گردوں کے فیل یا ناکارہ ہوجانے کے بعد اس کا آسان اور حیرت انگیز علاج




گردے فیل ہو جانا یہ انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہوتا ہے اور یقیناً جان لیوا عارضہ ہوتا ہے۔جن کے گھر میں ایسے مریض ہوں بس انہی کو یہ درد محسوس ہوتا ہے دوسروں کو نہیں ۔ اس لیے آج کی یہ تحریر پڑھ کر ایک بار ضرور شئر کردینا تاکہ ہوسکتا ہے کسی کی جان بچ جائے.

کراچی میں رہائش پذیر نوجوان جو گردے ناکارہ ہوجانے کے باعث کراچی میں موجود ملک کے مہنگے ترین اور معروف ترین ھسپتال میں گردے ناکارہ ھوجانے کے بعد داخل تھے اورانکے اھل خانہ سخت پریشان تھے اور ڈاکٹروں نے واضح کردیا تھا کہ ڈائلایسس (dialysis) کے سوا مزید کوئی راستہ نہیں، اھل خانہ نے سخت پریشانی اور مایوسی کے عالم میں ایک بزرگ تک رسائی حاصل کی اور ان سے دعا اور دوا کی درخواست کی تو انہوں نے گردے ناکارہ ھوجانے کا ایک آسان غذائی علاج بتایا جو انہوں نے فوری طور پر شروع کیا اور ایک تیز رفتار شفاء کا سلسلہ مریض میں مشاھدہ کیا……. واضح رھے ابھی ڈائلایسس (dialysis) کا آغاز نہ ھو سکا تھا کہ وقفے وقفے سے ھونے والے ٹیسٹ اور رپورٹس دیکھ کر کہ Creatinine اور Urea تیزی سے کم ھونے لگا حتیٰ کہ پوری طرح نارمل رینج میں آگیا، یہ صورت حال جان کر ڈاکٹروں نے حیرت کا اظہار کیا اور آخر کار مریض کو پوری طرح فٹ قرار دے کر ھسپتال سے فارغ کردیا….

یہاں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ میں اس نوجوان کی صحت یابی کا ذاتی گواہ بھی ہوں، علاج جو ان عالم دین نے عطا کیا وہ کیا تھا ؟‌ملاحضہ ہو.سهانجنے (Moringa Leaves) جسے سجنا بھی کہتے ہیں کی بہت سی پتیاں سائے میں پوری طرح خشک کرکے اسکو پیس کر پاوڈر بنا لیا جائے اور مریض کو روزانہ ایک چمچہ صبح شام پانی کے ساتھ استعمال کرایا جائے اور اسی آسان طریقہ علاج سے آج مریض پوری طرح شفایاب ہے الحمد اللہ… اسکا تیار شدہ پاؤڈر بیرونی ممالک سے بھی آتا ہے جو بڑے اسٹورز پر (Moringa Leaves Powder) کے نام سے دستیاب ہے…. اسکے سائے میں سکھائے ھوۓ پتوں کا پاوڈر نہایت طاقت ور ٹانک بھی ھے، ھر طرح کی طاقت حاصل کرنے کے لئے اسکا استعمال دنیا کے کئی ممالک میں رائج ہے…. اللہ نے انسان کو دو گردوں سے نوازا ہے۔

یہ اصل میں غدود ہوتے ہیں پسلیوں کے نیچے، پیٹ کی طرف، کمرمیں دائیں اور بائیں طرف واقع ہوتے ہیں۔گردہ 11 سینٹی میٹر لمبا، کم و بیش7 سینٹی میٹر چوڑا اور 2 یا 3 سینٹی میٹر موٹا ہوتا ہے۔ ہر گردہ میں 10 لاکھ سے زائد نالی دار غدود ، نیفران ،یا فلٹر(جھلی) ہوتے ہیں، گردوں میں ایک اندازے کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 1500 لیٹر خون گزرتا ہے . گردوں کا کام جسم سے فاسد ،نقصان دہ، ضرورت سے زائد مادوں کو خارج کرنا ہے۔ گردے جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن برقرار رکھتے ہیں، مثلاََ جسم میں کیلشیم، پوٹاشیم ا ور فاسفورس کی مقدار کے علاوہ پانی اور دیگر نمکیات وغیرہ کا ایک حد تک جسم میں رہنا ضروری ہوتا ہے اس کی کمی و بیشی سے بہت سے امراض جنم لیتے ہیں ،انسان زندہ نہیں رہ سکتا، گردوں کا کام ان مادوں ،نمکیات اور پانی میں توازن قائم رکھنا ہے۔ گردے جسم کے لیے ایسے بہت سے مفید ہارمون پیدا کرتے ہیں ،اگر یہ ہارمون جسم میں کم ہو جائیں تو خون کی کمی کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔

گردے فیل ہونے کی بہت سی وجوہا ت ہیں جن میں چند اہم درج ذیل ہیں۔۔۔۔۔
گردے کی جھلی کی سوزش، جھلی فلٹر یا نیفران کی ایک طرف فاسد مادے ہوتے ہیں دوسری طرف شفاف مادے جھلی کا کام فاسد مادوں کو فلٹرکرنا ہے، یہ جھلی اگر کام نہ کرے، کسی وجہ سے خراب ہو جائے تو اس کے ساتھ والی جھلیاں بھی خراب ہونا شروع ہو جاتیں ہیں جس سے گردہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اس سے پیشاپ کے اندر چربی یا خون آنا شروع ہو جاتا ہے گردہ فیل ہونے کی سب سے زیادہ وجہ جھلی کی سوزش ہی بنتی ہے۔ دوسری وجہ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر ہے ،اگر شوگر کا مرض ہو تو اس کے عموماََ 10 تا 15 سال کی مدت کے بعد گردوں کی خرابی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے شوگر کے مریضوں کو بہت احتیاط کرنی چاہیے اور شوگر کنٹرول رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اسی طرح بلڈ پریشر کی زیادتی کی وجہ سے بھی گردے خراب ہو جاتے ہیں، بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنا بلڈ پریشر کنٹرول رکھنا بے حد ضروری ہے ایسا نہ کرنے سے گردوں کے ساتھ ساتھ دل کا دورہ اور فالج بھی ہو سکتا ہے۔

موسم گرما میں جسم کو پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، کم پانی پینے سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور موسم سرما میں سردی کی وجہ سے کم پانی پیا جاتا ہے، جس سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے جو گردوں میں پتھری کا سبب بنتا ہے، یہ پتھری پیشاب کے ذریعہ خارج نہیں ہو سکتی، گرودوں کی جھلی میں زخم بنتے ہیں ، جو سوزش کا باعث بن جاتے ہیں جو رفتہ رفتہ گردوں کے فیل ہونے کی طرف بھی لے جاتے ہیں ۔یعنی پانی کی کمی گردوں کے فیل ہونے کا تیسرا بڑا سبب ہے۔ جھلی کی سوزش، شوگر، بلڈ پریشر، پانی کی کمی وغیرہ دیکھا جائے تو یہ سب پانی کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے علاوہ ازیں پانی کا صاف نہ ہونا بھی اس میں شامل ہے۔

یہ تو مختصر ذکر گردوں کے فیل ہونے کی وجوہات کا تھا . اسی طرح گردوں کے فیل ہونے کی اقسام بھی ہیں مثلاََ اچانک گردوں کا فیل ہو جانا ، اس کی وجہ شدید گرمی میں پانی کی شدید کمی ، خواتین میں زچگی کے دوران خون اور پانی کی کمی ، ہائی بلڈ پریشرکا شدید دورہ اور سانپ کے کاٹ لینے اور بہت زیادہ مشقت کرنے وغیرہ سے اچانک گردے فیل ہو سکتے ہیں ۔ ایک اہم نقطہ یہ بھی قابل توجہ ہے کہ شوگر ، ہائی بلڈ پریشر ، جھلی کی سوزش وغیرہ سے مریض کے گردے پہلے سے کمزور ہوتے ہیں اس پر ذرا سی اونچ نیچ ، مثلاََ ناموافق دواکھا لینا ، بلڈ پریشر کا گر جانا یا بڑھ جانا ، بہت زیادہ پسینے کا آ جانا اس طرح کے حادثات سے وقتی طور پر اچانک گردے فیل ہو سکتے ہیں ۔ گردوں کے فیل ہونے کی دوسری قسم ہے مستقل گردوں کی خرابی اس میں 50 فیصد تو گردے پہلے خراب ہوتے ہیں ، جن کے مناسب علاج ، پرہیزسے ان کو زیادہ دیر تک کارآمد رکھا جا سکتا ہے اور اگر ان کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو رفتہ رفتہ گردے فیل ہو جاتے ہیں۔

یہ بات بہت قابل توجہ ہے کہ جب تک گردے 80 یا 90 فیصد تک تباہ نہ ہو چکے ہوں ، مریض کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا وہ اپنا روز مرہ کا کام کرتا رہتا ہے . ایک گردہ ناکارہ بھی ہو جائے تو بھی دوسرا کام کرتا رہتا ہے . اسی طرح یہ بات بھی توجہ چاہتی ہے کہ جب گردے ایک بار مکمل ناکارہ ہو جائیں تو ڈائلایسس (dialysis) ہی سے علاج کی ابتدا ہوتی ہے۔ اگر کسی کو درج ذیل علامات میں سے کوئی علامت محسوس ہو تو ٹیسٹ کروا کر بیان کردہ علاج کو ابتدائی طور پر آزمانے میں کوئی نقصان نہیں کیونکہ بیان کردہ علاج غذائی ہے اور ایک سے زیادہ مریضوں نے اس کے نتائج کی تصدیق کی ہے . کھانے کی خواہش کا ختم ہو جانا ، یاد داشت کی کمزوری ، متلی اور قے کا آنا ، چڑچراپن ، تھکاوٹ کا محسوس ہونا ، چہرے کا رنگ پیلا ہونا ، خشک جلد ، رات کو بار بار پیشاب آنا اور پیشاب میں رکاوٹ وغیرہ کا ہونا ، شوگر کا مرض ہونا ، بلڈ پریشر کی کمی یا زیادتی کا ہونا وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں