسایا؟؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں