اِنَّااللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنّ – ایمانِ فاطمہ




بیاباں صحرا ، سنگلاخ وادیاں اور تپتی ریت ……. نہ کوئی متنفس ، نہ پانی ، نہ سبزہ ، ایسی جگہ جہاں بسنے کیلئے کوئی چیز دستیاب نہ تھی . ایسے میں اللہ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ سلام اس بے آب و گیاں ریگستان میں اپنے شیرخوار بچے اور زوجہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کو چھوڑ کر جانے کو تھے کہ حضرت ہاجرہ رضی اللّٰہ عنہا پوچھتی ہیں کہ آپ ہمیں اس بیاباں صحرا میں کیوں چھوڑ رہے ہیں؟

حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللّٰہ کا حکم ہے……. آہ ! کیا جواب دیتی ہیں بی بی ہاجرہ یہ سن کر کہ اچھا ….! اللہ کا حکم ہے تو مجھے یقین ہے اُس ذات پر وہ مجھےکبھی ضاںٔع نہیں کرے گا…!
آہ ! کس پختہ یقین کے ساتھ اُس ربِ کریم پر بھروسہ رکھا . کیا ہی وہ صبر تھا جو صرف اللہ پر یقینِ کامل کے بعد ملا کرتا ہے . وہ صبر جو اپنے ننھے سے بچے کے پیاس سے تڑپنے پر کِیا . یہ جانتے ہوئے بھی صبر کیا کہ یہاں پانی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔۔ لیکن پھر بھی اس یقین کے ساتھ پانی تلاشنے اُٹھہ کھڑی ہوئیں کہ اللہ پر توکل کے بعد محنت دوسری شرط ہے ….. محنت کرنے سے ہی منزلیں ملا کرتی ہیں .

صفا و مروہ کی وادیوں میں پانی ڈھونڈنے کے لیے دوڑتیں ہیں کہ شاید کہیں پانی مل جائے اور اپنے جگر کے ٹکڑے کو پانی سے سیراب کردوں ……. دوڑتے ہوئے جب ان کا ننھا شہزادہ نظروں سے اوجھل ہوتا ہے . تو بچے کی فکر لاحق ہوتی ہے اور بچے کی جانب دوڑتیں ہیں …….. ماں کا دل بچے کو سلامت دیکھ کر قرار پاتا ہے تو دوڑتیں ہیں . کبھی اس جانب کبھی اُس جانب …… اس طرح سات چکر لگاتی ہیں اور پھر انکا صبر اور اللّٰہ پر یقین رنگ لاتا ہے اور ربِ کائنات کا معجزہ ہوتا ہے. جو ستر ماؤں سے زیادہ چاہنے والا ہے . وہ ماں جو اپنے بچے کے لیے تڑپ رہی تھی، اپنے بچے کے پاؤں مبارک کے نیچےسے پانی کا چشمہ رواں دواں دیکھ کر وہ بھی سمجھ گںٔیں ہوں گیں کہ بے شک وہ رب جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے،ہمیں اکیلا کیسے چھوڑ سکتا ہے۔۔

اِنَّااللّٰہ مَعَ الصّٰبِرِیْنّ
ترجمہ: بےشک اللّٰہ صابروں کے ساتھ ہے.. (البقرہ)

لختِ جگر کو پانی پلانے سے پہلے سجدہِ شکر بجا لاتیں ہیں اور یہ پیغام دیا کہ خوشی ملنے کے بعد فوراً اس ربِ کائنات کا شکر ادا کرنا چاہیے..
ہے عقل دنگ دیکھ کر معجزہِ زمزم
یہی جزا ملا کرتی ہے توکل الااللہ کی

توکل الااللہ ایسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اِتنا کہہ دینا کافی سمجھا کہ “اللہ کا حکم ہے”… اور تو صابرانہ شخصیت ایسی کہ بچے کی تڑپ دیکھ کر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا بلکہ صبر کرنے کے بعد محنت کرنے اُٹھ کھڑی ہوئیں کسی معجزے کا انتظار نہیں کِیا .. جس کی مثال آج رہتی دنیا تک قائم و دائم ہے۔۔ آج معاشرے میں یہی صبر درکار ہے کہ جب آزمائشیں ہمارے گھر کا دروازہ پکڑ لیں تو لبوں سے شکوے شکایت کے انبار نہ لگائیں بلکہ بی بی ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی طرح ربِ رحمٰن پر بھروسہ کرلیں اور مشکلات کے سدِباب کے لیے کوشاں ہوجاںٔیں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں بےشک وہ رب اِس صبر اور توکل کا نعم البدل پانی کے اُبلتے چشمے کی مانند ضرور لوٹاںٔیں گے.. کیونکہ صبر اور توکل کا نام ہمت ہار جانا، بدگمان ہونا،زبان سے نہ ذیبا کلمات نکالنا اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں ہے۔ وہ توکل ہی تو تھا جو بی بی ہاجرہ رضی اللہ عنہا کو صحرا میں بھی زم زم عطا کر گیا.. بےشک یقین یہی ہے کہ تمہیں کوںٔی راستہ سُجھائی نہ دے اور تم کہو کہ راستہ بنانے والی اللہ کی ہے۔

” لہٰذا تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو” (الدھر)

انسانی زندگی کی بنیاد اگر محنت ،صبر اور توکل سے رکھی جاںٔے تو صرف چند سال میں ہی ایک بہترین تناور درخت کی طرح شخصیت اُبھر کر سامنے آتی ہے.. اور وہ شخصیت جب معاشرے کے میدان میں اُتر کر اپنا کردار ادا کرتی ہے تو معاشرہ نکھار کی جانب گامزن ہوتا ہے اور ماحول میں نںٔی اور پر اعتماد شخصیتوں کا اضافہ ہوتا ہے. ایک بُرا شخص معاشرے میں حد درجے کا انتشار پھیلا سکتا ہے اور ماحول میں تغیر پیدا کر سکتا ہے اور اسی طرح ایک اچھےشخص کا کردار بھی معاشرہ میں مؤثر تبدیلیاں لا سکتا ہے، چونکہ ایک معاشرہ ایک فرد سے تشکیل پاتا ہے تو کیوں نہ ہم اپنی زات سے اپنی شخصیت کو سنوارنے کا آغاز صبر ،محنت اور توکل سے کریں….؟؟
بقول شاعرِ مشرق

خواہشیں بادشاہوں کو غلام بنا لیتی ہیں
مگرصبر غلاموں کو بادشاہ بنا دیتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں