سانحہ مشرقی پاکستان




16 دسمبر 71ء کا دن پاکستان کی تاریخ کا زخم دینے والا دن ہے جب پاکستان آرمی کے ایسٹ کمانڈر جنرل عبداللہ نیازی نے بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالے اور پاکستان دولخت ہوگیا-
اگر ہمارے سیاسی رہنما جو جمہوریت کا راگ الاپ رہے تھے وه 70ء کے عام انتخابات کے نتائج قبول کرلیتے جس میں عوامی لیگ کو اکثریت حاصل تھی تو فوجی ایکشن نہ ہوتا، ملک جدا نہ ہوتا اور مارشل لاء بھی نہ لگتا، اگر سیاسی شعور کو استعمال کیا جاتا تو ڈھاکہ کے لیڈروں سے مذاکرات ہوجاتے، اس قدر قتل وغارت نہ ہوتی.
جب بھارتی فوجیں، مکتی باہنی اور مقامی لوگوں نے ردعمل کیا تو لامحالہ قتل وغارت ہوئی، کس طرح پاکستان ذہن رکھنے والے بنگالی لیڈر، پروفیسر اور ڈاکٹرز کو قتل کیا گیا اور ابھی تک جاری ہے-
ہمارے ایسٹ کمانڈر جنرل عبداللہ نے 16 دسمبر سے ایک روز قبل بڑھک لگائی تھی انڈین فوج اس کی لاش سے گزر کر ڈھاکہ میں داخل ہوگی اور دوسرے روز ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈال دیے، سقوط ڈھاکہ کی دستاویز پر دستخط کیے، پاکستان کو دولخت کر دیا، پاک فوج کے نوے ہزار فوجی جنگی قیدی بنادے، جنرل اروڑه کا استقبال کیا، ہنستے ہوئے بغیر کسی غیرت اور شرم کے اپنا پستول اور رینک اتار کر انکے حوالے کردیئے. آج اس مقام پر ایک تختی نصب ہے جس میں تحریر ہے “یہ وه مقام ہے جہاں دشمن کی فوجیوں نے لبریشن آرمی کے سامنے ہتھیار ڈالے” کاش اس پستول کو اپنے اوپر استعمال کرتے، پھر جنرل اروڑه کو اڑاتے تو آج وه قوم کے ہیرو ہوتے-
سیاسی پس منظر پر ایک بہت بڑی تبدیلی پیپلز پارٹی کے قیام کی صورت واقع ہوئی جس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو دولخت کرنے اہم کردار ادا کیا- اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر وه چاہتا تو صوبوں کو زیادہ حقوق (جو چالیس برس بعد اٹھارویں ترمیم کی صورت میں دیئے گئے) دے کر پاکستان کو یکجا رکھا جاسکتا تھا- بھٹو نے معاہده تاشقند کی مخالفت کی آڑ میں ایوب خان کے خلاف بھر پور تحریک اس وقت چلائی جب مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی کوششیں عروج پر تھیں-
وه وقت سب قوتوں کا سرجوڑ کر کسی سیاسی حل کی تلاش کا تھا نہ باہمی کشمکش کا- ایوب خان کو اقتدار سے افہام و فہیم کے ساتھ الگ کرنے کی سعی بھی مناسب وقت میں کی جاسکتی تھی- اس نے دوبارہ صدارتی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان بھی کردیا تھا-
قصہ مختصر ایوب نے اقتدار جنرل یحیی کو دیا، جنرل یحیی نے ‏0‏7‏9‏1ء میں الیکشن تو کروا دیے مگر اقتدار اکثریتی جماعت کو دینے کے بجائے لیت و لعل سے کام لیا جانے لگا- پھر جنرل یحیی نے ڈھاکہ میں اعلان کیا کہ آئندہ وزیراعظم شیخ مجیب الرحمن ہوگا اور 03 مارچ 71ء کو اسمبلی کی میٹنگ ڈھاکہ میں رکھی- جب واپس لاڑکانہ آئے تو میٹنگ التو کا شکار ہوگئی- مغربی پاکستان کی جانب سے اکثریت پیپلز پارٹی نے حاصل کی تھی اور بھٹو کو بھی ہر حال میں اقتدار حاصل کرنے کی خواہش تھی-
بالآخر23 مارچ 71ء کو اسمبلی اجلاس ڈھاکہ میں ہونا تھا تو مغربی پاکستان کی اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی کے چیرمین ذوالفقار علی بھٹو نے مشرقی پاکستان میں اسمبلی کے اجلاس میں جانے والوں کی ٹانگیں توڑنے اور ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا یہی وه وقت تھا جب پاکستان میں بنگالی نیشنلزم کا پودا جس کی آبیاری سالہا سال سے خاموشی سے جاری تھی دیکھتے دیکھتے تناور درخت بن گیا اور ہندو جو عرصہ سے ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھا اس نے اس بحران سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی اس وقت بھارت کی وزیراعظم اندراگاندھی تھی جس نے مشرقی پاکستان کے علیحدگی پسند عناصر کی بڑی دلیری سے مدد کی-
مشرقی پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ مکتی باہنی تنظیم کی ٹریننگ شروع کردی گئی اور بھارت ساری دنیا میں پروپیگینڈا کررہا تھا کہ مشرقی پاکستان کے عوام پر بڑے ظلم و ستم ہورہے ہیں- یوں ایک طرف مشرقی پاکستان میں فوج بغاوت اور مکتی باہنی کے خلاف اقدامات کررہی تھی اور اس دوران 71ء میں روس اور بھارت کے درمیان دفاعی معاہدہ بھی ہوگیا اور وه کھل کر بھارت کی پشت پناہی کرنے لگے-
16 دسمبر کا افسوسناک دن ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب لکھ گیا جب سقوط ڈھاکہ کا المیہ پیش آیا- سقوط ڈھاکہ کے المیہ میں شیخ مجیب الرحمن، یحیی خان، بھٹو اور اندراگاندھی جیسے کرداروں کا جو عمل دخل تھا ان میں مجیب الرحمن اپنے اہل خانہ کے ساتھ قتل ہوگیا- اندراگاندھی کو اس کے سکھ محافظ نے گولی ماردی اور بھٹو کو محمد خان قصوری کے قتل کےالزام میں پھانسی دی گئی اور یوں اس دور کے حالات و واقعات کے کئی کردار اپنے انجام کو پہنچ گئے- آج جنرل نیازی اس دنیا میں ہے نہ یحیی خان لیکن جب بھی 16 دسمبر کا دن آتا ہے اس دور کے تمام کردار سامنے آجاتے ہیں اور پاکستانی قوم آج بھی اس دن کو یاد کر کے سوگوار ہوجاتی ہے-
پاکستان ایک بار پھر اس طرح کے حالات سے گزر رہا ہے اور دشمن کی نظریں ہم پر مرکوز ہیں اور ایک بار پھر گھناؤنی سازشوں کے جال بن رہا ہے- افسوس ہماری تاریخ کا یہ سیاہ باب جب ملک دولخت ہوا ہمارے نصاب کا حصہ نہیں اور نئی نسل اس سانحے آگاہ نہیں-
ہمارے حکمران ایک اور سقوط ڈھاکہ کے انتظار میں ہیں- ہم نے ماضی سے کوئی سیق نہیں سیکھا- افغانستان میں بھارت نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں اور قندھار کولکتہ بنا ہوا ہے- بلوچستان میں بیرونی مداخلت روز بروز بڑھتی جارہی ہے اور ہم باقی راستے بند ہوئے تو ملالہ کا کشکول لے کر بھیک مانگنے چلے ہیں-
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر ان افراد کے چہروں کو بے نقاب کیا جائے جنہوں نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا- ہم ابھی تک مختلف قومیتوں میں بٹ کر آپس میں اپنے اپنے مفاد کی خاطر دست و گریبان ہیں-
کیا وه وقت نہیں آگیا کہ ہم نے پاکستان بنتے وقت اللہ سے جو وعدہ کیا تھا وه پورا کریں اور اسلامی اقدار کی جو دھجیاں اڑائی جارہی ہیں انکو روکنے کا کوئی سدباب کریں اسکے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام سیاسی بتوں کو توڑ کر اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت میں آجائیں- اس کے علاوہ پاکستان کو مضبوط اور متحد رکھنے کا کوئی اور راستہ نہیں-
FB: Sharjeel.qureshi.37