وہ اللہ کے دوست تھے! – شفا ہما




کیا تم نے کبھی اللہ کا دوست ہونے کے بارے میں سوچا ہے..؟
کبھی سوچا ہے ان لوگوں کے بارے میں ……. جو اللہ کے دوست ہوتے ہیں؟ کبھی سوچا ہے اللہ کا دوست ہونا کیسا ہوتا ہے..؟ وہ اللہ جو تمھارا خالق ہے.. جو ربِ کائنات ہے !

تمھاری ہر سانس جس کی محتاج ہے . جو نہ چاہے تو تم ایک لمحہ حرکت بھی نہ کرسکو جو کُن کہتا ہے تو ساری کائنات فیکون بن جاتی ہے……. وہ جو عظیم تر ہے……. وہ جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے…….. وہ مالک جو بندوں سے محبت کرتا ہے. وہ بادشاہ جو تمھاری ہر بات کو سنتا ہے. تم گناہ کر تی ہو . تم اس کی نافرمانی کرتی ہو . لیکن وہ تمھارے لوٹ کر آنے کا منتظر رہتا ہے . وہ اللہ جس نے تمھاری ناشکریوں کے باوجود تم پر کبھی اپنی نعمتیں ختم نہیں کیں. اُس مہربان اور عظیم مالک کا دوست ہونا کیسا ہوتا ہے..؟ وہ کون لوگ ہیں جو اِس بلند مرتبہ دوستی کے حقدار ٹھہر سکے..؟ سماوات و ارض میں موجود ہر ذی روح گواہی دے گا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام تھے جو اللہ کے دوست تھے.. جنہوں نے دوستی کا حق ادا کردیا.. جنہوں نے بندگی کا حق ادا کردیا.. وہی ابراہیم علیہ السلام جن پر پانچ وقت کی نمازوں میں تم اور میں درود و سلام بھیجتے ہیں..

قرآن پاک میں اللہ رب العالمین اپنے خلیل کا تذکرہ یوں فرماتا ہے :
“یقیناً ابراہیم ایک امت تھے، اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار اور یکسو ہو جانے والے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے، اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے والے تھے، اللہ نے انکو منتخب کرلیا اور سیدھا راستہ دکھایا. دنیا میں بھی اسکو بھلائی دی اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہوگا ” ( النحل)

انہوں نے اُس وقت اپنے خالق کو پہنچانا تھا جب خشکی و تری پر اللہ کا نام لینے والا کوئی موجود نہ تھا . انہوں نے عقل اور فطرت کا استعمال کیا تھا اور صراطِ مستقیم کو پا لیا تھا . وہ کام جو تم اور میں نہیں کرپاتے.. جب تمام انسان اللہ کے منکر ہوگئے تھے تب وہ حق پر جمے ہوئے تھے.. ساری دنیا اس کی مخالف ہوگئی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کو پا لینے کے بعد یہ کیسے ممکن تھا کہ ابراہیم علیہ السلام اللہ کو کھو دیتے..! وہ نمرود کے آگے بھی سینہ سُپر ہوگئے تھے. انہوں نے دلائل اور حکمت سے اُس ظالم کو بھی لاجواب کردیا تھا . انہوں نے تو اللہ رب العالمین کی تلاش میں بہت سفر کیا تھا.. تاریکییوں میں روشنی کی کرن تلاش کی تھی.. انہوں نے نور کو ڈھونڈا تھا اور وہ دنیا والوں کو بھی نور کی طرف بلایا کرتے تھے . لیکن میں اور تم.. ہمارے پاس تو روشنی موجود ہے.. پھر ہم کیوں تاریکییوں کی جانب بھاگتے ہیں..؟
انہوں نے خود کو اللہ کے سپرد کردیا تھا.. وہ یکسو تھے.. وہ فرمانبردار تھے.. وہ مطیع تھے…..!

انہوں نے خود کو خالقِ کائنات کے آگے جھکا دیا تھا.. اور ان کے جھکنے نے اُنہیں وہ بلندی عطا کی.. وہ مرتبہ دیا.. جو صرف ” ابراہیم ” ہی کو مل سکتا ہے.. اُن کی کوششوں.. ریاضتوں.. محنتوں کا مقصد.. ان کی زندگی کا محور اللہ تعالیٰ کی ذات تھی. کیا تم تصور کرسکتی ہو اُس لمحہ کا.. جب انہیں وقت کے ظالم انسان نے آگ کے دہکتے الاؤ میں پھینک دیا تھا.. وہ آگ جسکی صرف تپش ہی تمھاری جلد کو جھلسا دیتی ہے.. اُس لمحہ جبرئیلِ آمین انکی مدد کے لیے حاضر ہوئے تھے لیکن انہیں تو اپنے اور اپنے اللہ کے بیچ کوئی وسیلہ گوارا ہی نہ تھا.. تبھی انہوں نے فرشتوں کے سردار کو جواب دیا تھا : “میری واحد خواہش ہے کہ میرا رب مجھ سے خوش ہوجائے..”

اور انہوں نے اپنے رب ہی کو پکارتے ہوئے خود کو آگ کے شعلوں کے سپرد کردیا تھا. “کافی ہے میرے لیے اللہ اور وہ بہترین کارساز ہے” اور کائنات کا مالک کب پکارنے والوں کو مایوس لوٹایا کرتا ہے..! اللہ کے دربار میں توکل اور راضی برضا ہوجانے کی یہ ادا ایسی مقبول ہوئی تھی کہ ہر شے کو خاکستر کردینے والی آگ کو ٹھنڈا ہوجانے کا حکم دے دیا گیا تھا..

عقل حیران تھی.. کائنات ساکن تھی.. لیکن ابراہیم علیہ السلام کے رب نے کُن کہہ دیا تھا اور گرم لپکتے شعلے مہکتے ہوئے پھول بن گیے تھے . وہ بے پناہ محبت تھی جو ابراہیم علیہ السلام کے دل میں اللہ رب العالمین کے لیے تھی.. اور انہیں معلوم تھا کہ مکمل اطاعت محبت کی پہلی شرط ہوتی ہے.. وہ ایسے شکرگزار تھے کہ شکوہ انکے لبوں تک نہیں آیا کرتا تھا.
اطمینان.. قناعت.. یقین.. شکر.. اور صبر.. میرے اور تمھارے ذہنوں میں اتنی وسعت نہیں ہے جتنی اللہ کے خلیل کی خوبیاں ہیں.. وہ تو اِس شعر کی عملی تصویر ہیں کہ..

جو  ملے  حیاتِ  خضر مجھے
اور اُسے میں صرفِ ثنا  کروں
تیرا  شکر  پھر  بھی  ادا  نہ ہو
تیرا   شکر  کیسے   ادا  کروں

اُن کی واحد ترجیح “اللہ تعالیٰ” تھے. اور کیا تمھاری اور میری سوچ ایسی ہوسکتی ہے..؟ ہم جو دنیا کے پیچھے بھاگتے ہیں.. کیا ہماری ترجیحات میں اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا پہلی ترجیح رہا ہے..؟ تو پیاری دوست..! یہ ابراہیم علیہ السلام کا مہینہ ہے.. اللہ کے خلیل کا مہینہ ہے..
اپنے آپ سے سوال کرو کہ کیا چوٹ لگنے پر تمھارے لبوں سے جو پہلا لفظ نکلتا ہے وہ “اللہ” ہوتا ہے..؟ مشکل ہو یا آسانی ہو.. تم اپنے خالق کو خوش کرنے کی کوششیں کرتی رہتی ہو..؟ کیا تمھیں یقین ہے کہ تمھاری زندگی کی تاریکییوں کو تمھارا رب روشنیوں میں بدل دے گا..؟ کیا تمھارا جلدی ٹوٹ جانے والا دل مطمئن ہے کہ تمھارے اندر لگی ہوئی آگ کو تمھارا اللہ گلزار بنادیگا..؟ کیا یقین ہے کہ مشکلات ایک دن ختم ہوجائیں گیں.. اور تم سے محبت کرنے والا مالک تمھیں ان آزمائشوں اور پریشانیوں سے بحفاظت نکال لے گا..؟ جیسے ابراہیم علیہ السلام پر شعلوں کو ٹھنڈا کردیا گیا تھا..

اگر تم چاہتی ہو کہ زندگی کا تاریک آسمان تاروں سے جگمگانے لگے تو خلیل اللہ جیسا یقین اپنے اندر پیدا کرلو.. میں اور تم بھی ربِ تعالٰی کے دوست بن سکتے ہیں اگر سچائی پر جم جائیں اور ایک اللہ کو تھام لیں.. کہ اُس مضبوط سہارے کے بعد کسی اور کی ضرورت نہیں رہتی..!

جان دی , دی ہوئی اُسی کی تھی
حق  تو  یہ  کہ  حق  ادا  نہ ہوا

اپنا تبصرہ بھیجیں