کرونا کا ٹیسٹ کیسے کریں




چکھنے/سونگھنے کی ٹیکنک قرنطینہ میں ڈیوٹی کرنے والے ایک سینیئر ڈاکٹر نے بتائی ہے…کرونا ہے یا عام بیماری، گھر بیٹھے معلوم کرنے کا طریقہ……. ڈاکٹروں کی جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا کے 70 فیصد متاثرین کی چکھنے اور سونگھنے کی حس ختم ہوجاتی ہے. اور جب یہ صحتیاب ہوجاتے ہیں تو ان کی حس بھی بحال ہوجاتی ہے.
ڈاکٹرز اس علامت کو خدائی نعمت قرار دے رہے ہیں. آسان الفاط میں سمجھ لیں کہ اگر آپ کو کھٹی میٹھی یا کڑوی اشیاء(جیسے نمک، مرچ یا کسی کڑوی گولی) کے ذائقے کا پتا نہیں چل رہا یا عطر /سینٹ کی خوشبو محسوس نہیں ہورہی تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کرونا سے متاثر ہوچکے ہیں…. چاہے آپ میں ظاہری علامات نہ بھی ہوں، فورا خود کو گھر کے تمام افراد سے الگ کرکے قریبی قرنطنیہ سینئر پہنچ جائیں تاکہ بروقت علاج سے آپکی جان بچائی جاسکے.اور اگر آپ میں کرونا کی تمام علامات موجود ہوں(جیسے بخار ہو، نزلہ زکام، سر درد) بھی ہو لیکن اسکے باوجود بھی آپ کی چکھنے اور سونگھنے کی حس(صلاحیت)بلکل ٹھیک کام رہی ہے پھر مبارک ہو آپکو کرونا وائرس نہیں بلکہ موسمی بیماری ہے.
ڈاکٹروں کے مطابق یہ خدا کی طرف سے کرونا متاثرین کو تلاش کرنے کی ایک نعمت ہے……..ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے. برائے مہربانی آج سے کرونا سے خوفزدہ ہونا چھوڑ دیں، معمولی نزلہ زکام یا بخاد کی صورت میں خود کو کرونا مریض نہ سمجھیں.اگر پھر بھی شک ہو تو سب سے پہلے اپنے گھر میں ہی اپنی سونگھنے اور چکھنے کی حس کو چیک کریں، گھر میں نمک، مرچ، یا کوئی کڑوی گولی منہ میں رکھ کر دیکھیں کہ زائقہ محسوس ہورہا ہے یا نہیں، اور سینٹ یا عطر یا کسی اور خوشبو کو سونگھ کر دیکھیں کہ محسوس ہورہا ہے یا نہیں. اگر سب صحیح ہےتو پھر پریشان مت نہ ہوں، نہ ہی گھر سے نکلیں، گھر میں ہی پیناڈول سے اپنا بخار اتار سکتے ہیں، نزلہ زکام ہو تو اسے چھوڑ دیں یہ خود ہی ٹھیک ہوجائے گا. پھر بھی پریشانی ہو تو حکومت کی ہیلپ لائن 1166 پر کال کرکے اپنے حالات سے آگاہ کردیں، وہ آپ کو تسلی دیکر سب سمجھادیں گے.
قرنطینہ سینئرز میں بھی مریض کو پہلے کڑوی گولی کھلاکر چیک کیا جارہا ہے کہ زائقہ محسوس ہورہا ہے یا نہیں، ڈاکٹرز کے مطابق بہت سے مریض عام بخار کی وجہ سے خود کو کرونا متاثر سمجھ کر قرنطینہ آگئے تھے جنہیں خیریت سے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ مبارک ہو آپ کو کرونا نہیں ہے. لیکن خدا کے لیے کرونا سے خوفزدہ ہوکر اپنی جان مت لیں، خودکشی مت کریں، یاد رکھیں زندگی و موت اللہ کے اختیار میں ہے نہ کہ کرونا کے. اس لیے ڈرنا چھوڑ دیں اور اوپر بتائی گئی ہدایات کے مطابق خود کو چیک کرتے رہیں. ہوسکے تو پورے گھر کو چکھنے اور سونگھنے کے تجربے سے گزار کر تسلی کریں کہ سب خیریت سے ہیں یا نہیں. یاد رکھیں اس وقت کرونا کا واحد علاج صرف احتیاط ہے لہذہ خود بھی احتیاط کریں اور گھر والوں کو بھی چیک کرتے رہیں کیونکہ گھر میں ایک فرد بھی کرونا متاثر ہوگا تو اس سے پورا گھر متاثر ہونے کے قوی امکانات ہوتے ہیں.
احتیاط احتیاط اور صرف احتیاط کریں ……. گھر سے ہرگز مت نکلیں صبح و شام سب کی چکھنے اور سونگھنے کی حس کو چیک کرتے رہیں. آخر میں یاد رکھیں کرونا اللہ سے بڑا نہیں ہے. اللہ کے حکم کے بغیر نہیں لگ سکتا اور جسے متاثر کرنے کا اللہ فیصلہ فرماچکا ہے اسے دنیا کی کوئی طاقت کرونا سے نہیں بچاسکتی لہذہ اللہ پر توکل رکھیں اور پرامن زندگی گزارتے رہیں. شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں