کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے! – زرافشاں فرحین




تیز آگ برساتی سورج کی کرنیں آنکھوں میں چبھ رہی تھیں …….. دور دور تک پانی کا یا کسی ذی روح کا نام و نشان نہ تھا . پیر تپش سے جھلس رہے تھے . اپنے چہار اطراف نہ سایہ تھا نہ کوئی سبزہ….. ابھی کچھ دیر پہلے زندگی کے ساتھی نے الوداع کہا اور اپنی راہ لی اس .اعتماد کے ساتھ کہ شریک حیات نے نہ کوئی گلہ شکوہ کرنا ہے …… نہ راہ کی رکاوٹ بننا ہے . نہ آنسو بہاکر پیروں کی زنجیر بننا ہے .
یہ اعتماد یہ مان یوں ہی تو کسی پر نہین ہوتا نا ! یقیناً اس زندگی کی ساتھی کے کردار کی پختگی اپنا آپ منوا چکی تھی . اب امتحان تھا اور . خوب امتحان تھا . پیچھے رہ جانے والی کے لبوں پر دعا کا تحفہ تھا اور جانے والے کے توکل و یقین کا عصا قدموں کی رفتار بڑھتی گئی ر وہ بہت آگے نظروں سے اوجھل ….. اب یہ تھیں اور انکی گود میں معصوم شیرخوار انکا بیٹا ……. جو انکے سینے سے لپٹا اپنی بھوک مٹانے میں مگن دنیا سے بے نیاز ……. ماں نے پیار بھری نظر ڈالی ہر ماں جان لیتی ہے . بچے کی بھوک اور اسکی تڑپ ……. ماں کی بے چینی و اضطراب کون نہیں جانتا ……. مگر آزمائش کی گھڑی میں صبر و استقلال کی مثال جو رہتی دنیا تک مثال بن جائے ، آج تقدیر نے رقم کرنی تھی….. میں سوچتی ہوں ، میں بھی عورت ہوں …… وہ بھی عورت ہی تھیں . صنف نازک ! مدعا بیان کرنے سے قاصر ، جذباتی اور اور اولاد و شوہر کے معاملے میں بہت حساس….
مگر فرق ہے تو صرف ایمان و یقین کا توکل کا …… دل کے اس رشتے کا جہاں اولاد اور شوہر کی محبت بھی کہیں پیچھے تھی یہ عشق بلاخیز تو کچھ اور ہی کروانا چاہ رہا تھا . شوہر رہتی دنیا تک کے لئے فقیدا لمثال تو بیٹا سنہری تاریخ رقم کرنے میں بے نظیر کردار پیش کرنے والا …… تو وہ کیسے پیچھے رہتیں ؟ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے قدم ، بے تابی سے اٹھتے ہیں . بیٹے کو تپتی ریت پر لٹاتے ہوئے دل لرزا تو ہوگا ….! مگر آسمان کی طرف نگاہیں ، قدموں کی طرف مٹی کی دھول نہیں دیکھا کرتیں …… چاہے یہ دھول مٹی ارام و اسائش کی ہو …. ذاتی حقوق کی ہو . آزادی کی ہو . دنیاوی محبتوں کی ہو ساری چیزیں ہیچ …… قدموں سے جھاڑ کر عشق کی منزل کی طرف یہ خاتون جنت دیوانہ وار دوڑتی چلی گئیں . امی ہاجرہ بابا ابراہیم کی شریک زندگی
یہ کیسی مسابقت تھی…. اپنے حق کی پرواہ نہی اج کی عورت دوڑ دوڑ کر سڑکوں پہ رل کر دفتروں… چوراہوں.. بل بورڈز… اسکرین کی زینت بن کر کروڑوں میلی نظروں کی تسکین کا سامان بن کر خاک نشین گمنام… اور وہ خاتون جو رب کے راستے کی راہی بنیں تاقیامت تقلید کی مثال بن گئیں امر ہوگئے وہ قدم….. اج اس خاتون جنت کے نقش کف پا پر وزراء یا بادشاہ صدر ہوں یا وزیراعظم سب اس در پہ فقیر.. اس نقش قدم کے سب محتاج و گدا…. کہ یہ رسم محبت ادا نہ کرسکے تو شہنشاہ کائنات کے در سے دھتکار دییے جائنگے
چلو تو پھر اس ماں کے قدموں پہ چلو
میرے عہد کی بیٹیوں بہنوں….
!آؤ سارے زمانے کو لیکر چلو
مغرب کی نامراد عورت کی تقلید نہ کرو
یہ دور ابراہیمی ہے… مد مقابل نمرود ہے
آج پھر امی ہاجرہ کا کردار مطلوب ہے
ذبیحہ دنبے کا ہی نہی خواہش نفس کا بھی مقصود ہے
وہ جنت جو ان پہ واری ہے
کل انکی آج ہماری، تمھاری باری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں