ماہِ ذیقعدہ – رمشاء کنول




“بےشک اللہ کے نذیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے …… اور ان میں چار مہینے حرمت والے ہیں ۔ تو ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔”
ذیقعدہ جس کو ذولقادہ بھی کہا جاتا ہے۔ ذیقعدہ حرمت والے مہینوں میں سے پہلا مہینہ ہے ۔ عرب اس ماہ میں لڑائی ، جھگڑے اور جنگ سے باز رہتے تھے۔ اسی مناسبت سے اس ماہ کو ذیقعدہ یا ذولقادہ کہا جاتا ہے۔ ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یاد کرو ……. اس کا ذکر کرو ……. سجدوں میں اور بیٹھ کر۔ یعنی قیام میں بھی اور بیٹھ کر بھی ، سجدوں بھی ، کھڑے ہو کر بھی ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھو۔ یہ بھی اس مناسبت سے بتایا جاتا ہے کہ اس ماہ میں بیٹھ جاؤ اور اپنے آپ کو اللہ کے ذکر میں مشغول کرلو۔ یعنی بجاۓ اس کے دنیاوی کام کاج کریں ۔بلکہ بیٹھ کر اپنے رب کا ذکر ،اس کی عبادت کریں۔ اب اس ماہ میں کونسے واقعات ہیں جو پیش آۓ ۔ مختصر جائزہ لیں گے۔ اللہ تعای’ نے اس ماہ میں حضرت موسیٰ سے ٣٠ راتوں کا وعدہ فرمایا ۔
پھر اس میں ١٠ کا اضافہ کر دیا ۔ حضرت موسیٰ کو ان ٤٠ راتوں کے پورا کر نے پر توریت عطا فرمائی ۔ حضرت ابراہیم نے جو دوبارہ کعبہ کی تعمیر فرمائی ۔ اپنے پیارے فرذند حضرت اسمائیل کے ساتھ مل کر عصرنو تعمیر فر مایا۔ حضرت مُحَمَّدُ ﷺ‎ کی احادیث مبارک بھی ذولقادہ کے بارے میں ہیں ۔ آپﷺ‎ نے فرمایا کہ : ”اس ماہ کا احترام کرو …… کیونکہ یہ ماہ حرمت والے مہینوں میں سے سب سے پہلا ہے“۔
آپ ﷺ‎ کی روایتوں سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اس ماہ میں جس شخص نے ایک دن کا بھی روزہ رکھا ۔تو اللہ تعالیٰ اسے اس طرح اجر و ثواب عطا فرماۓ گا۔ جس طرح ححج ادا کرنے پر دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مہینے اور ہر سال عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں