تخیلاتی دوست – ہمایوں مجاہد تارڑ




سوال: ہمایوں بھائی ، میرے ساڑھے تین سالہ بچے کا مسئلہ ذرا مختلف نوعیت کا ہے ۔ کھانے کی میز پربیٹھا وہ کسی ان دیکھی مخلوق سے باتیں کیا کرتا ہے ۔ اسی طرح ، گھر کے کسی کونے میں بیٹھا وہ جب کھلونوں سے کھیلتا ہے تو اپنے بھالو والے سٹفّی کے ساتھ مشاورت کرتا نظر آئے گا ۔ یہ کیا ہے ؟ کیا سب بچے ایسا کرتے ہیں ؟ کیا یہ کوئی ایبنارمیلٹی ہے ؟ وہ پہلے تو ایسا نہیں تھا ، تقریباً پچھلے دو ماہ سے ایسا رویہ دیکھنے میں آ رہا ۔

جواب: اس معاملہ میں ریسرچ یہ کہتی ہے کہ ایسے بچوں نے تصوراتی دوست بنا رکھے ہوتے ہیں ۔ یہ دوست ایک صحت مندانہ اورمتحرک تخیل سے پھوٹتے ہیں ۔ جو تفصیل آپ نے شیئر کی ، اس کے مطابق بچے کی زندگی میں آپ اِسے ایک خوشگوار ، صحت مندانہ تجربہ گردانیے ، یہ ایبنارمل رویہ نہیں ہے ، قطعی نارمل بات ہے ۔ ایسے ایلیئن دوست جنہیں ہم imaginary friends یا pretend friends کہتے ہیں ، ہمارے بچوں کو احساسات اور جذبات کے اظہار کے لیے ایک مزے دار راستہ یا چینل فراہم کرتے ہیں۔ تحقیق یہ کہتی ہے کہ ہر تین میں سے دو بچے تصوراتی قسم کے دوست رکھتے ہیں جن سے وہ باتیں کیا کرتے ہیں ۔ خالی پیالیوں میں چائے انڈیل کر گڑیا سے کہنا کہ جلدی پی لو ورنہ ٹھندی ہو جائے گی ، ایسی ہی ایک مثال ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے، یہ تخیلاتی دوست کون ہوتے ہیں، کہاں سے آتے ہیں؟

ایسا کردار کسی سٹوری بُک سے آسکتا ہے ، سامنے پڑا کھلونا بھی ہو سکتا ہے، یا کوئی بالکل نیا کردار بچے کے تصوّر سے جنم لے سکتا ہے۔ یہ ہر سائز ، حجم اور شکل کا ہو سکتا ہے۔ ایسا کردار ہمہ وقت موجود رہ سکتا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے وہ آتا جاتا رہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسا تخیلاتی دوست عام طور پر اڑھائی سال کی عمر میں ظاہر ہوتا ہے اور چھ سات ماہ تک رہ سکتا ہے۔ بچہ جب آسانی سے حرکت کرنے، بھاگنے دوڑنے لگ جاتا ہے تو یہ fantasy friend یا make-believe friend اس کی دنیا سے رُخصت ہو جاتا ہے۔ گویا تین سال، ساڑھے تین سال حد ہے جب تک ایسے دوست بچے کی دنیا کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اس عمر سے بڑے بچوں کی دنیا میں بھی ایسے کردار دیکھے گئے ہیں جو خوف ، خوشی ، فرسٹریشن ، اضطراب یا کسی خاص مقصد کی پیداوار ہو سکتے ہیں۔ پہلے ہم اِس کے خوشگوار پہلو پر بات کرتے ہیں چونکہ آپ والا کیس ایک نارمل کیس ہے۔

بچہ ایسے تصوراتی دوست کیوں بناتا ہے؟ اُس دوست سے بچے کو کیا ملتا ہے؟ ایسا ایک تصوراتی دوست وہ ہوتا ہے جو:

بچے کی پوری بات سنتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔
بچے کے ساتھ اُس کا من پسند کھیل اُس کے من پسند وقت پر کھیلتا ہے۔
بچے کے وہ کام کر کے دے سکتا ہے جنہیں بچہ خود نہیں کر سکتا۔
بہت خاص ہوتا ہے، اورصرف اس بچے کی ملکیت میں ہوتا ہے۔
بچے کو کسی بات پر نہیں ٹوکتا، اُس پر تنقید نہیں کرتا، اس کی ہر بات مانتا ہے۔

گویا بچہ اپنے تخیلاتی دوست کے ہر عمل ، ہر بات کا مختارِ کل ہوتا ہے۔ اُس ایلیئن مخلوق کو کیا سننا ہے، کیا کرنا ہے، کس سے باتیں کرنی ہیں ۔ سب اِس بچے کی مرضی سے ہوتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ تخیلاتی دوست رکھنے والے بچے اپنے مزاج میں زیادہ سوشل ہوتے ہیں، اور کھیل کے دوران دیگر بچوں کے احساسات کو سمجھنے اور اُن کا خیال رکھنے والی empathy سے مالا مال ہوتے ہیں۔ انجامِ کار وہ ایسے بالغ افراد کے بطور پروان چڑھتے ہیں جو دوسروں کی ضرورتوں کا خیال کیا کرتے ہیں۔ اب یہ بات کہ خود ہمارا رد عمل اور طرزِ عمل کیا ہو جب بچہ ایسے تخیلاتی دوست رکھتا ہو؟ ایسا بچہ بعض اوقات آپ سے مطالبہ کرے گا کہ آپ اُس کے دوست کے لیے دروازہ کھولیں، بستر لگائیں، کھانے کی میز یا دسترخوان پر اس کے لیے جگہ بنائیں، الماری یا دراز میں سے بسکٹ نکال کر دیں وغیرہ۔

آپ کا طرزِ عمل یہ ہونا چاہئیے کہ آپ یہ سارے کام خود بچے سے ہی کرنے کو کہیں۔ وہ خود دروازہ کھولے، بستر لگائے، دراز کھول کر بسکٹ نکالے وغیرہ۔ ایسا کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ آپ اُس کے تخیلاتی دوست کو قبول کرتے ہیں اور اس کی ضروریات کا احترام کرتے ہیں۔ ثانیاً ، اِن کاموں سے آپ کے بچے میں اہم skills پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً دراز کھولنا، بسکٹ کا پیکٹ نکال کر اُسے درست طور کھولنا (نہ کہ بے ہنگم انداز میں پھاڑنا)، بستر والی بیڈ شیٹ سیدھی کرنا تا کہ اُس میں جھریاں نظر نہ آئیں، یہ سب سکلز ہیں۔ بعض اوقات ایسے بچے بار بار یہ کہہ کر تنگ کر سکتے ہیں کہ آپ اُن کے تخیلاتی دوست سے باتیں کریں، اُس سے یہ پوچھیں، وہ پوچھیں۔
دن بھر میں ایک دو مرتبہ ایسا کر دینے میں حرج نہیں ۔

تاہم ، آپ کی جان تنگ پڑے تو جواب یہ ہونا چاہئیے : “میں یہ چاہتی ہوں کہ آپ خود اپنے دوست کو یہ بتائیں …….. اچھا اس سے پوچھیں ، کیا آپ نے ٹام اینڈ جیری والا کارٹون دیکھا ہے؟ اگر نہیں دیکھا تو اس کو دکھائیں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں