Home » ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں یہ گناہ چھوڑ دو |
صحت

ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں یہ گناہ چھوڑ دو |

[ad_1]

کبھی کبھی ذہن میں یہ بھی خیال آتا ہے اچھا جی میں توبہ کر لوں گا اللہ بڑا رحیم ہے اللہ نے کسی کو تو معاف کرنا ہے اللہ معاف کر دے گا بھئی اللہ رحیم ہیں معاف کردیں گے یہاں تک تو بات ہے صحیح لیکن اگر م و ت کے وقت ایمان ہی سلامت نہ رہا تو پھر کیا بنے گا ۔

حدیث پاک میں ہے کتنے لوگ ہوتے ہیں ان کے نام ساری زندگی مسلمانوں کی فہرست میں رہتے ہیں موت کا وقت آتا ہے ان کا نام مسلمانوں کی فہرست سے خارج کردیا جاتا ہے کتنے لوگ ہوں گے قرب قیامت میں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صبح اٹھیں گے ایمان ولے ہوں گے شام سونے کے لئے بستر پر جائیں گے ایمان سے خالی ہوں گے تو بھئی یہ جو ایمان سلب ہونے کی بھی باتیں ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ گنا ہو ں کے بد اثرات کی وجہ سے ایمان ہی سلب ہوجائے پھر کیا بنے گا رحمت تو ہو گی ان کے لئے جو ایمان کے ساتھ چلے گئے اور ایمان سے ہی محروم تو پھر کہاں سے رحمت کا سوال پیدا ہوا اور علماء نے لکھا ہے کہ کچھ گ ن ا ہ و ں کے بد اثرات عین م و ت کے وقت ظاہر ہوتے ہیں ان میں سے ایک گنا ہ زنا کا گنا ہ بھی ہے اس ز نا کے گنا ہ کے اثرات دنیا میں تو ہوتے ہی ہیں مو ت کے وقت بھی ظاہر ہوتے ہیں ۔

میں نے ایک مرتبہ حضرت مرشد عالم ؒ سے یہ بات پوچھی کہ حضرت تلبیس ابلیس کتاب میں ایک واقعہ پڑھا ہے ایک حافظ قرآن تھا جس نے کہ بد نظری کی شہوت کی نظر کسی پر ڈالی اور اس کی وجہ سے بیس سال کے بعد وہ قرآن پاک سے محروم ہوگیا قرآن پاک سینے سے ہی نکل گیا تو میں نے کہا کہ حضرت اس ایک مرتبہ کسی غیر کو دیکھنے پر اتنی بڑی محرومی کہ قرآن پاک سے محروم ہوگیا یہ تو بہت بڑی سزا ہےتو حضرت نے فرمایا اصل میں یہ اللہ کی غیرت کامعاملہ ہے وہ کیسے؟ کہ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں میرے بندے نعمتیں میں نے دیں پیدا میں نے کیا اب تیرا دل میری محبت کے لئے وقف ہونا چاہئے یہ میرا گھر ہے جب ہم اپنے دل میں اللہ کی بجائے کسی غیر محرم کو بساتے ہیں اور اس کی محبت دل میں لاتے ہیں اب کسی عورت کے گھر ذرا کسی اور عورت میں لا کر بٹھا ؤ پھر دیکھو وہ کیسے ری ایکٹ کرتی ہے تو فرمایا یہ اللہ کی غیرت کا معاملہ ہے اور اللہ کو جب غیرت آتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کوئی بھی سزا دے سکتے ہیں۔اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔آمین

[ad_2]

Source link