یہی تو رب سے وفا کے دن ہیں – قدسیہ ملک




اس میں دو رائے نہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے……. وہ اللہ نے تقدیر میں لکھ رکھا ہے ، صحت اور بیماری بھی اللہ کے حکم سے آتی ہے اور یہ بھی تقدیر کا حصہ ہے چناںچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : ’’یقین جانو! اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی، سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے، سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے ۔‘‘ (مسند احمد)
قرآن ِ کریم اور احادیث ِ مبارکہ میں ہے کہ انسانوں کے اپنے اعمال بھی مصیبتیں اورپریشانیاں آنے کا سبب بنتےہیں ۔ چناںچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :’’اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے ، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کئے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے اور بہت سے کاموں سے تو وہ درگزر ہی کرتا ہے۔‘‘ (سورۃ الشوریٰ : 30) ….. میرے دادا مولانا عبدالعزیز صاحب جماعت اسلامی کے دیرینہ رکن تھے …… ہجرت کے وقت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے حکم پر انہوں نےحیدرآباد دکن ہی میں قیام کیا۔  پھر اس کے چند ماہ بعد دوران ہجرت  اپنے جواں سالہ  بھائی کو ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں شہید اور پھر انکی لاش کے ٹکڑے ہوتے دیکھے….. انکو دفنا کر اپنی زمینیں اپنی جائیدادیں اپنے مکانات اور اپنے باغات سب کچھ چھوڑکر کراچی آئے ۔ اور مولانا مودودی کی دی ہوئی اسی گز کی رہائش گاہ میں قیام کیا۔جماعت کا کام   پوری تندہی محنت اور محبت سےکیا اور وہیں انتقال ہوا۔
دادا سے جب بھی کوئی اپنے لئے دعا کروانے کو کہتا تھا تھا کہ کہ مولانا صاحب میرے لیے دعا کریں تو دعا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہاں میں بھی تمہارے لئے دعا کروں گا ……. تم اپنے لیے خود بھی دعا کرو۔  اللہ تعالی بندے کی دعا کرنے سے خوش ہوتا ہے اور جو بندہ اپنے لیے دعا نہیں کرتا ا اللہ تعالی اس سے ناراض ہو جاتا ہے اور کہتا ہے میرا بندہ مغرور ہوگیا ہے…… مجھ سے دعا نہیں کرتا۔ اس لیے اپنے لئےسب سے پہلے دعا کیا کرو۔ ہر شے اپنے رب سے مانگو۔وہ اپنے بندے کی دعاسے بہت خوش ہوتاہے۔بندہ کسی اور سے مانگتاہےتو وہ ناراض ہوجاتاہے۔ رمضان کی بات ہے …… 21 ویں شب تھی مجھے  رات میں باربارایک خالہ جان کا خیال آرہا تھا . پھرمیں نے ان کے لیےاپنے دل سے دعا کی۔ اگلے دن میں نے میسج پہ بات  انہیں بتائیں کہ میں نے آپ کے لئے دعا کی۔یہ پیغام دے کرمیں بھول گئی بھی اس سے اگلے دن خالہ جان کا میرے پاس  فون آیا اور وہ مجھ سے کافی دیر تک بات کرتی رہی اور وہ بار بار میرا شکریہ ادا کر رہی تھی .
کہہ رہی تھی میں نے تمہارے لیے دل سے دعا کی ہے تم نے مجھ سے محبت کی میرے لئے دعاکی……. تم نے اللہ کی خاطر مجھے یاد رکھا میں بھی تمہارے لئے دعا کرتی ہوں۔وہ بار بار میرا شکریہ ادا کرکے ہمیں شرمندہ کررہی تھی۔ دعا صرف اور صرف اپنے لیےہی نہ کریں بلکہ دعا اپنے چاہنے والوں اپنے رشتے داروں اپنے عزیزوں اپنے دوستوں اپنے ساتھیوں،اپنے ملنے جلنےوالوں،اپنے پڑسیوں اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں کےلئےبھی کریں ۔ ان لوگوں کے لئے بھی دعا کریں کریں جن سے آپ کی کسی قسم کی دشمنی ہے  یا جن کو آپ پسند نہیں کرتے یا جو آپ کو پسند نہیں کرتے۔ دعا کے ذریعے اللہ تعالی دلوں میں گنجائش پیدا کر دیتے ہیں۔دعا کی برکت سے اللہ تعالی دلوں میں نہ صرف  یہ کہ محبتیں پیدا کرتے ہیں بلکہ کہ ایک دوسرے سے ایسا قلبی تعلق استوار ہوجاتا ہے جو ہمیشہ یاد رہتاہے۔ دعا کو مومن کا ہتھیار ایسے ہی نہیں کہا گیا ۔آزمائش شرط ہے ہر مشکل، پریشانی ،مصیبت اور آزمائش  میں دعا کی برکت سےاللہ تعالی کوئی ایسی راہ نکال دیتے ہیں جس طرف بندےکاگمان بھی نہیں ہوتا۔
اللہ کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ہے جب بھی کوئی مسلمان ایسی دعا کرے جس میں گناہ یا صلہ رحمی نہ ہو تو اللہ رب العزت تین باتوں میں سے ایک ضروری سے نوازتے ہیں ہیں یا تو اس کی دعا کو قبول فرما لیتے ہیں ہیں یا اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ کر دیتے ہیں ہیں یا اس جیسی کوئی برائی سے ٹال دیتے ہیں ہیں صحابہ نے کہا پھر تو ہم بکثرت دعا کریں گے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا “اللہ اس سے بھی زیادہ بخشنے والا ہے” ۔ یہ بات ہمیشہ ذہن نشین ہونی چاہئے کہ قبولیتِ دعا کی یہ صورتیں ہیں:
• اللہ تعالی بندے کی دعا قبول کرتے ہوئے اسے وہی عنائت کردے جسکی وہ تمنا کرتا ہے۔
• یا پھر اس دعا کے بدلے میں کسی شر کو رفع کردیتا ہے۔
• یا بندے کے حق میں اسکی دعا سے بہتر چیز میسر فرما دیتا ہے۔
• یا اسکی دعا کو قیامت کے دن کیلئے ذخیرہ کردیتا ہے، جہاں پر انسان کو اِسکی انتہائی ضرورت ہوگی۔
دعا کے لئے کچھ شرائط ضروری ہے جن میں سب سے پہلے   اخلاص نیت چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے، تم اسی کی عبادت کرتے ہوئے اسے پکارو۔ اس کے علاوہ وہ حرام سے اجتناب کرنا چاہیئے …… اگر کوئی گناہ کیا ہے ہے تو پہلے اس سے توبہ کرنی چاہیے عاجزی اور انکساری سے دعا مانگنی چاہیے …… جیسا کہ سورہ اعراف میں اللہ تعالی فرماتا ہے ” اب تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو کرو گڑگڑا کر اور چپکے سے بھی”  دعا کے اندر زیادتی نہ کی جائے جیسا کہ قرآن  میں اللہ تعالی نے فرمایا تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑگڑا کراور چپکے سے واقعی اللہ تعالی ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو حد سے نکل جائیں ۔ الحمدللہ …… ! اللہ کے فضل و کرم سےماہ رمضان المبارک کی طاق راتیں ہمیں نصیب ہوئی ہم رحمتوں برکتوں اور مغفرت کے عشروں سے گزرے۔ہر گھڑی ہرجاہرلحظہ ہرآن اللہ تعالی سے زیادہ سے زیادہ دعا مانگیں  تاکہ اس کی رحمت جوش میں آئے اور ہمیں اس وباء سے نجات نصیب ہوجائے۔ دعا کی فضیلت کے بارے میں میں قرآن پاک میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں اور اے پیغمبر اور جب تم سے میرے بندےمیرے بارے میں دریافت  کریں تو کہہ دو کہ میں تو تمہارے پاس  ہوں۔ جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں ہوں ان کو چاہئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں آئے تاکہ نیک راستہ پائیں( سورہ بقرہ)۔
اس بات کا بھی خیال رکھناچاہیئے کہ مال حرام سے مکمل اجتناب کیاجائے۔کیونکہ حدیث میں آتا ہے ایک مال حرام کے لقمے سے 40 دن کی عبادتیں قبول نہیں ہوتیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے کچھ امور بھی بیان فرمائے، جن سے دعا کی قبولیت کے امکان زیادہ روشن ہوجاتے ہیں، مثلا: کہ وہ مسافر ہے، اللہ کا ہی محتاج ہے، لیکن اسکے باوجود دعا اس لئے قبول نہیں ہوتی کہ اس نے حرام کھایا، اللہ تعالی ہمیں حرام کے لقموں سے محفوظ رکھے۔ ایک حدیث جوحضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے  ارشادفرمایا اللہ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ اللہ کو یہ بات محبوب ہیں ہے کہ اس کے بندے سے دعا کریں اور مانگیں ۔ اللہ تعالی سے اسکے کرم کی امید رکھتے ہوئے اس بات کا انتظار کرنا کہ وہ بلا اور پریشانی کو اپنے کرم سے دور فرمائے گا اعلی درجے کی عبادت ہے (جامع ترمذی)…… حضرت ابوہریرہ  سے روایت ہے  حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا اللہ کے ہاں کوئی چیز اور کوئی عمل دعا سے زیادہ عزیز نہیں (ترمذی)
دعا اور اللہ کا ذکرایک مکمل اور پختہ وسیلہ ہے۔ دعاء کا مؤمن کاہتھیار ہے۔ جس طرح ایک مجاہد اپنے ہتھیار کواستعمال کرکے دشمن سےاپنادفاع کرتا ہے۔ اسی طرح مؤمن کو جب کسی پریشانی مصیبت اور آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تووہ فوراً اللہ کےحضو ر دعا گو ہوتا ہے دعا ہماری پریشانیوں کےازالےکےلیے مؤثر ترین ہتھیارہے…… انسان اس دنیا کی زندگی میں جہاں ان گنت ولاتعداد نعمتوں سےفائدہ اٹھاتا ہے وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بیمار وسقیم ہو جاتاہے اس دنیاکی زندگی میں ہر آدمی کے مشاہد ےمیں ہےکہ بعض انسان فالج ،کینسر،یرقان،بخاروغیرہ اوراسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلاہیں ان تمام بیماریوں سےنجات وشفا دینےوالا اللہ تعالی ہے ان بیماریوں کے لیے جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے دعائیں بھی بڑی مؤثر ہیں۔ بیماری اور پریشانی میں بدگمانی،شور شرابہ،شکوے شکایات کرنے کے بجائے ان اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہئے جو رب کو ناراض کررہےہیں۔ایسے اعمال کی جانب متوجہ ہوناچاہیئے کہ جن کی تعلیم اللہ اور اس کے رسولﷺ نے ہمیں دی ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو اس خطرناک وباء سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنے والا بنادے وباء سے ہرممکن بچاو کرنے والابنادے۔ہمارے ملک کو اس وباء کے ممکنہ اثرات سے جلد از جلد مکمل طور پر نکلنے والا بنائے ۔رب العالمین ہمارے ساتھ عافیت کا معاملہ فرمادے آمین …… آخر میں ایک قطعہ اپنے پیارے قارئین کی نذر کرناچاہوں گی
میں مانتاہوں وباکےدن ہیں
مگریہ بھی خداکےدن ہیں
دلوں سے مایوسیاں نکالو
ذراساآگےشفاء کے دن ہیں
گزر گئی عمر غفلتوں میں
یہی تو رب سے وفاکے دن ہیں…..!

اپنا تبصرہ بھیجیں