ذہنی صحت – ایمن طارق




ذہنی صحت پر آج ہر طرف بات چیت ہے اور یہ awareness بڑھی ہے کہ کینسر کی بیماری کی طرح آج ذہنی صحت کی بربادی بھی ایک اور موزی ہے جس کا شکار ہر دوسرا شخص ہے ۔ سننے سنانے کے زمانے گۓ کیونکہ سننے کے لیے کوئی تیار نہیں اور سنانے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے کہ یا تو لوگ آپ کے دل بات سنیں گے نہیں اور سن لیں گے تو چار اور ملا کر کسی اور محفل میں بیان کر دیں گے یعنی نہ support ملے گی اور نہ confidentiality رہے گی ۔

کہیں پر ہم ذہنی بے حال ہیں اور زبردستی اپنی زندگی کی گاڑی گھسیٹے جاتے ہیں اور اپنے ہر جزبے کو کچلتے جاتے ہیں کیونکہ وہ کسی جسمانی چوٹ کی طرح نظر نہیں آتا اور کچلتے دباتے ایک دن وہ اس بری طرح پھٹتا ہے کہ یا تو ہم جسمانی طور پر بھی مفلوج ہوکر پڑ جاتے ہیں یا کچھ تو اپنی ہی زندگی ختم کر لیتے ہیں ۔ اور کہیں پر ہم اپنے ارد گرد پریشان ، افسردہ ، تناو کا شکار لوگوں کو دیکھتے ہیں اور اپنی زندگی کی تیز رفتاری میں ایسے کمزور لوگوں کو پیچھے چھوڑتے آگے بھاگتے چلے جاتے ہیں اور بھول جاتے ہین کہ کسی کو مایوسی کی قبر سے کھینچ کر لانا بھی حج کی طرح عبادت ہی ہے ۔ اس ساری تمہید کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ایک مستقل جاری رہنے والی مہم چلانے کا ارادہ کیا ہے جس کا مقصد ہمارے چھوٹے سے دائرہ اختیار میں موجود لوگوں کے اندر زہنی صحت کی حفاظت اور اس کو لاحق خطرات اور اس کا شکار ہونے والے لوگوں کو سپورٹ کرنے کے طریقوں پر awareness پیدا کرنا ہے ۔ آج مینٹل ہیلتھ ڈے کے موقعے پر اس کی وضاحت کی جارہی ہے ۔

اس کے لیے ایک پلیٹ فارم جو ہمیں ملا ہے وہ اسلام چینل اردو جو انگلینڈ کا ایک اردو چینل ہے اُس میں ایک ٹاک شو کی میزبانی ہے جو اگرچہ پچھلے کئ سال سے جاری ہے لیکن اسمیں آئندہ کچھ ہفتو ں زہنی صحت کے حوالے سے بات کریں گے اور اس کے حوالے سے پائ جانے والی شرم اور جھجھک کو ختم کرنے اور لوگوں کو اپنے مسئلے پر بات کرنے کے لیے ہمت وحوسلہ دینے پر ہمارا فوکس رہے گا ۔ آپ کیسے اس مہم کا حصہ بن سکتے ہیں ؟؟ کچھ کام جو آپ کر سکتے ہیں وہ یہاں لکھ رہے ہیں ۔ چاہے تو اُس کو شئیر کر لیں اور چاہے تو ان نکات کو مختلف ڈسکشنز کی صورت میں اپنے حلقہ اثر میں ڈسکس کر یں:

۱۔اگر آپ کی مصروفیات بہت زیادہ ہیں جن میں آپ خود کے لیے بالکل وقت نہیں نکال پاتے اور کبھی کبھی شدید زہنی تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں تو خود کو ریکیلس ضرور کریں جو بھی ممکن طریقہ ہو کیونکہ چھوٹی چھوٹی زہنی الجھنیں اور مستقل زہنی دباو آئندہ مستقبل میں زہن پر بری طرح اثر انداز ہو کر آپ کو مفلوج یا مجبور کر سکتا ہے

۲۔اگر آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کسی قسم کے ڈیپریشن یا شکار ہیں ، مستقل پریشان رہتے ہیں یا کسی قسم کی ایبنارمل کیفیات آپ کے اندر پرورش پا رہی ہیں تو ان کو ہلکا سمجھنے اور خود ہی کڑھنے کے بجاۓ کسی پروفیشنل ہیلپ کے بارے میں ضرور سوچیں اور اس کو خدارا اگنور نہ کریں ۔ گھر ، بچے ، رشتے سب اہم ہیں لیکن ان سب سے زیادہ آپ کے لیے آپ کی زندگی اہم ہے تاکہ آپ رشتوں کے ساتھ اچھا وقت گزار سکیں

۳۔ہم سب اپنے کندھے اور کان سہارا دینے اور سننے کے لیے فارغ رکھنے کی اپنے سی کوشش تو کر ہی سکتے ہیں ۔ کیا ہے کہ کچھ دیر صرف خاموش رہ کر کسی کو سن لیا جاۓ یا کسی کو انتہائ پریشان دیکھ کر گلے لگا لیا جاۓ ۔ یقین کریں کہ اگر کوئی اپنی انتہائی پریشانی میں ہمارے ارد گرد ہے اور ہم اپنے معمول میں مصروف اس سے بے پرواہ تو اُس کو ہہنچنے والے کسی نقصان کے ہم بھی زمہ دار ہیں

۴۔ایسا نہیں کہ سوشل میڈیا کی زندگی میں نظر آنے والی یہ چکا چوند واقعی دنیا کو فیری لینڈ بنا چکی ہے بلکہ بہت جگہ یہ صرف مصنوعی چہرے ہیں ، خوشیوں کے ماسک ہیں جن کے نیچے سسکتے ہوے لوگ ہیں جن کو ڈھونڈنا اور سپورٹ کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے

۵۔ خدارا لوگوں کو زہنی مریض کہہ کر انہیں ترحم بھری نظروں اور بے زاری بھرے جملوں سے ڈیل کرنا چھوڑ دیں ۔ اگر ان کو سننا اور برداشت کرنا مشکل ہے تو ان کو نہیں ہمیں برداشت کی ٹریننگ لینے کی ضرورت ہے

اس کام کے لیے ہمارے اپنے فرینڈز سرکل میں جو بھی influential لوگ ہیں ان سب سے مدد کی درخواست ہے کہ آئیے …..! ہم سب مل کر اس چھوٹی سی کوشش کے ذریعے آگے بڑھ کر مایوسی کے اندھیروں میں محبتوں کے چراغ جلائیں ۔آپ اس مستقل جاری رہنے والے سفر کا حصہ بنیں اور awareness پھیلائیں کیونکہ ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں