دنیا میں آنے کا مقصد – بنت زہراء




“اور ہم نے انسان اور جن کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ ہماری عبادت کریں.”
یہ قرآن کی آیت ہمیں ہمارے دنیا میں آنے کے مقصد سے آگاہ کرتی ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عبادت کیا ہے ؟ ہمیں بچپن ہی سے جب اسلام کے بارے میں بتایا جاتا ہے تو اس میں عبادت کے نام سے کچھ معلومات دی جاتی ہیں ۔ جو، نماز, روزہ, زکوٰة اور حج ہیں۔ اور پھر ان رسومات کی ادائیگی کے طریقے بتا دیے جاتے ہیں۔
ان محدود معلومات کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں یہ تصور پیدا ہو گیا ہے کہ اگر کوئی شخص ہر وقت نماز ادا کرتا رہے تو وہ عابد ہے، یا روزہ رکھا رہتا ہے اور زندگی میں بار بار حج یا عمرہ کرے تو بہت نیک ہے. ایک عام شخص یہ سوچتا ہے کہ وہ تو ہر وقت یہ کام نہیں کر سکتا، نہ ہمت پاتا ہے، نہ ہی وسائل ۔ پھر آہستہ آہستہ وہ ان سے بھی دور ہو جاتا ہے. آئیے اللہ کے دیئے ہوئے لفظ عبادت کا مفہوم سمجھتے ہیں. ایک مشہور مقولہ ہے:
زندگی بے بندگی شرمندگی
بس یہ ہی عبادت کا مفہوم ہے …….. اللہ سورہ نور میں فرماتے ہیں “کہ میں نور ہدایت کی طرف ان لوگوں کی رہنمائی کرتا ہوں جو کہ اللہ کے گھروں کو آباد رکھتے ہیں تجارت خرید و فروخت ان کو اللہ کے ذکر اور نماز اور زکوۃ کی ادائیگی سے نہیں روکتے اور وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں الٹ جائیں گے ایسے لوگوں کو اللہ اجر عطا فرمائے گا ان کے بہترین اعمال کااور وہ جس کو چا ھتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے” . یعنی ایسا انسان ،اپنے کاروبار تجارت ،اپنے کسی دفتر میں،یا زندگی گزارنے کے لیے رزق کی تلاش میں ہوتا ہے تووہ اوقات نماز سے غافل نہیں یوتا ،جس دم مسجد سے آزان کی اواز اسے نماز اور فلاح کی طرف پکارتی ہے, تو وہ کاروبار زندگی سے نکل کر اللہ کے گھر کو آباد کرتا ہے. جو مال کماتا ہے اسکی زکوٰة ادا کرنا نہیں بھولتا، ہمیشہ رزق حلال کماتا ہے ،
اللہ سے خوش گمان ہے کہ اگر میں نے اپنے کاروبار حیات کو چھوڑ کر نماز کے لیےوقت دیا ہے تو میرے رزق میں کمی نہیی ہوگی ۔اور زکوات ادا کی ہے تو رزق بڑھے گا۔ شیطان سے اور ضائع ہونے سے محفوظ رہے گا ۔ وہ نہ قسمیں کھاتا ہے،نہ دھوکہ دیتا ہے ،نہ نا جائز منافع لیتا ہے نہ زخیرہ اندوزی ،کسی ادارے میں ہے تو غبن اور کرپشن نہی کرتا۔کیونکہ وہ جانتا ہے اور یقین رکھتا ہے اس اللہ پر جس نے اسے پیدا کیا ہے جس نے اسے اپنا بندہ بنا یا بندگی کےاصول بتائے وہ ایک دن اس سے حساب لے گا اور وہ دن بہت سخت ہوگا جب دل اور آنکھیں خوف و دہشت سے الٹ جائیں گے اور اُس دن جس کی بندگی رب کے ہاں قبول ہوگی وہی اجر پائے گا اور امان بھی، رازق تو رب ہے جس کو چاہے جتنا دے اور بے حساب دے پھر تمام قریبی لوگوں کے حقوق ادا کرکے وہ اگر اس قابل ہواکہ حج کر سکے تو وہ بھی کرے گا اور قربانی بھی ۔
صرف جانور ہی نہی بلکہ اپنا نفس ،ریا دیکھاوا شہرت کی چاھت سب کچھ قربان ہوگا بس پھر اس کا حج بھی مبروراور قربانی بھی ، جس کا بدلہ جنت کی خوشخبری ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں