صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہ – ماریہ حق




وہ ایک جانب بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ جوش ولولہ اور دلیری ان کے ہر انداز سے ٹپکتی تھی۔ ان کے قدم پر عزم تھے۔ انہوں نے ایک خیمے کا کھونٹا ہاتھ میں اٹھایا اور تیر کی طرح ایک سمت چل پڑیں
__________
غزوہ خندق جاری تھی اور مجاہدین نے سخت سردی میں خندق کھودی، جب بھوک نے ستایا تو پیٹ پر پتھر باندھ لۓ، ایک ماہ کا طویل محاصرہ مومنوں کو مایوس نی کر سکا، 10000 کی فوج 3000 مومنوں کو مرعوب نی کر چکی، دشمن کا جنگی سامان مجاہدین کو متزلزل نہ کرسکا اور وہ اپنے چٹان جیسے مظبوط حوصلوں کے ساتھ کفار کے آگے جمے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو حفاظت کے پیش نظر ایک قلعے میں بھجوادیا تھا اور حضرت حسان بن ثابت رضہ جو کہ ایک ضعیف صحابی تھے انہیں بطور محافظ قلعے میں چھوڑ دیا تھا۔ یہودی جو کی ہمیشہ بزدلوں کی طرح پشت پہ ہی وار کرتے ہیں، انہوں نے ہی موقع غنیمت جانا کہ عورتیں اور بچے اکیلے ہیں کیوں نہ وہاں پر حملہ کر دیا جائے۔
سو اس ہی غرض سے سے ایک یہودی کو حالات معلوم کرنے کے لیۓ قلعے کی طرف بھیجا گیا۔ جب اس نے اندر جھانکا تو حضرت صفیہ رضہ جو کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پھوپھی اور حضرت حمزہ رضہ کی بہن تھیں انہوں نے کسی طرح اس یہودی کو اندر جانتے ہوئے دیکھ لیا۔ انہوں نے حضرت حسان رضہ کو مطلع کیا کہ ایک یہودی یہاں معلومات حاصل کرنے آیا ہے آپ قلعے سے باہر نکلیں اور اس کو قتل کر ڈالیں۔ حضرت حسان ضعیف تھے اور اسی وجہ سے وہ ہمت نہ کر پاے۔ آخر تھیں تو وہ حضرت حمزہ رضہ کی ہمشیرہ تو خود ہی اٹھیں اور کسی ہتھیار کی تلاش میں چل پڑیں۔ انہوں نے ایک خیمے کا کھونٹا ہاتھ میں لیا اور باہر نکل گئیں اور اس یہودی کا سر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کچل ڈالا۔ آپ رضہ دوبارہ اندر آئین اور حضرت حسان رضہ کے پاس آکر کہا کہ چونکہ وہ نامحرم مرد تھا تو میں نے اس کا سامان اور کپڑے نہیں اتارے، لہذا آپ جائیں اور اس کا سامان اور کپڑے لے آئین۔
حضرت حسان کی ضعف کی وجہ سے ہمت نہ ہو سکی تو وہ خود ہی گئیں اور اس کا سر کاٹ دیا اور اسے لے کر قلعے کی دیوار پر چڑھیں اور یہود کے مجمعے میں پھینک دیا۔ جیسے ہی وہ سر یہودیوں کے پاس آکر گرا تو ان میں کھلبلی مچ گئی اور وہ پکار اٹھے کہ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ عورتیں تنہا نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ تو ان کے محافظ مرد موجود ہیں ۔
___________
اب ہم ذرا ماضی کے دریچوں سے نکل کر حال کا جائزہ لیتے ہیں تو اس بہادری کی مثال کہیں نہیں ملتی ہے۔ کیا بچے، کیا جوان اور کیا بوڑھے، ہر ایک کا جذبہ بس یہی تھا کہ اللہ کے دین کی سربلندی ہو اور اگر اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ یا سازش ہو تو اس کو فنا کر دیا جائے۔ یہ سب صرف اور صرف اللہ اور رسول صلی علیہ وسلم کے لۓ جان سے ذیادہ محبت رکھنے کا ثمرہ تھا کہ اس عمر میں بھی حضرت صفیہ رضہ کا جذبہ دشمن کو بے جگری اور بہادری سے مسلمانوں کی طاقت، قوت اور جنگی حکمت عملی کا احساس دلایا۔
اگر ہمارے اندر بھی ان جیسے جذبات اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا ایک ذرہ بھی نصیب ہو جائے تو ہم اپنے محدود ترین وسائل کے باوجود دشمنوں کو اپنی قوت کا احساس دلا سکتے ہیں۔ بس ضرورت اس امر کی ہے دین کو دنیا کی ہر چیز فوقیت اور اللہ کے سوا کسی پر بھی بھروسہ نہ کرنے کا یقین پیدا کیا جائے۔
پھر دیکھیں کہ اللہ آج بھی ہماری ایسے ہی مدد فرمائے گا جیسے اس دور میں مدد آتی تھی۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں