خاندانِ ابراہیم اور اطاعت گزاری – صائمہ نجم




حضرت ابراہیمی علیہ السلام اللہ کے بہت فرمابردار بندے تھے . انکی زندگی بڑی بڑی آزمائشوں سے گزری اور انھوں نے ہر موقع پر خدا سے عزت اور محبت کا ثبوت دیتے ہوئے ، حکم خداوندی پر لبیک کہا ، اطاعت کی اورسرخرو ہوئے .
اسلام کے لفظی معنی خود کو سپرد کر دینےاور اطاعت بندگی کے لیے گردن جھکا دینے کے ہیں . دین کی دعوت عقیدہ توحید کی عظمت بت شکنی کی پاداش میں آپ کو بادشاہ وقت نمرود نے آگ میں ڈال دیا ……. لیکن آپ استقامت کے ساتھ ثابت قدم رہے . یہاں تک کہ اللہ کا پیغام جاری ہوا .
“ہم نے حکم دیا کہ اے آگ سرد ہو جا اور ابراہیم پر سلامتی بن جا ….! ”
شیر خوار بیٹےاسماعیل اور بیوی ہاجرہ کو بھی حکم خداوندی پر ہی تپتے صحرا میں چھوڑ آئے . یہ بیوی کی اطاعت گزاری ہی تھی کہ اف تک نہ کہا اور پھر معصوم بیٹے کے لیے پانی کی تلاش میں ان کی بھاگنے کی سعی …… رہتی دنیا تک کے لیے حج کی سعی بن گئی . اور ان کی اسی سعی کی وجہ سے رہتی دنیا کو اب شفا یعنی زمزم کا تحفہ مل گیا . والدین سے بیٹے نے بھی اطاعت سیکھی اور ایک حکم پر زبح ہونے کو تیار ہو گیا . اللہ کی آزمائش پر باپ بیٹے پورے اترے اور یہ قربانی ……. رہتی دنیا تک کے لیے حج کی قربانی بن گئی . اطاعت وفرما برداری کے لیے محبت اور عزت شرط ہے . تبھی انسان کسی کی اطاعت کر سکتا ہے . اطاعت اور فرمانبرداری کی یہ کہانی عزت ومحبت کی لازوال داستان ہے .
جس نے ابراہیم سے …… اللہ کی اطاعت کروائی ، ایک بیوی سے شوہر کی اور بیٹے سے باپ کی اطاعت کروائی . خاندان ابراہیمی میں ہم سب کے لیے ایک بہترین سبق پو شیدہ ہے کہ کسی کی اطاعت اور فرما برداری کے لیے پہلے اس سے عزت اور محبت ضروری ہے .

اپنا تبصرہ بھیجیں