خلیل اللہ – سماویہ وحید




ایک خوش اخلاق اور ہوشمند نوجوان جن کا نام ابراہیم عہ تھا……ان کے والد کا نام آزر تھا….جن کا پیشہ بت تراشنہ تھا……ابراہیم عہ کی قوم کے لوگ ان بتوں کو اپنا خدا سمجھتے , ان کی عبادات کرتے اور ان ہی سے دعائیں مانگتے….یہ لوگ اپنے دین میں بہت سخت تھے….جبکہ آپ عہ ان بتوں کی عبادت سے بہت بیزار تھے..
آپ عہ ہر وقت دل میں یہ سوچتے کہ یہ بت تو کوئی جواب تک نہیں دیتے تو یہ میرے خدا کیسے ہوسکتے ہیں اور خدا ویسے بھی ایک ہونا چاہئیے….. ایک دن ابراہیم عہ نے اپنے والد سے کہا: ابا جان آپ بتوں کو بناتے ہے اور پھر انہی بتوں کی عبادت کرتے ہیں جبکہ میں ان بتوں سے قدرے بیزار ہوں….مجھے تو یہ خدا نہیں لگتے….بیٹے کی بات سن کر آپ عہ کے والد نے انہیں سخت ملامت کی اور اپنی عبادت پر قائم رہے….جبکہ ابراہیم عہ حق کی تلاش میں لگے رہے…. جو لوگ حق کی تلاش میں ہوتے ہیں اللّہ ان کے لیے آسانیاں پیدا فرماتا رہتا ہے…..اور اسی طرح اللّہ تعالٰی نے ابراہیم عہ کے لیے اپنے در کے دروازے کھول لیے…. حق کی تلاش کے لیے آپ عہ دن بھر سوچتے رہتے …. اس طرح اللّہ نے اپنی نشانیوں سے آپ عہ کی رہنمائی فرمائی…..چنانچہ جب رات ہوئی تو آپ عہ نے تارے دیکھے اور کہا یہ ہے میرا رب….لیکن جب وہ ڈوب گئے تو بولے ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں…..
پھر جب چاند اپنی خوب روشنی سے چمکتا ہوا نظر آیا تو کہا یہ ہے میرا رب…..مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہیں کی تو میں بھی گمراہوں میں شامل ہو جاؤں گا……پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب….مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو ابراہیم عہ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا:اے برادران قوم! میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو……اور اسی طرح اللّہ رب العالمین نے اپنے در کے لیے ابراہیم عہ کو چن لیا…… اسی طرح جب آپ عہ نے اپنے رب کو پہچان لیا اور آپ عہ اللّہ کے نبی چن لیے گئے تو آپ عہ پر بھی طرح طرح کی آزمائشیں آئی….کبھی آگ میں ڈالا گیا….کبھی بیوی بچے کو صحرا میں تنہا چھوڑ کر آنا وغیرہ….لیکن سب سے بڑی آزمائش اپنے بیٹے کی آئی …. جن کی خوشی اور پیروی میں آج ہم عیدالضحٰی مناتے ہیں…..ہوا کچھ یوں کہ آپ عہ نے مسلسل 3 دن تک ایک خواب دیکھا جس میں وہ اپنے فرمانبردار بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں…..چنانچہ آپ عہ نے بیٹے سے کہا: بیٹے میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں….
فرمانبرادر بیٹے کا جواب کیا تھا؟؟…..کہا ابا جان جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہے اسے تعمیل کر ڈالئیے انشاءاللّہ آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے….چنانچہ جب آپ عہ بیٹے کو ساتھ میں لیے چل پڑے راستے میں شیطان نے آپ عہ کو بہت روکا لیکن رب کے حکم کے آگے دونوں سر تسلیم خم کر چکے تھے اس لیے وہ کسی بھی طرح سے شیطان کی چالوں میں نہیں آسکے……جب آپ عہ نے بیٹے کو راہ خدا میں قربان کرنے کے لیے اپنی چھڑی نکالی تو بیٹے نے کہا: ابا جان آپ آنکھوں پر پٹی باندھ لیجئے تاکہ آپ مجھے ذبح کرتے وقت ڈگمگا نہ جائیں…..چنانچہ ابراہیم عہ نے انکھوں پر پٹی باندھ لی……جیسے ہی انھوں نے چھری چلائی تو اللّہ کی جانب سے اسماعیل عہ کی جگہ مینڈھا(دنبہ) رکھ دیا گیا….اور اللّہ نے فرمایا اے ابراہیم کھڑے ہو جا تو اپنے رب کی آزمائش آگے پورا اتر گیا…..
ابراہیم عہ کی اس قربانی کی بدولت آج ہم ان کی پیروی کرتے ہوۓ عیدالاضحی مناتے ہیں اور اس میں جانور کی قربانی کرتے ہیں ….. اضحی کے معنی قربانی کے جانور کے ہوتے ہیں….اس لیے اس میں جانور کی قربانی کی جاتی ہے…..اور اصل قربانی کا مطلب یہ ہے کہ اللّہ تعالی کے لیے اپنی عزیز ترین کو قربان کر دینا….چاہے وہ اولاد کی صورت میں ہو, چاہے وہ مال کی صورت میں ہو. … وغیرہ. …. یہی وہ چیزیں جو اللّہ کا قرب حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے……. یہ تھی آپ عہ کی قربانیاں جس کی وجہ سے آپ عہ کو اللّہ نے خلیل اللّہ کا لقب دیا یعنی کہ اللّہ کا دوست ….. اب اس آزمائش کامقصد یہ ہے کہ اللّہ تعالی اپنے نبیوں تک کا امتحان لیتے تھے اس لیے آپ اور میں تو ان کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں وہ نیک ترین انسان جبکہ ہم گناہوں سے آلود ……..
اس لیے جب ہمارے اوپر کوئی مصیبت آتی ہےتو اس پر صبر و شکر سے کام لینا چاہئیے… تاکہ ہم اللّہ کی ناراضگی سے بچ سکیں….اللّہ تعالی ہمارے لیے آسانیاں پیدا فرمائیں اور اپنے نیک بندوں کے نقشِ قدم پر چلنے والا بنائے….(آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں